• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ستمبر 2026میں بھارت کے مشہور میڈیا گروپ NDTV کےتحت India's New Defence Edgeکے عنوان سے ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں بھارتی فوج کے تینوں سروسز چیفس سمیت چیف آف اسٹاف اور دفاعی ماہرین کے علاوہ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے شرکت کی۔بھارت کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل ایس راجہ سبرامنی نے اس سیمینار میں کہا کہ اسرائیل بھارت کا دوست اور اتحادی ہے۔ اسرائیل کے افغانستان سے بہترین تعلقات ہیں اور وہ طالبان حکومت کی بھرپور مدد کر رہا ہے۔ اسی طرح ہمارا اور افغانستان کا ایک نیم دفاعی معاہدہ ہو چکا ہے اور ہم پاکستان کیخلاف افغانستان کی ہر طرح سے مدد کرنے میں کسی قسم کی کمی نہیں کررہے۔اگر پاکستان کے کشمیر، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں کوئی بھی گروہ اور فورس کام کرتی ہے تو اسے بھارت کی سپورٹ حاصل ہوگی۔ جنرل سبرامنی نے کوئی بھی لگی لپٹی رکھے بغیر وہی الفاظ دہرائے ہیں جو بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے سیکورٹی ایڈوائزر اجیت ڈوول نے آج سے سات برس قبل بھارت کی یونیورسٹیوں کے طلباء سے خطاب کرتے ہوئے کہے تھے کہ بھارت کو پاکستان کیخلاف کسی قسم کی جنگ کرنے کی رتی برابر بھی ضرورت نہیں کیونکہ پاکستان کو نقصان پہنچانے کیلئے بھارت کے پاس اس سے زیادہ خطرناک اور تباہ کن ذرائع موجود ہیں۔ پاکستان کے خلاف ہتھیار اٹھانے والے کرائے کے انتہا پسند عناصر کو چند لاکھ ڈالر دے دیے جائیں تو وہ ایسے ایسے ٹارگٹ نشانہ بنانے میں ایک منٹ نہیں لگاتے جن تک بھارت لاکھ کوشش کے باوجود نہیں جا سکا۔یہ ٹارگٹ پریڈ لائن مسجد، رسالپور، مہران بیس، بڈھ بیر، آرمی پبلک اسکول، کامرہ ایئر بیس،جی ایچ کیو اورپاکستان میں قانون نافذ کرنیوالے درجنوں انتہائی حساس مقامات ہیں۔قابل غور بات یہ ہے کہ جنرل سبرامنی نے واشگاف الفاظ میں اعتراف جرم کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان اور کے پی کے ہمارا میدان جنگ اور دفاعی حکمت عملی کا اہم جزو ہے۔اب اقوام عالم کے سامنے بھارت کا اعتراف جرم ڈھکے چھپے الفاظ میں نہیں بلکہ جنگی پلان کی صورت میں بیان کر دیا گیا ہے تو اس اعتراف کے بعد نہ تو FATF کے نام سے پاکستان کے خلاف شکنجہ کسنے والی عالمی تنظیم میں کوئی جنبش ہوئی ہے اور نہ ہی امریکہ سمیت یورپی یونین اور جاپان سمیت مشرق بعید کے ممالک نےبھارت پر کسی قسم کی پابندیاں لگانے کا اشارہ دیا ہے۔

اس کا مطلب کیا یہ سمجھ لیا جائے کہ اب دہشت گردی بھی علاقائی اور ذاتی پسند ناپسند کے تابع ہو کر رہ گئی ہے؟امسال اکتیس جنوری کو بھارت نے افغانستان سے بلوچستان میں جو دہشت گردی کی، کیا وہ دنیا کی نظروں سے اوجھل تھی؟جب امریکی وزیر دفاع چیک ہیگل سب کے سامنے یہ انکشاف کرتے ہیں کہ بھارت افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف دہشت گردی کراتا ہے تو اس کے بعد بھارت کو کم از کم گرے لسٹ میں رکھنےکیلئے کسی مزید ثبوت کی ضرورت رہ جاتی ہے؟کیا کنڑ اور ننگر ہار میں بی ایل اے کے بھارتی نگرانی میں تربیتی کیمپ کسی کو دکھائی نہیں دیتے؟آج دنیا کی کوئی ایسی اطلاعاتی اور خفیہ ایجنسی نہیں جسے بلوچستان اور کے پی کے میں بھارتی مداخلت کے مکمل ثبوت میسر نہ ہوں۔اگرFATF سمیت اقوام عالم کو مزید ثبوت درکار ہیں تو پھر امریکہ کے خصوصی نمائندے جیمز ڈوبنز کی رپورٹ، برطانوی ڈپلومیٹک کیبلز لیک 2008 ءاور 2009ءملاحظہ کی جا سکتی ہے۔اور اوپر بھارت کے سیکورٹی ایڈوائزر اجیت ڈوول کے بھارتی طلباء کو دیے گئے لیکچرز کا جو حوالہ دیا گیا ہے، وہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل (4)2 کی سنگین خلاف ورزی ہے۔اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق اجیت ڈوول اور NDTV کے سیمینار میں بھارت کی تینوں مسلح افواج کی جانب سے کی جانے والی تقاریر اور بھاشن اس عالمی چارٹر کی صریحاً خلاف ورزی میں شمار ہوتے ہیں۔

