• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مصنف: احمد نعیم چشتی

صفحات: 222 ، قیمت: درج نہیں

ناشر: سانجھ

زیرِ نظر کتاب کے مصنّف کب سے لکھ رہے ہیں، اِس کا ہمیں علم نہیں، لیکن اُن کا اندازِ تحریر اُن کی مشّاقی کا پتا دیتا ہے، حالاں کہ وہ ابھی نوجوان ہیں۔ ویسے اگر کوئی نوجوان تخلیقی میدان میں آجائے تواپنی تازہ کاری سے قارئین کو ضرور متاثر کرتا ہے۔ یہ کتاب مصنف کے اُن مضامین کا مجموعہ ہے، جو روزنامہ ’’جنگ‘‘، ڈی ڈبلیو اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پرشائع ہوئے۔

ان مضامین میں گزرے دنوں کی خُوب صُورت، سہانی اور گدگداتی یادیں ہیں، جو خوشی اور راحت کا سامان فراہم کرتی ہیں۔ ہنستے، کھیلتے بچپن کی کہانیاں ہیں، تو خواب دیکھتی جوانی کے قصّے بھی، جب کہ ہر پل ڈھلتے، ریت کی طرح مُٹھی سے کھسکتے وقت کی اداسی بھی موجود ہے۔

نیز، سوکھے پتّوں کی طرح، شاخِ زندگی سےجھڑ جانے والے دِنوں کا نوحہ بھی ہے۔ اِن کے مضامین میں ہر چیز کے بدل جانےکا غم موجود ہے، تو انسان کی بےبسی پرافسوس بھی ہے۔ حقیقتاً یہ کتاب صرف بیتے زمانے کی رُوداد نہیں، مستقبل کی دل کش اُمیدوں کی کتھا بھی ہے۔

بیش ترمضامین میں کچی مٹی کے لوگوں کا تذکرہ ہے، جو ایک ایسی بستی کے باسی ہیں، جہاں زندگی سادہ اور مٹی سے جُڑی ہوئی ہے۔ یہ لوگ اِسی مٹی سے بنے ہیں، اِسی میں رین بسیرا کرتے ہیں۔

یہیں سے رزق ڈھونڈتے ،کھاتے، پوری زندگی بتاتے ہیں۔اور پھر کچے رستوں پر چلنے والے یہ مسافر کچی مٹی ہی کی طرح ٹوٹ کر اسی مٹی میں مٹی ہو جاتے ہیں۔ یاد رہے، کتاب میں مختلف عنوانات کے تحت 46 مضامین شامل ہیں۔

سنڈے میگزین سے مزید