• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان پاک لوگوں کی سرزمین ہے مگر پاکیزہ زندگی گزارنا ان کیلئے مشکل تر ہورہا ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے امتحان (سروے) میں ہمارے ملک نے سو میں سے صرف 27نمبر حاصل کئے اور 182ملکوں میں 136 ویں نمبر پر رہا ۔ یعنی 135ممالک اس سے زیادہ ایماندار نکلے۔ وزیراعظم پاکستان نے حکم دیا ہے کہ ٹرانسپیرنسی رپورٹ کا زیادہ گہرائی سے جائزہ لیا جائے۔ آزاد اور غیر جانبدار افراد پر مشتمل کمیٹی بنائی جائے جو ان شعبوں کی نشاندہی کرے جن میں پاکستان بدعنوانی کے خلاف اقدامات میں دوسرے ملکوں سے پیچھے ہے۔

وزیراعظم نے یہ بھی ہدایت کی کہ خامیوں کی نشاندہی صوبائی حکومتوں اور متعلقہ اداروں کی مشاورت سے کی جائے۔ کرپشن یا بدعنوانی ایک قومی مسئلہ ہے اس کی کئی قسمیں اور کئی طریقے ہیں جو دنیا کے دوسرے ملکوں کی طرح پاکستان میں بھی کامیابی سے آزمائے جارہے ہیں۔ ریاست نے ایمانداری اور شفافیت کے تحفظ کیلئے ضابطے مقرر کررکھے ہیں لیکن ان پر عمل وہی لوگ کرتے ہیں جن کے دلوں میں خدا کا خوف ہے۔ گزرتے زمانے کی ہوائے حرص زر کی بدولت ایسے لوگوں کی تعداد مسلسل گھٹتی جارہی ہے۔ رشوت خوروں اختیارات سے ناجائز فائدہ اٹھانے والوں، حقداروں کی حق تلفی کرکے اپنی تجوریاں بھرنے والوں اور کمزوروں کو اپنی طاقت سے دبانے والوںکی پکڑ کم ہی ہوتی ہے اور اگر ہوتی ہے تو بھی برائے نام۔

احتساب کے ادارے بہت سے ہیں ان میں اچھے لوگ بھی ہیں مگرایسے بھی ہیں جو دوسروں کو جھوٹے سچے دعووں پر پکڑتے ہیں انہیں کوئی نہیں پکڑ سکتا، ایسے کئی محکمے اور ادارے ایک دوسرے کی نگرانی کے لئے قائم ہوچکے ہیں جن سے کرپشن کو مزید پر لگ گئے ہیں روز کھربوں کی باقاعدگیوں کے انکشاف ہو رہے ہیں تحقیقات کے لئے کمیٹیاں قائم کی جاتی ہیں ہر طرف شور و غوغا اٹھتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ مجرم بچ نہیں سکیں گے مگر وہ بچ بھی جاتے ہیں ان کی نیک نامی بھی قائم رہتی ہے ۔ اور وہ اپنا دھندہ بھی جاری رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قدرتی اور مالی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود ملک آئی ایم ایف کا محتاج ہے۔ اس کی کڑی شرائط کی وجہ سے وہ پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی کے نام سے بلاجواز ٹیکس کو ختم نہیں کرسکتا ہے ۔ نہ عوام کی اقتصادی حالت بہتر بنانے کے لئے آزادانہ فیصلے کرسکتا ہے ۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے دنیا کے پانچ ملکوں کو مالی شفافیت ، قانون کی حکمرانی ، ریاستی اقدامات درست فیصلوں مضبوط ادارہ جاتی نظام عوام اور میڈیا کو حکومتی کارکردگی پر سوال اٹھانے کی آزادی،سرکاری اداروں اور ملازمین کو ذاتی فائدے کے لئے کسی کو نقصان نہ پہنچانے اور اسی طرح کے کئی مثبت اقدامات کی وجہ سے بہترین قرار دیا ہے۔ ان میں پہلا نام ڈنمارک دوسرا فن لینڈ، تیسرا سنگا پور چوتھا نیوزی لینڈ اور پانچواں ناروے کا ہے ۔ ان میں کوئی اسلامی ملک شامل نہیں ہے اسی طرح پانچ بدترین ملکوں میں جنوبی سوڈان ،صومالیہ ، وینزویلا ،یمن اور لیبیا شامل ہیں اریٹیریا کے نمبر بھی لیبیا اور یمن کے برابر ہیں اسلئے وہ بھی اس صف میں شامل ہے خیر سے اس صف میں کچھ اسلامی ملک بھی شامل ہیں۔ ان ملکوں میں کرپشن کے اسباب میں سرکاری آمدنی اور محکموں کی نگرانی نہ ہونا، سیاسی اور انتظامی قوتوں میں باہمی لڑائی، کمزور انتظامی ڈھانچے ، قانون کا نفاذ نہ ہونا،خانہ جنگی، بد انتظامی، عدم استحکام اور شفافیت کا فقدان شامل ہیں ۔