مئی2025میں پاکستان کیخلاف چار روزہ فضائی اور میزائل سمیت ڈرونز کی جنگ میں بری طرح ہزیمت اٹھانے کے بعد بھارت اب یہ اچھی طرح جان چکا ہے کہ پاکستان کیخلاف نہ تو وہ روایتی جنگ اور نہ ہی فضائی جنگ میں کامیابی حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہےاب اسکے پاس دو ہی راستے ہیں۔ ایک سمندری جنگ، جس کا بھارت کو گزشتہ برس مئی میں ہونیوالی جنگ میں تجربہ حاصل نہیں ہو سکااور اسے اس بات کا شاید گھمنڈ ہے کہ اس کی بحریہ چونکہ پاکستان سے بہت بڑی اور جدید ہتھیاروں کی وجہ سے زیادہ مضبوط ہے، اس لیے اب سمندر کو استعمال کیا جائیگا۔ نیول چیف ایڈمرل کرشنا سوامی ناتھن نے شاید اس سمت میں اشارۃً کہہ بھی دیا کہ بحر ہند اور بحیرہ عرب میں فوجی سرگرمیاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں، اسلئے بھارت کو اب اپنے سمندروں میں پہلے سے کئی گنا زیادہ چوکس رہنا پڑیگا۔شاید یہی وجہ ہے کہ چند ماہ ہوئے بھارت کے وزیر دفاع راج ناتھ نے بڑھک مارتے ہوئے پاکستان کو دھمکی دی تھی کہ ہمیں کراچی کی جانب جانے والی سڑکوں کے تمام راستے معلوم ہیں۔شاید وہ راجوڑی، پلوامہ اور پہلگام جیسا کوئی ڈرامہ رچانے کے بعد سر کریک سے شاہ بندر کی جانب بڑھنے کا اشارہ دے رہا تھا۔

بھارت نے لگی لپٹی رکھے بغیر اپنی جنگی حکمت عملی سے بے خوف ہو کر پردہ اٹھا دیا ہے اور جب بھی بھارتیہ جنتاپارٹی کا جنگی جنون یا اس کی عوامی مقبولیت پاتال کی جانب بڑھنے لگے گی تو مودی اور امیت شاہ ٹولہ بھارتی ہندوؤں کی ہمدردیاں اور جذبات پھر سے اپنی جانب موڑنے کیلئے پلوامہ اور پہلگام جیسے مشن انجام دیتے ہوئے پاکستان کیخلاف جنگی قدم اٹھائینگے۔ اور اس دفعہ بحری جنگ اور سرکریک کو بہانہ بنایا جائیگا۔اس کیلئے ہمیں 11ستمبر 2017ء کو جنتا پارٹی کے ہیڈ کوارٹر گاندھی نگر میں اس وقت کی بھارتی وزیر دفاع نرملا سدھارتھ کی پاکستان کو دی جانے والی وہ دھمکی یاد رکھنی ہوگی کہ:’’سر کریک چونکہ گجرات جیسی اہم ترین سرحد سے منسلک ہے، اسلئے ہم گجرات کی حفاظت کی خاطر سب کچھ کر سکتے ہیں۔‘‘بھارت کی ان تمام سازشوں اور منصوبوں کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کو نہ صرف ہمہ وقت چوکنا رہنے کی ضرورت ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی موثر اقدامات کرنے چاہئیں۔

تازہ ترین