لندن اور برصغیر پاک ہند کے عوام کا تعلق ہمیشہ سے خصوصی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ وہ ہندوستان پرصد سالہ برطانوی راج کا زمانہ ہو ، اس دوران تحریک آزادی کے دوران ہونے والی لندن گول میز کانفرنسیںیا آزادی کے بعد پاکستان میں حکومتوں کی تبدیلیوں کے حوالے سے ہونیوالے سازشی’’ لندن پلان‘‘لندن کی اہمیت سے کسی کو انکار نہیں۔ لندن کو آپ بھارتی، پاکستانی اور بنگلہ دیشی تارکین وطن کا سب سے بڑا دوسرا وطن قرار دے سکتے ہیں۔ اس لیے یہاں کی تقریبات کا موضوع اور اندازِ پذیرائی وہی ہوتا ہے جو برصغیر کے ان تینوں ممالک کا خاصہ ہے۔ اب اگر پاکستان میں فیض احمد فیض جیسے عظیم شاعر کے حوالے سے فیض امن میلہ منایا جاتاہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ لندن کو اس سے محروم رکھا جائے ۔
فیض امن میلہ جس میں ہمیں شرکت کرنے کا موقع ملا وہ تین اکتوبر کو SOAS یونیورسٹی آف لندن میں منعقد ہوا جو اپنے موضوعات اور عوامی شرکت کے لحاظ سے ایک بھرپور اور کامیاب تقریب تھی ۔اس میں سیاسی گفتگو کے ایک سیشن میں برطانیہ کے سابق اپوزیشن لیڈر جیرمی کوربن، پاکستان سے میرے بیٹے ڈاکٹر عمار علی جان اور انڈیا سے کاکروچ جنتا پارٹی کی اسٹوڈنٹ لیڈر مس نیہا بورا نے شرکت کی۔ میرے لیے SOAS یونیورسٹی اس لیے بھی خاص اہمیت کی حامل ہے کہ یہاں میرے بڑے بیٹے ڈاکٹر محمد علی جان نے اپنا ماسٹر کیا تھا اور پھر آکسفورڈ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی اور پوسٹ ڈاک کی ڈگریاں حاصل کی تھیں۔ اس فیض امن میلے کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ اس مرتبہ اس میں فیض احمد فیض اور سجاد احمد ظہیر جیسے ترقی پسند دانشوروں کی پشت پر موجود ان خواتین کی جدوجہد اور کردار کو اجاگر کیا گیا جنہوں نے راولپنڈی سازش کیس کی ابتلاکے دنوں میں چٹان کی طرح اپنےشوہروں کا ساتھ دیا یعنی فیض احمد فیض کی اہلیہ محترمہ ایلس فیض اور سجاد احمد ظہیر کی اہلیہ محترمہ رضیہ سجاد ظہیر کے حوالے سے گفتگو کی گئی۔ یاد رہے کہ ایلس فیض کا تعلق لندن سے ہی تھا اور وہ کمیونسٹ پارٹی کی ایک فعال کارکن کی حیثیت سے انڈیا تشریف لائیں جو اس زمانے میں یورپ میں بڑھتے ہوئے فاشزم کے خلاف برسرِ پیکار تھی جبکہ فیض احمد فیض برصغیر میں ادب میں ترقی پسند تحریک اور تحریک آزادی کے پرجوش نوجوانوں میں شامل تھے۔ فیض صاحب کی چھوٹی بیٹی منیزہ ہاشمی نے ویڈیو لنک کے ذریعے اپنی والدہ محترمہ ایلس فیض کی زندگی پر مبنی ایک ڈاکومنٹری بھی شیئر کی۔
