جنت نگر، جمہوری منزل
عزیزم محمود خان سلمہ اللہ تعالیٰ!
امید ہے آپ کا مزاج ٹھیک ہو گا۔ یہ میرا آپ کو پہلا خط ہے حالانکہ برسوں سے شناسائی و آشنائی موجودہے ۔آپ کے والد عبدالصمد اچکزئی کیساتھ بھی 70ء کی دہائی میں خاصی قربت رہی اور اِدھر باغِ عدن میں بھی ہماری اکثر ملاقات رہتی ہے، شہید عبدالصمد، ولی خان اور بزنجو سے اکثر محفل آرائی ہوتی رہتی ہے ،ہم فانی دنیا میں گزارے ہوئے جد وجہد کے دور کو اکثر یاد کرتے رہتے ہیں کبھی کبھی اختلاف بھی ہو جاتا ہے مگر اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ پاکستان کا مستقبل جمہوریت ہے اور اسکا واحد راستہ 1973ء کے متفقہ آئین پر عملدرآمد ہے۔
عزیز من!! حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری بحران کے حل کےبارے میں مذاکرات پر آپ کی عدم موجودگی اور کئی معاملات پر اظہار ناراضی سے یہاں بہت تشویش پائی جا رہی ہے، اصل میں جب سے تحریک انصاف کے بانی قیدی نمبر 804 نے آپ کو لیڈر آف دی اپوزیشن مقرر کیا تھا تو یہاں پر توقعات اور امیدیں بہت بڑھ گئی تھیں بلکہ میں نے تو یہاں اپنے ہم خیال دوستوں کو علانیہ کہا تھا کہ عمران خان نے اقتدار سے اُترنے کے بعد سب سے بڑا اور عقلمندانہ فیصلہ یہی کیا ہے کیونکہ ہم سب کو یقین ہے کہ آپ کا جمہوریت اور مفاہمت دونوں پر مکمل ایمان ہے ،یہ بھی ہمارے علم میں آتا رہا ہے کہ آپ ہمیشہ مذاکرات اور مفاہمت سے آگے بڑھنے اور جمہوری روایات پر چلنے کے امین رہے ہیں، آپ اور آپ کے والد کی طویل جد وجہد بھی اس بات کی گواہ ہے کہ آپ اپنے مشن سے کبھی روگردانی کا سوچ بھی نہیں سکتے۔
عزیزم محمود ! یہاں جنت نگر میں اُڑتے اُڑتے یہ خبر پہنچی کہ آپ آج کل ناراض ہیں ،مذاکرات کا بائیکاٹ کئے ہوئےہیں، نہ اسپیکر کیساتھ بیٹھنےپر رضا مند ہیں اور نہ ہی وزیراعظم ہاؤس جا کر ملنے پر آمادہ ہیں ۔یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ پہلے تو تحریک انصاف نے آپکو راضی کرنے کی کوشش کی جب آپ نہ مانے تو پھر وہ آپ کے بغیر ہی مذاکرات پر آمادہ ہو گئی ۔رانا ثناء اللہ نے ایک انٹرویو میں آپ کے رویے پر نہ صرف حیرت کا اظہار کیا بلکہ اسکو ماضی کے برعکس اور آپکی منطقی شخصیت اور جمہوری تربیت سےبھی یکسر متضاد قرار دیا ۔ ضروری نہیں یہ باتیں اور تاثر درست ہو۔ سننے میں آرہا ہے کہ آپ پہلے اپنی اور عمران خان کی ملاقات کی شرط پر عملدرآمد چاہتے ہیں باقی معاملات پر مذاکرات اس کے بعد چاہتے ہیں، آپ کی اس بات میں منطق ہے کہ عمران خان کی مرضی اور رضامندی کے بغیر کیا گیا کوئی بھی معاہدہ یا مصالحت کارگر نہیں ہوگی مگر مذاکرات جاری رکھنے اور رضامندی کی اس منطق میں بھی وزن ہے کہ عمران سے ملاقات تب ہونی چاہئےجب قیدی اور ساتھی قیدیوں کیلئےحکومت سے کسی رعایت پراتفاق ہو جائے، عمران سے ملاقات اگر بغیر کسی پیشرفت کے ہوگی تو بے فائدہ ہوگی اگر پیش رفت کے ساتھ عمران خان سے ملاقات ہوگی تو وہ زیادہ فائدہ مند ہو سکتی ہے۔
عزیزِ من! مجھے اندازہ ہے کہ آپ اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق سے شدید ناراض ہیں اور پھر ظاہر ہے کہ تحریک انصاف کے غیر تجربہ کار لوگوں کے رویوں سے بھی آپ کو شکایت ہوگی، اپنے پرانے نونی دوستوں نواز شریف اور شہباز شریف سے بھی گلہ ہوگا کہ دہائیوں کے تعلق کا پاس نہ رکھتے ہوئے انہوں نے نہ آپ سے علیحدہ ملاقات کی اور نہ وہ عزت و احترام دیا جس کے آپ مستحق ہیں۔ یہ بھی سننے میں آرہا ہے کہ آپ تحریک انصاف کی طرف سے بالا ہی بالا مولانا فضل الرحمٰن سے رابطے پر بھی خوش نہیں ہیں۔ حکومتی حلقے آپکی تنقید کے جواب میں کہتے ہیں کہ اسپیکر ایازصادق سے پہلے تو گاڑھی چھنتی رہی پھر بلوچستان میں ایک کسٹم کلکٹر کی تقرری پر اختلاف ہو گیا قائد حزب اختلاف کے پروٹوکول اور مراعات پر بھی اختلافات ہیں، یہ سب خرافات اور جھوٹ بھی ہو سکتا ہے۔ اور اس میں سچ کی آمیزش کا بھی امکان ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ محمود خان، آپ سو فیصد سچے ہوں یہ پروپیگنڈا ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کی رائے زیادہ جمہوری، زیادہ منطقی اور زیادہ اصولی ہو مگر یہ تاثر آنا قطعاً غلط ہے کہ آپ مذاکرات کو ناکام بنانا چاہتے ہیں یا آپ مذاکرات کے راستے میں رکاوٹ ہیں۔
عزیز محمود! کل ہی میری میاں محمد شریف اور انکی بہو کلثوم نواز سے ایک تقریب میں اتفاقاً ملاقات ہوگئی، میاں شریف اور بیگم کلثوم دونوں آپ کی جمہوری جدو جہد اور نون کے اتحادی کی حیثیت سے ماضی کی خدمات کا ذکر کر رہے تھے اور اس بات پر بھی حیران و پریشان تھے کہ اچکزئی اتنے ناراض کیوں ہوگئے ہیں ،وہاں بیٹھے ایک پشتون رہنما نے کہا کہ پشتون کی انا مجروح ہو جائے تو پھر وہ صلح پر آمادہ نہیں ہوتا۔
عزیزم ! تیسری دنیا میں اپوزیشن کرنا مشکل ترین ہوتا ہے بھٹو نے اپوزیشن کیساتھ کیا کچھ نہیں کیا ، ہم جیلوں میں گئے مگر میں نے اور آپ کے والد عبدالصمد اچکزئی نے پھر بھی 1973ءکے آئین کے نفاذ کی حمایت کی۔ پھر 1977، میں مفتی محمود اور پروفیسر غفور جیلوں میں بند تھے ہمیں سہالہ ریسٹ ہاؤس سے مذاکرات کیلئے لایا جاتا تھا ہم حکومتی ایوانوں، وزیر اعظم ہاؤس اور پارلیمان ہر جگہ بلا جھجک مذاکرات کیلئے جاتے تھے، ہم نے شدید مخالفت کے باوجود یہ بھی تسلیم کر لیا تھا کہ بھٹو وزیر اعظم کے طور پر دوبارہ انتخابات کروالے تو ہم اسے قبول کر لیں گے مگر اصغر خان اور ضیاء الحق کے کچھ ساتھیوں کا رابطہ تھا جس سے مذاکرات کامیاب ہوتے ہوتے رہ گئے اور پھر ضیاء الحق کا طویل مارشل لا لگ گیا۔ اگر مذاکرات کامیاب ہو جاتے تو شاید تاریخ کا رخ مڑ جاتا اور پاکستان میں بار بار مارشل لا نہ لگتے۔ماضی کے تجربات کو سامنے رکھا جائے تو نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ سیاسی جماعتوں میں مذاکرات اور مفاہمت ہی جمہوریت اور جمہوری نظام کو چلانے کے ضامن بن سکتے ہیں۔ این آر او ہو یا ڈیل یا حکومت اپوزیشن مفاہمت یہی وہ واحد راستہ ہے جس سے آپ آمریتوں کا راستہ روک سکتے ہیں۔
ڈیئر لیڈر آف دی اپوزیشن!
کسی بھی زمانے کا سب سے بڑا امتحان یہ ہوتا ہے زیادہ عقلمند اور زیادہ تجربہ کار کو اپنی انا اور وقتی غصہ نظر انداز کر کے کم عقلمندوں اور کم تجربہ کاروں کو ساتھ چلانا پڑتا ہے اگر عقل مند اور تجربہ کار سیاست کار خود ہی ناراض ہو کر گھر بیٹھ جائیگا تو ملک کا بیڑا کیسے پار ہو گا۔ اگر آپ ان مذاکرات کا حصہ ہوتے تو آپ کے ذاتی وزن اور منطقی دلائل سے عین ممکن تھا کہ یہ مذاکرات نہ صرف کامیاب ہو جاتے بلکہ آپ تحریک انصاف اور عمران خان کیلئے وہ کچھ بھی لے لیتے جو ناممکن نظر آرہا ہے۔ اب بھی آپ غصہ تھوک دیں انا کے شملے کو آڑے نہ آنے دیں کندھے پر رکھی اپنی چادر کو ایک اور بل دیکر اپنے موقف میں نرمی کریں۔ حال ہی میں آپ کی پارٹی نے اپنا جو نیا آئین ترتیب دیا ہے اس پر الیکشن کمیشن کے اندر لے دے ہو رہی ہے اور اسے پاکستان کیخلاف قرار دیا جا رہا ہے آپ کا رویہ اور سوچ تو ہمیشہ جمہوری پاکستان کیلئے مثبت رہے ہیں۔ جنت نگر کےسب مکینوں کی آپ سے درخواست ہے کہ قومی مفاد کیلئے ذاتی مفاد یا عناد کو قربان کرنا بڑے لیڈروں کی روایت رہی ہے، آپ بڑے بنیں چھوٹی باتیں اور رویے انسان کو چھوٹا کر دیتے ہیں اس راہ سے گریز کریں۔
والسلام نوابزادہ نصر اللہ خان