اس وقت پاکستان کے سرکاری صحت کے اخراجات جی ڈی پی کے تقریباً 0.8 فیصد کے برابر ہیں۔ 25 کروڑ سے زائد آبادی رکھنے والے ایسے ملک میں، جہاں متعدی بیماریاں، غذائی قلت، زچہ و بچہ کی صحت کے مسائل اور تیزی سے بڑھتی ہوئی غیر متعدی بیماریاں ایک ساتھ موجود ہیں، یہ سرمایہ کاری سنجیدہ غور و فکر کی متقاضی ہے۔
لہٰذا پاکستان کو ایک واضح قومی ہدف مقرر کرنا چاہیے کہ سرکاری صحت کی سرمایہ کاری کو بتدریج جی ڈی پی کے 2 فیصد تک بڑھایا جائے۔ میں بحیثیت وزیر بھی اس مقصد کی وکالت کرتا رہا ہوں اور آج بھی اس امید پر قائم ہوں۔ موجودہ جی ڈی پی کے حجم کو سامنے رکھتے ہوئے 0.8فیصد سے 2فیصد تک اضافہ تقریباً 4.9ارب ڈالر سالانہ اضافی سرمایہ کاری کے برابر ہوگا۔اسے محض بڑے بجٹ کا ایک اور مطالبہ نہیں سمجھنا چاہیے اسے قومی سرمایہ کاری کا ایک معاہدہ سمجھنا چاہئے۔
زیادہ بچے ویکسین سے محفوظ ہوں، غذائی قلت اور کم قد کا شکار بچوں کی تعداد کم ہو، ماؤں اور نومولود بچوں کی اموات میں کمی آئے۔ ہیپاٹائٹس کی تشخیص اور علاج میں اضافہ ہو، ذیابیطس اور بلند فشارِ خون بہتر طور پر قابو میں آئیں اور کینسر کی تشخیص ابتدائی مرحلے میں ہونے لگے۔ بنیادی صحت کا نظام مضبوط ہو، علاج کے باعث خاندانوں کو تباہ کن مالی بوجھ سے تحفظ ملے، اور ضروری ادویات، ایکٹو فارماسیوٹیکل انگریڈینٹس (APIs) اور ویکسین کی مقامی پیداوار میں اضافہ ہو۔ بیماریوں کی نگرانی بہتر ہو اور وباؤں سے نمٹنے کی قومی صلاحیت مضبوط ہو۔
ہمیں سرمایہ کاری کے تصور اور اس کے ساتھ جڑی ہوئی زبان، دونوں میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ تعلیم انسانی سرمائے میں سرمایہ کاری ہے اور صحت ایک صحت مند آبادی اور قومی ترقی کیلئے ناگزیر سرمایہ کاری ہے۔جس طرح سڑکیں اشیا کی نقل و حرکت کو ممکن بناتی ہیں، بجلی کارخانوں کو چلاتی ہے اور ڈیجیٹل رابطے کاروباری مسابقت کو فروغ دیتے ہیں، اسی طرح صحت مند، تعلیم یافتہ اور ہنرمند انسان ایک فعال اور مضبوط معیشت کی بنیاد ہوتے ہیں۔
پاکستان کئی دہائیوں سے اس بحث میں الجھا ہوا ہے کہ آیا وہ صحت، غذائیت، تعلیم اور آبادی کے بہتر انتظام پر زیادہ سرمایہ کاری کا متحمل ہو سکتا ہے یا نہیں۔ شاید اب سوال کو تبدیل کرنے کا وقت آ گیا ہے:کیا پاکستان اپنے عوام میں کم سرمایہ کاری کے نتیجے میں ہونے والے معاشی نقصانات کا متحمل ہو سکتا ہے؟حل صرف زیادہ اخراجات نہیں،اسمارٹ سرمایہ کاری، بہتر حکمرانی اور نتائج کے لیے مسلسل اور غیر متزلزل احتساب ہے۔ پاکستان کو صحت کے اخراجات سے صحت میں سرمایہ کاری کی طرف، علاج سے بچاؤ کی طرف، آبادی میں بے قابو اضافے سے آبادیاتی منافع کی طرف، اور منتشر پروگراموں سے مربوط نظام کی طرف منتقل ہونا ہوگا۔
پاکستان کا سب سے بڑا معاشی اثاثہ اس کی زمین، معدنیات، کارخانے، سڑکیں یا مالی سرمایہ نہیں۔پاکستان کا اصل سرمایہ اس کے لوگ ہیں۔اگر ہمارے بچے صحت مند نہیں ہونگے تو وہ پوری طرح تعلیم حاصل نہیں کر سکیں گے۔ اگر نوجوان تعلیم یافتہ اور ہنرمند نہیں ہوں گے تو ہماری آبادی معاشی طاقت میں تبدیل نہیں ہو سکے گی۔ اگر ہمارے کارکن صحت مند نہیں ہوں گے تو ہماری پیداواری صلاحیت متاثر ہوگی۔ اور اگر ایک انسان قابلِ تدارک بیماری کے باعث قبل از وقت زندگی سے محروم ہو جائے تو ہم صرف ایک جان نہیں کھوتےہم ایک خاندان کی خوش حالی، ایک نسل کی صلاحیت اور معیشت کی ایک ممکنہ قوت بھی کھو دیتے ہیں۔اس لیے صحت پر خرچ کرنا محض اسپتال، ادویات یا علاج کے لیے رقم مختص کرنا نہیں۔ یہ پاکستان کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔
ہمیں اب یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اپنی آبادی کو ایک معاشی بوجھ سمجھتے ہیں یا ایک ممکنہ معاشی قوت۔ ہم صحت کو ایک خرچ سمجھتے ہیں یا انسانی سرمائے میں سرمایہ کاری۔ اور سب سے بڑھ کر، ہم اپنے بچوں کو صرف زندہ دیکھنا چاہتے ہیں یا انہیں صحت مند، تعلیم یافتہ، ہنرمند اور خوش حال پاکستان کا معمار بنانا چاہتے ہیں۔
معاشی ترقی کا اصل مقصد صرف ایک بڑی جی ڈی پی نہیںبلکہ ایک ایسی قوم بنانا ہے جس کے لوگ صحت مند ہوں، باصلاحیت ہوں اور اپنی پوری صلاحیت کے ساتھ ملک کی تعمیر میں حصہ لے سکیں۔
پاکستان کے پاس وسائل محدود ہو سکتے ہیں، مگر اس کے انسانی امکانات بے حد ہیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ ہم اپنے سب سے قیمتی اثاثے’اپنے لوگوں‘میں آج سرمایہ کاری کریں۔کیونکہ کسی بھی قوم کا مستقبل اس کے بجٹ کی کتابوں میں نہیں، اس کے لوگوں کی صحت، تعلیم اور صلاحیت میں لکھا جاتا ہے۔