• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انٹیلیجنس رپورٹ پر افسران کی بیرون ملک تعیناتی روکنے کیخلاف حکومتی اپیل پر سماعت

فائل فوٹو
فائل فوٹو 

اسلام آباد ہائیکورٹ میں انٹیلیجنس رپورٹ کی بنیاد پر سرکاری افسران کی بیرون ملک تعیناتی روکنے کے اقدام کو کالعدم قرار دینے کے خلاف وفاق کی انٹراکورٹ اپیل پر سماعت ہوئی۔

ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ افسران کی بیرون ملک پوسٹنگ کے فیصلے کیخلاف حکومتی انٹراکورٹ اپیل پر جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس عمیر مجید ملک پر مشتمل ڈویژن بینچ نے سماعت کی۔

وفاق نے جسٹس انعام امین منہاس کے 12 مئی کے تحریری فیصلے کو چیلنج کیا ہے۔

سماعت کے دوران افسران کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ تمام پراسیس مکمل ہونے کے بعد انٹیلیجنس رپورٹ میں یہ لکھا گیا کہ متعلقہ افسر فلاں پوسٹ کے لیے موزوں نہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ٹیسٹ اور انٹرویوز کے بعد شارٹ لسٹ کیے گئے افراد کو کسی خفیہ رپورٹ کی بنیاد پر کیسے روکا جاسکتا ہے۔

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ افسران ٹیسٹ میں کامیاب ہوئے اور ہائی پاور بورڈ کے انٹرویوز کے بعد انہیں فارن مشنز کے لیے تجویز کیا گیا۔ وزیراعظم کی منظوری کے بعد ان کی ٹریننگ بھی ہوئی، تاہم روانگی سے قبل انٹیلیجنس رپورٹ کی بنیاد پر انہیں روک دیا گیا۔

وکیل نے مؤقف اپنایا کہ جب وزیراعظم نے شفاف طریقے سے تعیناتی کی منظوری دے دی تو انٹیلیجنس رپورٹ کی بنیاد پر اسے کیسے ختم کیا جاسکتا ہے۔

اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل راشد حفیظ نے کہا کہ سول سرونٹس ایکٹ کے تحت ملازمت سے متعلق معاملات سروسز ٹریبونل میں دیکھے جاسکتے ہیں اور اس معاملے میں ہائیکورٹ میں رٹ دائر نہیں کی جاسکتی۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ بیرون ملک تعیناتیوں کے لیے سیکیورٹی کلیئرنس ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ افسران پاکستان میں ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں، لیکن اگر انہیں بیرون ملک بھیجا جانا ہے تو سیکیورٹی کلیئرنس لازمی ہوگی۔

اس پر جسٹس خادم حسین سومرو نے استفسار کیا کہ یہ کیسے دلیل دی جاسکتی ہے کہ ایک شخص پاکستان میں ڈیوٹی کرے تو ٹھیک ہے لیکن بیرون ملک تعیناتی کے لیے موزوں نہیں۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ پاکستان میں افسر کی جانب سے کوئی اقدام انفرادی معاملہ ہوگا، جبکہ بیرون ملک افسر کے کسی اقدام کا اثر پورے ملک پر پڑ سکتا ہے۔

جسٹس خادم حسین سومرو نے استفسار کیا کہ کیا انٹیلیجنس ادارے کی رپورٹس کا عدالتی حکم میں جائزہ لیا جاسکتا ہے؟

جسٹس خادم سومرو نے مزید کہا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے مطابق یہ وزیراعظم اور حکومت کی صوابدید ہے، تاہم سوال یہ ہے کہ جو سرکاری ملازم بیرون ملک ملازمت کے لیے موزوں نہیں، وہ پاکستان میں کام کرنے کے لیے کیسے کلیئر ہوسکتا ہے؟

عدالت نے کیس کی سماعت ملتوی کردی۔ آئندہ سماعت کی تاریخ رجسٹرار آفس مقرر کرے گا۔

قومی خبریں سے مزید