• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سعودی عرب: ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر فضائی آپریشن معطل

فوٹو: سعودی میڈیا
فوٹو: سعودی میڈیا 

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے کے بعد فضائی آپریشنز عارضی طور پر معطل کر دیے گئے۔ حملے میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔

سعودی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن (جی اے سی اے) نے اپنے بیان میں تصدیق کی کہ ہفتے کی دوپہر ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا گیا۔ حکام کے مطابق زخمیوں کی مجموعی تعداد کا تعین کیا جا رہا ہے۔

اتھارٹی نے بتایا کہ متعلقہ اداروں کے تعاون سے حملے سے ہونے والے نقصان کا جامع جائزہ لینے اور ایئرپورٹ کی تنصیبات کی حفاظت کی تصدیق تک فضائی آپریشنز معطل رہیں گے۔ مزید تفصیلات دستیاب ہونے پر آگاہ کیا جائے گا۔

حملے سے قبل کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ انتظامیہ نے مسافروں کے لیے سفری ہدایت نامہ جاری کرتے ہوئے انہیں ایئرپورٹ روانہ ہونے سے پہلے اپنی متعلقہ ایئرلائن سے رابطہ کرنے اور پرواز کی تازہ صورتِ حال معلوم کرنے کی ہدایت کی تھی۔

کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر دنیا بھر کیلئے 90 پروازیں منسوخ اور 73 تاخیر کا شکار ہوئیں، فلائٹ شیڈول کے مطابق کراچی سے ریاض کی 6 ،اسلام آباد سے ریاض کی 2 پروازیں منسوخ ہوئیں۔

دوسری جانب سعودی وزارتِ خارجہ نے ان سعودی شہریوں سے رابطہ کرنے کی اپیل کی ہے جن کی پروازیں متاثر ہوئی ہیں یا ریاض کے لیے پروازیں معطل یا تاخیر کا شکار ہونے کے باعث وہ اپنی منزل تک نہیں پہنچ سکے۔

وزارتِ خارجہ کے مطابق متاثرہ شہریوں کو ان ممالک میں قائم سعودی سفارت خانوں اور قونصل خانوں سے رابطہ کرنا چاہیے جہاں وہ اس وقت موجود ہیں۔ سعودی سفارتی مشنز انہیں ضروری معاونت اور رہنمائی فراہم کریں گے۔

رپورٹ کے مطابق ہفتے کا یہ حملہ جمعرات کو کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے دو حملوں کے صرف دو روز بعد ہوا ہے۔ جمعرات کے حملوں میں تین سعودی شہری جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔

دوسری جانب  سعودی فوجی اتحاد اور یمنی حکومتی فورسز کی جانب سے حوثیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں جاری ہیں۔

یمنی حکومتی فورسز کے ترجمان کرنل ماجد النزیلی نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران حوثیوں پر 2750 حملے کیے گئے جن کے نتیجے میں 1400 سے زائد حوثی جنگجو ہلاک ہو گئے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید