• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مصنفہ: شاہین کمال

صفحات: 248، قیمت: 1000

ناشر: بزمِ تخلیقِ ادب، پاکستان (کراچی)

شاہین کمال کی زیرِنظر کتاب بہت سچے جذبوں سے عبارت ہے۔ بلاشبہ یہ خُود نوشت اُنہوں نے اپنے خونِ جگر سے لکھی ہے۔ یہ ہراُس شخص کی داستان ہے، جس نے آگ اور خون کا دریا عبور کیا ۔ کتاب دو حصّوں پر مشتمل ہے۔ پہلے میں پُرسکون بچپن کی تصویریں ہیں۔ گلیاں، محلے، اسکول، دوست، کھیل اور خواب، مگر جیسے جیسے سیاسی بحران شدت اختیار کرتا گیا، ویسے ویسے یہ معصوم دنیا خوف، بےیقینی اور خون آشام حقیقتوں میں تبدیل ہوتی چلی گئی۔

کتاب کے دوسرے حصّے میں شامل دس افسانے بھی سانحۂ مشرقی پاکستان کے مختلف پہلو اجاگر کرتے ہیں۔ ان میں شہداء، مہاجر خاندانوں، جنگی قیدیوں، پاک فوج کے سپاہیوں اور بےگھر ہونے والے انسانوں کی نفسیاتی کیفیات فِکشن کے پیرائے میں پیش کی گئی ہیں۔ یہ کتاب، صرف ایک شخص کی سرگزشت نہیں، بلکہ لاکھوں مظلوموں کی نمائندہ آواز ہے، جن کے دُکھ درد تاریخ کی بڑی کتابوں میں نظرانداز کردیئےجاتے ہیں۔

حقیقت تو یہ ہے کہ مشرقی پاکستان کوانسانی زاویے سے سمجھنے والے ہر سنجیدہ قاری کے لیے یہ کتاب قابلِ مطالعہ اور ایک فکر انگیز تصنیف ہے کہ ایسی کتابیں صرف ماضی نہیں دہراتیں، بلکہ یہ احساس بھی دلاتی ہیں کہ قوموں کی تاریخ میں بعض زخم وقت گزرنے کے باوجود مکمل طور پر نہیں بَھر پاتے۔

سنڈے میگزین سے مزید