اسی طرح فیض صاحب کی نواسی اور محترمہ سلیمہ ہاشمی کی بیٹی میرا ہاشمی اور سجاد احمد ظہیر کی بیٹی ڈاکٹر نور ظہیر نے بھی ان دو عظیم خواتین کو خراج تحسین پیش کیا ۔اس پروگرام کے میزبان جناب شیراز راج تھے ۔موجودہ سیاسی حالات پر گفتگو کے سیشن میں مس نیہا بورا نے ویڈیو لنک پر اپنی گفتگو میں طلبہ کی اس تحریک کا ذکر کیا جس نے مودی حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا تھا انہوں نے بتایا کہ آج کا بھارت گاندھی کے سیکولرزم اور عدم تشدد کے فلسفے سے بہت دور جا چکا ہے اور مودی کی فاشسٹ حکومت میں جمہوریت، انصاف اور اقلیتیں عدم تحفظ کا شکار ہو چکی ہیں۔ ڈاکٹر عمار علی جان نے بھی پاکستان میں جاری نظام حکومت کو ’’امیروں کا سوشلزم‘‘قرار دیتے ہوئے غریبوں کی حالتِ زار کا ذکر کیا۔ ڈاکٹر عمار کی زبردست تقریر کو نہ صرف ہال میں موجود حاضرین نے بار بار تالیاں بجا کر سراہا بلکہ جیرمی کوربن نے بھی اسکی تعریف کی۔ جیرمی کوربن برطانوی پارلیمنٹ کے وہ معروف بائیں بازو کے رہنما ہیں جو آزاد فلسطینی ریاست کے سب سے بڑے حامی یورپی رہنماؤں میں شامل ہوتے ہیں ۔وہ لیبر پارٹی کے لیڈرآف اپوزیشن بھی رہے ہیں اور برطانیہ کے وزیراعظم کے عہدے کے مضبوط ترین امیدوار بھی تھے لیکن یہودی لابی نے اپنی بے پناہ دولت اور اثر رسوخ کی بنا پر انکے خلاف سازشوں کا جال پھیلا کر انہیں اس عہدے پر پہنچنے سے روک دیا ۔لیکن وہ آج بھی برطانوی پارلیمنٹ کے رکن کی حیثیت سے تیسری دنیا کے عوام خصوصا ً فلسطینیوں کی نسل کشی کے خلاف سرگر مِ عمل ہیں اورتارکین وطن کے حقوق کے بھی زبردست حامی ہیں۔ ڈاکٹر عمار علی جان نے انہیں پاکستان آنے کی دعوت دی جو انہوں نے بخوشی قبول کر لی۔
امید ہے کہ وہ جلد پاکستان کا دورہ کریں گے۔ میلے کی خاص بات یہ تھی کہ منتظمین نے نوجوانوں کی بہت حوصلہ افزائی کی، لیاری کی محنت کش فیملی سے جرمنی میں وظیفے پر ماسٹر کرنے کیلئے آئے ہوئے دو جڑواں بھائیوں لیاری بوائز عادل بلوچ اور عاصم بلوچ نے فیض کا کلام سنا کر سماں باندھ دیا۔ اسی طرح پاک پتن شریف سے ایک نوجوان گلو کار وحدت رمیز نے فیض کے علاوہ دیگر شعرا کا کلام انتہائی مہارت سے گایا ۔فیض فاؤنڈیشن کے بنیادی رکن اور آرگنائزر جناب عاصم شاہ اور انکے ساتھیوں فیصل علی شاہ، بلال وڑائچ، شاہد دستگیر خان ،ڈاکٹر عامر مختار اور ایوب اولیاء کی محنتوں کا نتیجہ تھا کہ اس میلے میں پاکستان کے علاوہ بہت سے بھارتی خواتین و حضرات نے بھی شرکت کی۔ اس میلے کے اہم ترین شرکاء میں پاکستان سے آئے ہوئے معروف فنکار سہیل احمد تھے جنہوں نے اپنے مخصوص اسٹائل سے لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیر دیں۔ جرمنی سے آئے ہوئے معروف صحافی اور شاعر جناب عاطف توقیر نے بھی اپنے شاندار کلام سے حاضرین کو محظوظ کیا ۔اگلے دن فیصل فیض فاؤنڈیشن نے ایک’’شام ڈاکٹر خالد جاوید جان کے ساتھ‘‘ کے عنوان سے الفورڈ میں میرے اعزاز میں بھی ایک تقریب کا اہتمام کیا جہاں بہت سے پرانے دوستوں سے ملاقات ہوئی جن میں مشتاق لاشاری اور شاہد ندیم سندھو بھی شامل تھے۔ اس تقریب کے روح رواں جناب فرحان فارانی تھے یوںتین اکتوبر کو شروع ہونے والا یہ پروگرام چار اکتوبر کو بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوا۔