• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مصنوعی ذہانت: خودمختاری اور محفوظ مستقبل؟

کچھ دن پہلے جیو ٹی وی پر شاہ زیب خانزادہ نے مصنوعی ذہانت کی خودمختاری کے موضوع پر ایک پروگرام کیا۔ اس پروگرام نے ایک اہم سوال ہمارے سامنے رکھا کہ آخر وہ وقت کتنا دور ہے جب مصنوعی ذہانت صرف انسان کے سوالوں کے جواب دینے تک محدود نہیں رہے گی بلکہ خود فیصلے کرنے، خود راستہ تلاش کرنے اور اپنے مقاصد کے حصول کیلئے خود اقدامات کرنے لگے گی؟اور آج روزنامہ جنگ میں شائع ہونے والی ایک خبر نے اسی سوال کو مزید سنجیدہ بنا دیا ہے۔خبر کے مطابق اوپن اے آئی میں سیفٹی سے وابستہ اہم ذمہ دار ڈیوڈ رابنسن نے استعفیٰ دے دیا ہے اور مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی کے دوران حفاظتی اقدامات کو ناکافی قرار دیا ہے۔ رابنسن کا کہنا ہے کہ AI کی دنیا ایک نئی مصنوعات کے بعد دوسری مصنوعات کی طرف اس قدر تیزی سے بڑھ رہی ہے کہ ضروری احتیاط کہیں پیچھے رہ گئی ہے۔اس خبر کے تناظر میں اگر ہم مصنوعی ذہانت کی موجودہ صورت حال کا جائزہ لیں تو معاملہ واقعی فکر انگیز دکھائی دیتا ہے۔اوپن اے آئی وہ ادارہ ہے جس نے ChatGPT کے ذریعے مصنوعی ذہانت کو عام آدمی تک پہنچایا۔

چند سال پہلے تک AI زیادہ تر سائنسی اداروں، بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور مخصوص ماہرین کی دنیا تھی، مگر ChatGPT کے بعد صورتحال یکسر بدل گئی۔ آج دنیا بھر میں کروڑوں لوگ AI سے سوالات پوچھ رہے ہیں، مضامین لکھوا رہے ہیں، ترجمے کرا رہے ہیں، تصاویر بنوا رہے ہیں، تحقیق کر رہے ہیں اور کاروباری و پیشہ ورانہ کاموں میں اس سے مدد لے رہے ہیں۔لیکن AI کی اگلی منزل ChatGPT سے کہیں آگے ہے۔اب توجہ AI Agents پر ہے۔ایک عام Chatbot آپ کے سوال کا جواب دیتا ہے، لیکن AI agent کو آپ صرف ایک مقصد دیتے ہیں اور وہ اس مقصد کے حصول کیلئے کئی مراحل خود طے کر سکتا ہے۔ وہ کمپیوٹر استعمال کر سکتا ہے، ویب سائٹس پر جا سکتا ہے، معلومات تلاش کر سکتا ہے، کوڈ لکھ سکتاہے، مختلف Software سے رابطہ کر سکتا ہے اور دوسرے AI agents کیساتھ تعاون بھی کر سکتا ہے۔

یعنی انسان کی ہدایت کا انداز بدل رہا ہے۔پہلے انسان مشین سے کہتا تھا:’’یہ کام اس طرح کرو۔‘‘اب انسان کہتا ہے:’’یہ کام کر دو۔‘‘اور اس کے بعد راستہ مشین خود تلاش کرتی ہے۔

یہیں سے اصل سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر مشین راستہ خود تلاش کرے گی تو وہ کون سا راستہ اختیار کرے گی؟ اگر اسے کسی رکاوٹ کا سامنا ہوگا تو کیا وہ رک جائے گی یا اس رکاوٹ کو دور کرنے کی کوشش کرے گی؟ اگر اسے کسی حفاظتی نظام کا سامنا ہو تو کیا وہ اسے آخری حد سمجھے گی یا اپنے مقصد کے حصو ل کیلئے اس سے بچنے کا راستہ تلاش کریگی؟یہ سوال اب محض سائنس فکشن نہیں رہا۔اوپن اے آئی نے 2026 ءمیں ایک Cybersecurity Evaluation کے دوران پیش آنیوالے ایسے واقعے کی تفصیلات بھی جاری کیں جس میں اسکے AI agents نے حفاظتی حدود سے آگے بڑھتے ہوئے بیرونی نظاموں سے رابطہ کیا، Vulnerabilities تلاش کیں اور دوسرے Agents کیساتھ تعاون کیا۔ یہ ایک Controlled Test تھا، اسے دنیا بھر کے کمپیوٹرز پر کسی AI کے قبضے کے طور پر بیان کرنا درست نہیں ہوگا، لیکن اس واقعے نے یہ ضرور دکھایا کہ انتہائی طاقتور AI systems کو مکمل آزادی دینے کی صورت میں ان کا رویہ کس قدر پیچیدہ ہو سکتا ہے۔خود اوپن اے آئی نے ایسے واقعات کو ایک انتباہ قرار دیا اور اسکے بعد AI Agents کیلئے مزید Sandboxing، Monitoring اور Access Controls پر زور دیا۔

