ترتیب وتحقیق: ڈاکٹر خاور جمیل، گلناز محمود، مجید رحمانی
صفحات: 150 ، قیمت: 500
ناشر: ڈاکٹر جمیل جالبی ریسرچ لائبریری، جامعہ کراچی۔
ڈاکٹرجمیل جالبی، ایک شخصیت نہیں، ایک عہد کا نام ہے، بلاشبہ وہ ہمہ جہات اور ہمہ صفات شخصیت کے مالک تھے۔ اُن کی علمی وادبی کتابوں نے اُردو ادب کے سرمائے میں گراں قدر اضافہ کیا۔ ڈاکٹر صاحب کے کاموں سے سرسری طور پر نہیں گزرا جا سکتا کہ اُن کی علمی وادبی خدمات کا احاطہ کرنے کے لیے مضامین کافی نہیں، کتابیں درکار ہوں گی۔ جی تو چاہتا ہے کہ اُن پر کُھل کر لکھا جائے، لیکن اختصار ہماری مجبوری ہے۔
ڈاکٹر جمیل جالبی، کراچی یونی ورسٹی کے وائس چانسلر، مقتدرہ قومی زبان اور اردو ڈکشنری بورڈ کے سربراہ رہے۔ زیرِ نظر کتاب، ماہنامہ ’’ساقی‘‘ میں شائع ہونے والے ڈاکٹر جمیل جالبی کے ان اداریوں پر مشتمل ہے، جو انہوں نے’’باتیں‘‘ کے عنوان سے جون 1950ء تا جولائی 1954ء میں تواتر کے ساتھ لکھے۔ ’’ساقی‘‘ کا اجراء عہد ساز ادیب، شاہد احمد دہلوی نے جنوری 1930ء میں دہلی سے کیا تھا۔
بقول ڈاکٹر جمیل جالبی، شاہد احمد دہلوی کا نام، بیسویں صدی کی اُن عظیم ہستیوں میں سرِفہرست ہے، جنہوں نے اُردوزبان و ادب کے لیے زندگیاں وقف کردیں۔ انہوں نے 37 سال کی طویل مدت میں کئی نسلوں کی اِس طور پر تربیت کی کہ آج اُن میں سے متعدد ادیب، خود مشاہیرِ وقت بن گئے ہیں۔ ’’ساقی‘‘ کے اداریوں میں جالبی صاحب نے ایک مستقبل بیں کے طور پر علاقائی اور عالمی امور کے تناظر میں، معاصر ادب کا سنجیدگی اور معروضیت کے ساتھ مطالعہ کیا۔
یہ وہ عرصہ ہے، جب ایک نو آزاد ریاست کو سیاسی، سماجی، معاشی اور نظریاتی چیلنجز درپیش تھے۔ ایک حسّاس اور روشن خیال انسان کے نظریات و خیالات میں ایک آئیڈیل سماج کا خاکہ بنُت کاری کے عمل سے گزر رہا تھا۔
ڈاکٹر جمیل جالبی کے صاحب زادے، ڈاکٹر خاور جمیل، خراجِ تحسین کے حق دار ہیں کہ وہ اپنے والد کی قائم کردہ، روایات زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ اس ضمن میں، جامعہ کراچی میں ’’ڈاکٹر جمیل جالبی ریسرچ لائبریری‘‘ کا قیام اُن کا تاریخی کارنامہ ہے۔ دیگر بڑے ادیبوں کی اولاد کو بھی اُن کی تقلید کرنی چاہیے۔