• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اگرچہ نئے صوبوں کے محرکات تو موجود ہیں لیکن ان کے محرکین اور مقتدرہ کے نظریات ابھی تک آن دی ریکارڈ تفصیلاً منظرعام پر نہیں آ سکے۔ چنانچہ نئے صوبوں کے حامی اور مخالفین پوری طرح کھل کر متحرک نہیں ہو سکے اور یوں عوام ابھی تک نئے صوبوں کی مبہم تحریک کو پردۂ چلمن سے ہی ملاحظہ کر رہی ہے۔ عوام کے ساتھ جمہور ملکی دانش بھی محتاط ہے کہ وہ کس پلڑے میں اپنا وزن ڈالیں۔ اس خاموشی کی ایک وجہ بڑی سیاسی پارٹیوں سے پرانی شناسائیاں بھی ہو سکتی ہیں اور یوں رواداریاں آڑے آ رہی ہیں۔ لیکن مناسب ہو گا کہ نئے صوبوں کی مفید تخلیق کے محرکین اپنے واضح نظریات اور پلان کے ساتھ منظرعام پر آ جائیں۔ اپنی سیاسی، آئینی تجاویز اور اقدامات کے ذریعے گومگو کی کیفیت کو ختم کریں۔ محرکین کی جانب سے اس بابت واضح Roadmap عوام کے شکوک و شبہات کو ختم کر دے گا کہ ایسی مشکل تجاویز جن سے بڑی سیاسی پارٹیوں کے مفادات کو شدید نقصان پہنچتا ہو، بالعموم ان پر اُصولی سمجھوتے کے بعد قصۂ پارینہ بنایا جاتا رہا ہے، بھلا دیا جاتا ہے اور فریقین اپنے گروہی مفادات پر باہمی اتفاقات پر سودے بازی کر لیتے ہیں۔ ماضی میں ڈیموں کی تعمیر، نئے نہری نظام کا اجرا، زرعی اصلاحات، بے زمین کاشت کاروں میں سرکاری زمینوں کی تقسیم، معدنیات کی کان کنی اس کی مثال ہیں۔دریں اثناء نئے صوبوں کے متبادل نئی تجاویز بھی پٹاری سے نکلنا شروع ہو گئی ہیں جن میں سے ایک بلدیاتی نظام کے استحکام کی ضمانت کے لئے اقدامات یا پھر محض نئے انتظامی یونٹس کا قیام بھی شامل ہے۔ درحقیقت یہ ساری تجاویز نئے صوبوں کے جاندار پروگرام کو سبوتاژ کرنے کے لئے منظر پر لائی جا رہی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے یونٹس کی قانونی لحاظ سے کوئی آزادانہ حیثیت نہیں ہوتی۔ موجودہ سیاسی اور اقتداری منظر کے غائب ہونے پر صوبائی یا وفاقی اسمبلیوں میں تبدیلی کے بعد ان انتظامی یونٹس کے پَر کاٹے جا سکتے ہیں۔ سیاسی پارٹیاں منظر تبدیل ہونے کے بعد ایسی طوطا چشمیاں بلدیاتی نظام کے ساتھ بھی کرتی رہی ہیں۔ اگر یہ یونٹس قائم بھی رہیں تو ان کو اپنے ریونیو، ترقیاتی، سماجی اور انتظامی مسائل کیلئے پرانے صوبوں کا دست نگر رہنا پڑے گا۔ انتظامی لیکن پرانے صوبوں کے ماتحت انتظامی یونٹوں کی وجہ سے عمودی انتظامیہ (Vertical Tier) کی جسامت اور طاقت دونوں میں اضافہ ہو جائے گا۔ چونکہ ان یونٹس کی نگرانی کے لئے صوبوں میں پہلے سے موجود بیوروکریسی کے نیچے کوآرڈی نیٹرز، ڈائریکٹرز، ایڈوائزرز کی تعداد میں اضافہ ہو گا۔ اس Hot Potch کی وجہ سے بیوروکریسی کی نئی تہیں وجود میں آئیں گی۔ موجودہ نظام کی تباہی جس کی طرف وفاقی وزیر داخلہ نے حال ہی میں اشارہ کیا تھا، اس کی وجوہات میں نہ صرف وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم و ترسیل اور استعمال ہیں، بلکہ ان پسماندہ محروم علاقوں سے دیرینہ منتخب ہونے والی سیاسی قیادت کی نااہلی بھی ہے کہ وہ ان علاقوں کے مسائل کا ادراک نہ کر سکے۔ انکے مصائب کو اسمبلیوں میں بیان نہ کر سکے اور قانون سازی سے لاتعلق رہے۔ جاگیردارانہ، لسانی، سیاسی یا گروہی مخالفتوں کی بناپر ماضی کے نمائندگان ان علاقوں کی پسماندگی اور محرومیوں کو بیان کر سکے۔ ان کی اصلاح کے لئے اپنے مؤقف پر قائم نہ رہ سکے تو اس دیرینہ صورتِ حال کا علاج ان علاقوں سے نئی قیادت کے ذریعے نمائندگی ہے جو کہ محض نئے صوبوں کی تخلیق سے ممکن ہے۔ نئے انتظامی یونٹس کی خودمختاری تو ان علاقوں کو مزید استحصال کا شکار کر دے گی کیوں کہ انتظامی یونٹس یا بلدیاتی ادارے نئی قانون سازی سے لاچار رہیں گے، آئینی تحفظ کے لئے آواز نہ بن سکیں گے۔صوبائی و قومی اسمبلیوں کے انتخابات عوام کے لئے ووٹ کا موقع مہیا کرتے ہیں، جن کی مدد سے وہ عوامی نمائندوں کی کارکردگی کا احتساب کر سکتے ہیں۔ ان مجوزہ انتظامی یونٹس کے خلاف عوام کے لئے کوئی احتسابی موقع یا پلیٹ فارم دستیاب نہ ہو گا کہ وہ سرکاری عمال کی کارکردگی پر سوال اُٹھا سکیں۔ اگرچہ موجودہ صوبوں کی انتظامی حدود کچھ حد تک ثقافتی، سماجی، لسانی شناخت کی حامل ہیں، یقینا عوام کو ان شناختوں سے لگاؤ بھی ہونا چاہئے۔ نئے صوبے بھی ان شناختوں کو پیش نظر رکھ کر بنائے جا سکتے ہیں، بلکہ تھوڑی سی منصوبہ بندی سے نئی نئی ثقافتی اور ماں بولی لہجوں کی دریافت اور فروغ ممکن ہو سکتا ہے۔ وہاں سے اُٹھنے والی نئی قیادتیں اپنے کلچر کو زیادہ وضاحت کے ساتھ بیان کر سکتی ہیں۔ نئے انتظامی یونٹس ان دیرینہ ثقافتی اور علاقائی اقدار کو فروغ دینے سے قاصر رہیں گے۔

بلاشبہ اٹھارویں آئینی ترمیم نے صوبوں کی مالیاتی اور انتظامی خودمختاری کو بڑھایا ہے۔ وفاق کی بے جا دست نگری سے انہیں آزاد کر دیا ہے۔ لیکن افسوس صوبائی قیادتوں نے ہر صوبے میں پسماندہ زون تخلیق کر لئے ہیں۔ ان کے وسائل غیرمنصفانہ طور پر اپنے پسندیدہ حلقوں شہروں میں لگانے کی روش اختیار کر لی ہے۔تجویز ہے کہ نئے صوبوں کی تخلیق کے بعد مرکز سے براہِ راست ان پسماندہ علاقوں کو ان کا حق لوٹا دیا جائے تاکہ وہ صوبائی یا بڑی سیاسی استحصالی قوتوں کے دست نگر نہ رہیں۔ملک کی زرعی، صنعتی اور تعمیراتی ترقی نے اب تک کچھوے کی چال پر ہی اکتفا کیا ہوا ہے۔ ملک کے قدرتی وسائل سے دانستہ لاپروائی اور انسانی وسائل کی بے قدری نے نوجوان نسل کو قدیم سیاسی منظرنامہ اور فرسودہ انتظامی ڈھانچہ سے متنفر کر دیا ہے۔ اصلاحات سے عاری اس نظام نے نوجوانوں کیلئے روزگار اور ترقی کی راہیںمسدود کر رکھی ہیں، جب کہ اس صورتِ حال کے دوران روایتی سیاسی گروہوں اور طالع آزماؤں کی چاندی ہے جنہوں نے اب تک باہمی ملی بھگت سے اس ازکارِ رفتہ نظام کے اردگرد آہنی دیوار تعمیر کر دی۔ چنانچہ اس ملی بھگت سے اشرافیہ نے منافع خوری کا بازار گرم کئے رکھا۔ مایوس نوجوانوں کی بیرونی ملک ہجرت ان کے لئے مزید سکون کا باعث تھی کیوں کہ انہیں کسی تبدیلی اور انقلاب کا خطرہ بھی لاحق نہ تھا۔ مخصوص سیاسی اشرافیہ نے بڑے صوبوں کی سیاست اور اقتدار پر قبضہ جمایا ہوا ہے۔ انہوں نے جمہور عوام کی اصلاحاتی خواہشوں کو چھپا رکھا ہے، جب کہ نئے ڈیموں، جدید نہری نظام کی تعمیر، ہاریوں میں زمینوں کی تقسیم، معدنی خزانوں کی بازیافت اور انسانی ترقی کے پروگراموں کی مخالفت ان کا شعار ہے۔ اُمید ہے نئے انتظامی صوبوں کی قیادتیں مثبت رویہ کا مظاہرہ کریں گی، کیوں کہ یہ اصلاحات نئے صوبوں کے استحکام کے لئے ذرائع آمدنی کو فروغ دیں گی۔

تازہ ترین