آئین کا آرٹیکل 234 صوبے میں آئینی مشینری کی ناکامی پر گورنر راج سے متعلق ہے، جس کے تحت گورنر صدر مملکت کو رپورٹ بھیجے گا۔
اگر پارلیمنٹ کے دونوں ایوان الگ الگ قرارداد منظور کر دیں تو صدر گورنر راج کا اعلان کر سکتے ہیں، صدر صوبائی حکومت کے تمام یا بعض اختیارات خود سنبھال سکتے ہیں یا گورنر کو تفویض کر سکتے ہیں۔
یہ آرٹیکل صدر کو یہ اختیار نہیں دے گا کہ وہ ہائی کورٹ کے کسی اختیار کو خود سنبھالیں یا گورنر کو دیں، اس آرٹیکل کے تحت ہر دو ماہ پورے ہونے پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے منظوری لینا ہو گی۔
گورنر راج مجموعی طور پر چھ ماہ سے زیادہ نافذ نہیں رہ سکتا۔
خیال رہے کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی لگانے پر اتفاق ہوگیا ہے، ایمرجنسی کے نفاذ کی کل وفاقی کابینہ سے منظوری لیے جانے کا امکان ہے۔
ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق کے لیے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے الگ الگ اجلاس طلب کیے جائیں گے، اجلاس میں منگل 13 اکتوبر کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے الگ الگ اجلاس بلانے پر اتفاق کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ کا آجلاس کل صبح ساڑھے 9 بجے طلب کیا گیا ہے، اجلاس میں خیبر پختونخوا مین ایمرجنسی کے نفاذ کی منظوری لیے جانے کا امکان ہے۔