پاکستان اس وقت جن حالات سے گزر رہا ہے خوش قسمتی سے انکے اثرات اسے تاحال کرپٹ ترین ملکوں میں شامل ہونے سے روکے ہوئے ہیں مگر آئےروز میڈیا میں جو خبریں چھپتی ہیں وہ ضرور لمحہ فکریہ ہیں۔ آن لائن فراڈ کی وجہ سے اسلام آباد کی ایک ذہین ترین لڑکی جو امریکا میں تعلیم حاصل کرنے کا خواب 50لاکھ روپے کی ادائیگی کے باوجود پورا نہ کرسکی ،نے خود کشی کرلی۔ اسلام آباد ہی میں سی ڈی اے میں کروڑوںکے 10پلاٹ جعلسازی سے الاٹ کرنے کا اسکینڈل سامنے آیا ہے ۔ لاہور میں محکمہ اوقاف کے اہلکار بی بی پاک دامن کے مزار پر جمع ہونے والی نذرانے کی رقم میں خرد برد کرنے پر گرفتار کئے گئے۔

اسلام آباد میں تین پولیس والے پکڑے گئے جنہوں نے ڈکیتیوں کیلئے گروہ بنایا ہوا تھا۔ پولیس کو کرپشن میں پہلا نمبر دیا گیا ہے دوسرے نمبر پر عدلیہ کا نام آتا ہے۔ سرکاری محکموں میں شاید ہی کوئی حکومتی دفتر ہو جو نذرانے لے کر کام نہ کرتا ہو۔ خاص طور پر جن اداروں کو کرپشن فراڈ اور غیرقانونی سرگرمیاں روکنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے ان میں سے اکثر دونوں ہاتھوں سے لوٹ مار میں مصروف ہیں ،حتیٰ کے ان کے چوکیدار بھی جو گیٹ پر ڈیوٹی دیتے ہیں اندر آنے جانے کے پیسے وصول کئے بغیر کسی کو داد رسی کیلئے گزرنے نہیں دیتے۔ جس کا کام بن جائے اس سے تو وہ دگنی فیس وصول کرتے ہیں۔ کمزور احتساب، طویل مقدمہ بازی، سزاؤں کے کم امکانات، شفافیت کا فقدان، معلومات کی کمی، پیچیدہ سرکاری طریق کار، غیر ضروری کاغذی کارروائی اور متعدد محکموں کا ایک ہی معاملے میں عمل دخل شہریوں اور کاروباری افراد کیلئے مشکلات پیدا کررہا ہے۔ ان رکاوٹوں سے بچنے کیلئے یا تو وہ رشوت دینے ،ناقص فیصلے قبول کرنے، سزائیں بھگتنے پر مجبور ہیں یا ظلم کو مجبوری سمجھ کر خاموشی اختیار کرنے کا جبر سہہ لیتے ہیں ۔

بانیان پاکستان نے ایسے ملک کا خواب نہیں دیکھا تھا ان کے خواب کو پورا کرنے والے بھی اب کہیں نظر نہیں آرہے۔ صورتحال یہی رہی تو خدا نہ کرے وہ دن بھی آسکتا ہے جب پاکستان کا نمبر136سے بھی پیچھے جاسکتا ہے ۔ ایسی صورتحال سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ کرپشن کو اوپر سے نیچے تک ہر سطح پر روکنے کی نہ صرف تدابیر اختیار کی جائیں بلکہ ان پر سختی سے عمل بھی کرایا جائے کسی ایک بدکار کو پکڑنا صحیح نہیں پورے نظام کی اصلاح کی جائے۔

تازہ ترین