وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ بچوں کی آن لائن حفاظت صرف قانونی نہیں بلکہ سماجی مسئلہ بھی ہے، ٹیکنالوجی کے غلط استعمال پر اسے مکمل طور پر بند نہیں کیا جاسکتا۔
ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ بچوں کے لیے انٹرنیٹ کس حد تک کھلا یا ریگولیٹ ہونا چاہیے، یہ اہم سوال ہے۔ دنیا کے 20 سے 25 ممالک پابندیاں عائد کرچکے ہیں، جبکہ کچھ ممالک میں اس حوالے سے اقدامات کا عمل جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس وسائل محدود ہیں اور ابھی اسکولز کی ضروریات بھی پوری کرنا ہیں۔ نویں جماعت سے بچوں کو کروم بکس فراہم کررہے ہیں، جن میں بعض ویب سائٹس کو وائٹ لسٹ کیا جارہا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ٹیکنالوجی پانی کی طرح ہے، اپنا راستہ نکال لیتی ہے۔ آج جن ویب سائٹس پر پابندی لگاتے ہیں، بچے وی پی این استعمال کرکے ان تک رسائی حاصل کرلیتے ہیں۔
شزا فاطمہ خواجہ کے مطابق ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے پاس ایسے طریقے موجود نہیں کہ وہ تصدیق کرسکیں کہ آن لائن موجود صارف کس عمر کا بچہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ سائبر سیکیورٹی پالیسی اس معاملے کا احاطہ کرتی ہے، جبکہ این سی سی آئی اے سائبر سیکیورٹی سے متعلق مسائل کے لیے قائم کی گئی ہے۔ بچوں کی آن لائن حفاظت کو بھی سائبر سیکیورٹی کے تناظر میں دیکھنا ہوگا۔
وفاقی وزیر آئی ٹی نے کہا کہ ڈیجیٹل مردم شماری بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کے حوالے سے اہم ثابت ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے بچے فری لانسنگ کے ذریعے ڈالرز کما کر ملک میں لاتے ہیں، تاہم ڈیجیٹل دنیا کے فوائد کے ساتھ کئی چیلنجز بھی موجود ہیں۔