• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ساڑھے سات ماہ پہلے نیتن یاہو نے صدر ٹرمپ کی ملی بھگت سے ایران کیخلاف انتہائی تباہ کن مشترکہ فوجی کارروائی کرکے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت ملک کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت ، چوٹی کے سائنسدانوں اور اہم فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا تو پوری دنیا کے مسلمان عوام اور تقریباً تمام مسلم حکومتوں کی ہمدردیاں مکمل طور پر ایران کیساتھ تھیں۔ ستاون رکنی اسلامی تعاون تنظیم کے ہنگامی اجلاس میں ایران کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا گیااور اسرائیل کی مذمت کی گئی۔ ایرانی قوم نے اس طویل جنگ میں جس عزم، استقامت ، ایثار اور بہادری کا ثبوت دیا ہے، پوری مسلم دنیا کے نزدیک وہ انتہائی قابل قدر اور لائق فخر و ستائش ہے جس کا بھرپور اظہار عوامی و سیاسی حلقوں اور ممتاز تجزیہ کاروں کی تحریروں میں کیا جاتا رہاہے ۔ جنگ کے ابتدائی دنوں میں خلیجی مسلم ریاستوں کی حدود میں ایرانی میزائل اور ڈرون پہنچنے شروع ہوئے تو کنفیوژن کے باوجود خاصے دنوں تک یہ توجیہ قبول کی جاتی رہی کہ اصل ہدف ان ریاستوں میں قائم امریکی فوجی اڈے ہیں اور اسرائیل کو حاصل امریکی سرپرستی کے سبب یہ کارروائیاں کی جارہی ہیں۔ تاہم اس وقت بھی یہ سوال بہت سے ذہنوں میں آتا رہا کہ یہ میزائل اور ڈرون تل ابیب تک کیوں نہیں پہنچتے اور اسرائیلی فوجی تنصیبات انکی یلغار سے محفوظ و مامون کیوں ہیں؟ تاہم جب عرب ممالک کی تیل و گیس کی تنصیبات تک بات پہنچی تو دنیا بھر کے مسلمانوں میں تشویش بڑھنے لگی۔خصوصاً سعودی عرب جہاں پوری مسلم امہ کے روحانی مراکز ہیں،اس سلسلے کا وہاں تک دراز ہونا اور اسرائیل کا چین کی بنسی بجانا خاص طور پر سب کیلئے ناقابل فہم اور پریشان کن تھا۔ایران اور سعودی مملکت دونوں سے گہرے برادرانہ روابط رکھنے اور جنگ مئی میں بھارت کو شکست فاش دینے کی بنا پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نگاہوں میں بھی نمایاں اہمیت حاصل کرلینے والے پاکستان نے خطے اور دنیا کو جنگ کے شعلوں سے بچانے کی خاطر ثالثی کا بیڑہ اٹھایا اور تمام فریقوں سمیت پوری دنیا نے اس کا خیرمقدم کیا۔ پاکستان کی ثالثی نے ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانیوالے معاہدہ اسلام آباد کی شکل میں ٹھوس کامیابی حاصل کی۔ دوسری جانب سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستوں نے ایرانی میزائلوں کی بارش کے جواب میں پاکستان کی مصالحتی کوششوں کے باعث بالعموم تحمل کا مظاہرہ کیا۔ پھر سعودی عرب پر براہ راست ایرانی حملوں کا سلسلہ تھم بھی گیا۔لیکن اسکے بعد یمن کے حوثیوں نے سعودی عرب کی تیل و گیس کی تنصیبات اور دارالحکومت ریاض کے ائیرپورٹ سمیت جدہ، طائف ، ابہا اور دیگر شہروں کے عوامی مقامات کو نشانہ بنانے کا ایسا سلسلہ شروع کردیا جس پر جوابی کارروائی ناگزیر ہوگئی جس میں حوثیوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے اور یوں دونوں جانب مسلمانوں کا خون بہنا ہر باشعور مسلمان کیلئے سخت تکلیف کا سبب ہے۔ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے مطابق اس میں شامل تینوں ملکوں سعودی عرب، ترکی اور پاکستان میں سے کسی ایک کیخلاف بھی کسی ملک کی جانب سے کی گئی جارحیت تینوں ملکوں کیخلاف متصور ہوگی۔ اسلئے مصالحت کی کوششوں میں ناکامی کے باعث حوثی حملوں کے جواب میں پاکستان اور ترکی کا متحرک ہونا لازم ہوگیا ہے۔ایرانی قیادت نے اگرچہ حوثیوں کی تنظیم انصار الاسلام سے کسی تعلق کی تردید کی ہے لیکن اسکی ہمدردیاں بہرحال حوثیوں کو حاصل ہیں۔یوں مشرق وسطیٰ ایک ایسی جنگ کا میدان بنتا نظر آرہا ہے جو پورے خطے کی تباہی کا اورجغرافیہ تبدیل کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ ستم ظریفی یہ کہ جس اسرائیل نے ایران پر حملہ کرکے یہ آگ لگائی تھی نہ صرف یہ کہ اسکی سلامتی کو بظاہر کسی قسم کا کوئی خطرہ درپیش نہیں بلکہ اس طرح اس کے عشروں پرانے گریٹر اسرائیل کے منصوبے کی راہ ہموار ہورہی ہے جسے نیتن یاہو علانیہ اپنا سیاسی و روحانی مشن قرار دیتے ہیں۔ اس منصوبے کے متعدد دستاویزی شواہد منظر عام پر آچکے ہیں۔فروری 1982ء میںاسرائیلی وزارت خارجہ سے وابستگی رکھنے والے تجزیہ کار اورصحافی اودد یینن( Oded Yinon) کا پیش کردہ منصوبہ ان میں نمایاں اہمیت رکھتاہے۔ اس نے مسلم دنیا کیلئے صہیونیت کے توسیع پسندانہ عزائم کا بھرپور اظہار ’’انیس سو اسّی کی دہائی میں اسرائیل کیلئے حکمت عملی‘‘کے عنوان سے تیار کی گئی دستاویز میں کیا تھا۔جولائی 1982ء میں اس عبرانی دستاویز کا انگریزی ترجمہ ’’مشرق وسطیٰ کیلئے صہیونی منصوبہ‘‘ کے عنوان سے ایسوسی ایشن آف عرب-امریکن یونیورسٹی گریجویٹس نے شائع کیا ۔ اس کے مترجم پروفیسر اسرائیل شحاک اپنے پیش لفظ میں اسے مشرق وسطیٰ کیلئے صہیونی حکومت کا قطعی اور مفصل پلان بتاتے ہیںجو پورے علاقے کی چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم اور تمام موجودہ عرب ریاستوں کی تحلیل پر مبنی ہے ۔ ان حقائق کے پیش نظر ضروری ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کی آگ کو جلد از جلد ٹھنڈا کیا جائے۔ فی الوقت حالات جس رخ پر آگے بڑھ رہے ہیں، وہ اس امر میں کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہنے دیتے کہ ایران اور عرب ممالک کو باہمی خوں ریزی میں الجھا کرگریٹر اسرائیل کے صہیونی منصوبے کیلئے میدان صاف کرنے کی جو سازش نیتن یاہو نے فروری کی آخری تاریخ کو ایران کیخلاف جارحیت کی شکل میں کی تھی، وہ کامیابی سے تکمیل کی جانب بڑھ رہی ہے۔پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے ثالثی کی انتھک کوشش کی لیکن وہ اب تک حتمی طور پر نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکی۔ تاہم سعودی عرب اور حوثیوں کی جنگ بند کرانے میں ایرانی قیادت یقیناََ فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی اور یوں نیتن یاہو کی سازش کو ناکام بناسکتی ہے۔

تازہ ترین