جامعہ کراچی کے ریٹائرڈ اساتذہ کے واٹس ایپ گروپ میں 72 ایسے اساتذہ اور ملازمین کی فہرست جاری کی گئی، جو ملازمت سے سبک دوش ہونے کے باوجود برسوں سے جامعہ کے مکانات پر غیرقانونی طور قابض ہیں۔ اِن میں کچھ ایسے پروفیسرز بھی شامل ہیں، جو مذہبی مبلغین ہیں اور اعلیٰ اخلاقی اقدار پر دن رات وعظ و نصیحت کرتے پھرتے ہیں بلکہ مذہبی تقریبات میں بہت عزت و احترام کے ساتھ مدعو کیے جاتے ہیں۔
نیز، سوشل میڈیا پر بھی دن رات قرآن وحدیث کا پرچار کرتے نطر آتے ہیں، لیکن اپنے اس غیر قانونی، غیر اخلاقی اور غیر شرعی عمل پر کبھی شرمندہ نہیں ہوتے۔ یہ محض ایک واقعہ نہیں، بلکہ ہمارے اجتماعی ضمیر کا وہ عکس ہے، جسے ہم دیکھنا ہی نہیں چاہتے۔ علمِ نفسیات میں اس کیفیت کو ’’کاگنیٹو ڈیسونینس‘‘ (Cognitive Dissonance) یا عقلی ناہم آہنگی کہا جاتا ہے۔
سادہ زبان میں اس کا مطلب یہ ہے کہ جب انسان کا علم، اس کی فکر اور اس کے بتائے ہوئے اصول کچھ اور ہوں، مگر اس کا اپنا عمل اس کے بالکل برعکس نکلے۔ اور جب عمل اور قول کا یہ ٹکراؤ ذہن میں شرمندگی یا بےچینی پیدا کرے، تو انسان سچ ماننے اور اپنا رویہ بدلنے کے بجائے خُود کو دلائل کے ایسے جھوٹے دلاسے دینے لگتا ہے کہ جن سے درحقیقت اُس کا ضمیر سویا رہے۔
اگر غور کیجیے تو ہمارا پورا معاشرہ اسی ’’میٹھے خود فریب‘‘ کی لپیٹ میں ہے۔ ہم جو کہتے ہیں، اُس پر عمل نہیں کرتے۔ اور جو کرتے ہیں، اس کا سچائی کے ساتھ اعتراف کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔ آج کے ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا کے دَور نے اس تضاد کو ایک نیا رُوپ دے دیا ہے۔ ہماری فیس بُک، ایکس (ٹویٹر) اور انسٹا گرام کی والز اخلاقی نصائح، مظلوموں کی حمایت، دیانت داری کے خطبات اور مذہبی اقدار کی پاس داری والے اسٹیٹس سے بَھری پڑی ہیں۔
ہر شخص ڈیجیٹل دنیا میں ایک مجاہد، ایک اخلاقی رہنما بنا بیٹھا ہے، لیکن جیسے ہی اسکرین کی بتی بجھتی ہے اور واقعتاً عملی زندگی کا میدان آتا ہے، تو وہی لوگ ٹریفک سگنل توڑنے، ناپ تول میں ہیرا پھیری کرنے، اپنے گھر کا کچرا ہم سائے کے دروازے پر پھینکنے اور ذاتی مفاد کے لیے دوسروں پر کیچڑ اچھالنے میں ذرّہ برابر ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔ اور جب اس تضاد پر کوئی ٹوکے، تو فوری جواب تیار ہوتا ہے۔ ’’بھائی! سوشل میڈیا پر آواز اُٹھانا بھی تو ایک جہدِ مسلسل ہے، باقی حالات ہی ایسے ہیں کہ تھوڑا بہت سمجھوتا کرنا پڑتا ہے!‘‘یہی رویہ ہمارے بازاروں اور کاروباری اخلاقیات کا حصّہ بن چُکا ہے۔
تاجر سہرے اور مذہبی عبارات کی تختیاں دکانوں پر سجا کر رزقِ حلال اور ایمان داری پرلمبی تقاریر کرتے ہیں، لیکن جیسے ہی کوئی خریدار آتا ہے، ملاوٹ اور منافع خوری کا کھیل شروع ہو جاتا ہے اور جب اندر کا ’’ضمیر‘‘ نامی اخلاقی احساس اُنہیں ملامت کرتا، تھوڑے بہت کچوکے لگاتا ہے، تو وہ اِس ذہنی و جذباتی تناؤ کا حل یہ نکالتے ہیں کہ شام کو آستانوں پر لنگر بانٹ دیتے ہیں یا مسجد کے فنڈ میں کچھ رقم جمع کروا کراُس ذرا سے بےدار ضمیر کو پھر سے چین و اطمینان کی نیند سلا دیتے ہیں۔
اور… سیاست کی نگری کا تو اوڑھنا بچھونا ہی یہ عقلی تضاد ہے۔ عام شہری دن رات بیٹھ کر قانون کی حُکم رانی، کرپشن کے خاتمے اور میرٹ کا رونا روتا ہے، لیکن وہی شہری جب الیکشن کے دن پولنگ اسٹیشن جاتا ہے، تو تمام تر اخلاقی اصول بھول بھال کر برادری، ذات پات یا ذاتی مفاد کی بنیاد پر پھراُنہی لوگوں کو ووٹ دے آتا ہے۔ اور جب اِن کے رہنماؤں کی کرپشن کے قصّے کہانیاں، شان دار کارنامے سامنے آتے ہیں، تب بھی اپنے پسندیدہ لیڈر کی غلطی ماننے کے بجائے ذہن میں فوراً نت نئی تاویلیں گھڑنے لگتا ہے۔ ’’اس مُلک میں کرپشن کس نے نہیں کی؟ یہ کم ازکم ہمارا کوئی کام تو کروا دیتا ہے۔ ہمارے بندے چُھڑوا لیتا ہے!‘‘حتیٰ کہ شادی بیاہ اور خاندانی تقریبات میں بھی یہی ڈراما روز رچایا جاتا ہے۔
ہم محفلوں میں بیٹھ کر سادگی، نمائش کی مذمّت اور جہیزکی لعنت پرگھنٹوں لیکچر دیتے، سُنتے اور سردُھنتے ہیں، لیکن جب اپنے بچّوں کا معاملہ آتا ہے، تو ’’خاندان میں ناک‘‘ اور’’لوگ کیا کہیں گے‘‘ کی آڑ لےکر دکھاوے اور اسراف کی تمام حدیں پار کر جاتے ہیں۔ دراصل، ہم بحیثیتِ قوم سچائی کا سامنا کرنے سے شدید خوف زدہ ہیں۔ ہم نے اپنی ہر نااہلی، ہر جرم اور ہرعملی تضاد کے لیے ہمیشہ ایک بہترین عقلی بہانہ اور جواز تیار کر رکھا ہوتا ہے۔
بہر کیف، ہمیں جلد از جلدیہ کڑوی سچائی، تلخ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ جب تک ہم اپنی ذات اور اپنے رویوں کے اس بنیادی تضاد کا اعتراف نہیں کریں گے، اُس وقت تک نہ کوئی سیاسی اصلاح ممکن ہے اور نہ ہی کوئی اخلاقی تبدیلی۔ ہمیں بہانے بنانے بند کرنے ہوں گے۔ ضمیر کے آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے قول و فعل کے اس تضاد کی ذمّےداری قبول کرنی ہوگی، وگرنہ خُود فریبی کا یہ عذاب ہماری آنے والی نسلوں کو بھی مفلوج کر کے رکھ دے گا۔