یہاں ڈیوڈ رابنسن کی تشویش کو سمجھنا ضروری ہے۔ان کا کہنا ہے کہ AI laboratories کو جوہری بجلی گھروں یا مصروف ہوائی اڈوں کی طرح متعدد حفاظتی تہوں کے ساتھ چلایا جانا چاہیے۔ یہ مثال بہت معنی خیز ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا دنیا کی سب سے طاقتور مصنوعی ذہانت کیلئے بھی ایسی ہی حفاظتی تہیں موجود ہیں؟

یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ AI companies ایک شدید عالمی مسابقت میں ہیں۔ ہر کمپنی چاہتی ہے کہ اس کا نیاماڈل پہلے آئے، زیادہ طاقتور ہو اور زیادہ صارفین حاصل کرے۔ ایسے ماحول میں Safety اور Speed کے درمیان توازن مشکل ہو جاتا ہے۔اسی لیے AI safety میں ایک بنیادی اصطلاح Alignment ہے۔ یعنی AI کے مقاصد اور فیصلے انسانی مفادات، قوانین اور حفاظتی حدود کے مطابق رہیں۔مسئلہ یہ ہے کہ جتنا زیادہ خودمختار AI Agent ہوگا، اتنا ہی مشکل یہ یقینی بنانا ہوگا کہ وہ ہر صورتحال میں انسانی ارادے کے مطابق ہی عمل کرے۔اصل خطرہ شاید یہ نہیں کہ AI انسانوں سے نفرت کرنے لگے گی۔اصل خطرہ یہ ہے کہ وہ انسانوں سے نفرت کیے بغیر بھی ایسا فیصلہ کر سکتی ہے جو انسانوں کیلئے نقصان دہ ہو۔یہ فرق بہت اہم ہے۔ایک طاقتور AI کو غصہ، حسد یا نفرت کی ضرورت نہیں۔ اسے صرف ایک مقصد دیا جائے، بہت زیادہ اختیار دیا جائے اور نگرانی کمزور ہو تو وہ اس مقصد کے حصول کیلئے ایسا راستہ اختیار کر سکتی ہے جس کا انسان نے تصور بھی نہ کیا ہو۔

یہی وجہ ہے کہ ڈیوڈ رابنسن کا استعفیٰ صرف اوپن اے آئی کا داخلی معاملہ نہیں۔ یہ پوری AI Industry کیلئے ایک سوال ہے۔کیا ہم AI کو تیزی سے طاقتور بنانے کی دوڑ میں Safety کو پیچھے چھوڑ رہے ہیں؟مصنوعی ذہانت کو روکنا شاید نہ ممکن ہے اور نہ ہی ضروری۔ اس کے فوائد بے شمار ہیں۔ طب، تعلیم، سائنس، تحقیق، صنعت اور صحافت سمیت زندگی کے تقریباً ہر شعبے میں AI نئے امکانات پیدا کر رہی ہے۔مسئلہ AI نہیں، اس کے اختیار کی حدود ہیں۔انسان نے آگ ایجاد کی تو اسے قابو میں رکھنے کے طریقے بھی ایجاد کیے۔ ایٹمی توانائی حاصل کی تو حفاظتی نظام بنائے۔ ہوائی جہاز بنایا تو عالمی Safety Standards قائم کیے۔

اب انسان نے مصنوعی ذہانت بنائی ہے۔اس کے ساتھ بھی شاید یہی کرنا ہوگا۔اس لیے شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم AI کو صرف ایک سہولت کے طور پر دیکھنا بند کریں۔کیونکہ ممکن ہے مستقبل میں انسان کا سب سے بڑا سوال یہ نہ ہو کہ مصنوعی ذہانت کیا کر سکتی ہے؟بلکہ یہ ہو:ہم نے اسے کیا کرنے کی اجازت دے دی ہے؟

تازہ ترین