• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جب انسان اپنے دکھ سے صلح کرتے ہیں تو وہ جو ہوا اسے مٹاتے نہیں اور نہ ہی ہونیوالے ظلم کو معاف کرتے ہیں۔ وہ صرف اس زخم کو حال پر حکمرانی کرنے سے روک دیتے ہیں۔ خوف، ذلت اور بے بسی میں صرف ہونیوالی توانائی دوبارہ آزاد ہو جاتی ہے، جو حوصلے، تخلیق اور اتحاد میں بدل جاتی ہے۔ جن قوموں نے یہ کیا، انہوں نے انکار سے نہیں بلکہ سچائی کا سامنا کرتے ہوئے، اور پھر یہ سوچ کر کہ وہ آگے کیا بننا چاہتی ہیں، ایسا کیا۔ جاپان دوسری عالمی جنگ کے بعد مقبوضہ اور برباد حالت میں نکلا، مگر اس نے وہی نظم و ضبط جو کبھی فوجی عزائم میں صرف ہوتا تھا، تعلیم، صنعت اور معیار کی طرف موڑ دیا، اور دو دہائیوں کے اندر دنیا کی دوسری بڑی آزاد منڈی کی معیشت بن گیا۔ جرمنی کا راستہ زیادہ مشکل تھا، ملک دو حصوں میں بٹ گیا، مگر بحالی کیلئے پہلے ہولوکاسٹ کی ذمہ داری کا اعتراف ضروری تھا، اسکے بعد ہی اقتصادی معجزہ ممکن ہوا، اور یہ سب آئینی تحفظات، تعلیم اور قانون کی حکمرانی کی بنیاد پر کھڑا ہوا۔ امریکہ نے 1929ء کے مالی بحران کے صدمے کو بینکاری اصلاحات اور عوامی تعمیراتی منصوبوں میں بدل دیا، اور پھر دوسری عالمی جنگ کی متحرک قوت کو دہائیوں کی سائنسی اور صنعتی برتری میں تبدیل کر دیا۔ چین نے غیر ملکی تسلط، خانہ جنگی اور انقلابی ہلچل کے بعد 1978ء سے اپنی قومی توانائی کو ترقی اور خودانحصاری کی طرف موڑا، کروڑوں لوگوں کو غربت سے نکالا، اگرچہ اسکے اپنے تاریخی محاسبے پر سوالات بدستور موجود ہیں۔ جنوبی کوریا نے استعمار اور جنگ سے نکل کر خود کو ایک عالمی ٹیکنالوجی طاقت میں بدل لیا۔ ویتنام نے 1986 ء میں اپنی معیشت کھولی اور آج جنوب مشرقی ایشیا کی تیزی سے ترقی کرنیوالی معیشتوں میں شمار ہوتا ہے۔ پولینڈ نے جنگ کی تباہی اور سوویت تسلط سے نکل کر یورپی یونین کی مضبوط معیشتوں میں جگہ بنائی۔ جنوبی افریقہ کے سچائی اور مصالحت کمیشن نے اپارتھائیڈ کو مٹایا نہیں، مگر اس نے وہ خون خرابہ روک دیا جس کا بہت سے لوگوں کو خوف تھا، اور دنیا میں ملک کا وقار بحال کیا۔ ان میں سے کسی بھی قوم کو اپنے صدمے سے چھوٹ نہیں ملی۔ انہوں نے صرف اسے اپنی کہانی کا اختتام لکھنے کی اجازت نہیں دی۔ ان تمام کہانیوں میں دو باتیں ایک ساتھ موجود ہیں، اور پاکستان کو دونوں کو تھامنا ہے۔ قومیں صرف اپنے عزم سے شفا نہیں پا سکتیں۔ انہیں اداروں، دیانتدار تاریخ، اور ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو غلطی کو خاموشی سے دبانے کے بجائے اسکا نام لینے کی جرات رکھے۔ شفا کبھی حادثاتی طور پر نہیں ملی، وہ ہمیشہ سوچ سمجھ کر تعمیر کی گئی۔اس میں ایک مشکل پہلو بھی ہے اور وہ ہم سے متعلق ہے۔ ادارے خود بخود نہیں بنتے۔ انہیں لوگ بناتے ہیں، اشرافیہ بھی اور عام شہری بھی، جو یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ الزام تراشی اور قلیل مدتی مصلحت کی پرانی عادتیں اب ان کے کام کی نہیں۔ وجودی دباؤ اکثر یہ فیصلہ کرنے پر مجبور کر دیتا ہے، اور شرمندگی، عجیب طور پر، تاریخ میں سب سے قابلِ اعتماد محرکات میں سے ایک رہی ہے۔ایران اسی جذبے کی، حالانکہ متنازع، ایک تازہ مثال پیش کرتا ہے: ہار ماننے کے بجائے ڈٹے رہنا۔ یہ نہ اسکی پالیسیوں پر فیصلہ ہے جن کی وجہ سے وہ تنہا ہوا، اور نہ ہی اسکے طرزِ عمل کے حق یا مخالفت میں کوئی بیان ہے، بلکہ صرف یہ مشاہدہ ہے کہ قومیں دباؤ کا کیسے جواب دیتی ہیں۔ اس سال کے شروع میں اس پر جو جنگ مسلط کی گئی وہ ایک کہیں زیادہ برتر فوجی طاقت کی جانب سے تھی، اور ایران نے شدید نقصان اٹھایا، مگر نہ وہ ٹوٹا اور نہ ہی اس نے وہ غیرمشروط شرائط قبول کیں جو اس پر عائد کی گئیں۔ کچھ لوگ اسے ایک پرانی ثقافتی یادداشت سے جوڑتے ہیں: کربلا کی کہانی نے کئی نسلوں کے ایرانیوں کو یہ سکھایا ہے کہ تکلیف کا انجام ہار نہیں ہوتا۔ جو بھی توجیہ قبول کی جائے، بار بار کی مشکلات، پابندیوں، تنہائی اور تصادم نے ایک ایسی ہی جذبے کو مضبوط کیا لگتا ہے، غم کو ہتھیار ڈالنے کے بجائے حکمتِ عملی کے صبر میں بدلنا۔ ایران نے اتنی دیر تک ڈٹ کر مذاکرات کا موقع پیدا کیا، اور آج وہ احتیاط کیساتھ اس تعمیرِ نو کے عمل کی طرف کھینچا جا رہا ہے جو دنیا اسکے گرد ترتیب دے رہی ہے۔ اس نے فتح یا دیرپا امن حاصل نہیں کیا، اور جو قیمت اس نے چکائی وہ بھاری اور متنازع رہی، مگر اس نے یہ صلاحیت برقرار رکھی کہ آگے کیا ہونا ہے، اس میں اپنا کردار ادا کر سکے۔خلیج کی کہانی مختلف نقطہ آغاز سے ملتی جلتی ہے۔ تیل سے پہلے، جزیرہ نما عرب دنیا کے مشکل ترین ماحول میں شمار ہوتا تھا: صحرا، شدید گرمی، اور بمشکل زندگی گزارنے کے وسائل۔ تیل نے موقع پیدا کیا، مگر قیادت نے اسے تبدیلی میں بدلا۔ سعودی عرب نے اسی سخت زمین سے دنیا کی سب سے بڑی معیشتوں میں سے ایک تعمیر کی، اور گزشتہ پچیس برسوں میں متحدہ عرب امارات، خاص طور پر دبئی، نے اسی مشکل کو دنیا کے مشہور ترین شہروں میں سے ایک میں بدل دیا، اور ابوظہبی بھی اسی راستے پر چل رہا ہے۔ پاکستان نے اسی دور میں اپنے بارے میں ایک ایسی بات دریافت کی جس پر دیانتدارانہ غور کیا جانا چاہئے۔ اسلام آباد کے ذریعے، ہماری قیادت نے دہائیوں کی سب سے اہم واشنگٹن- تہران بات چیت کی میزبانی کی، اور دونوں فریقوں نے پاکستان کو امن کا دروازہ کھلا رکھنے کا کریڈٹ دیا۔ یہ ہماری جغرافیائی حیثیت، اعتبار، اور کسی کا فریق بنے بغیر بات چیت میں شریک ہونے کی خواہش کا نتیجہ تھا، ایک ایسی بات جو کسی بھی ملک کیلئے کسی بڑی طاقتوں کی جنگ میں دونوں فریقوں کا اعتماد جیتنا نایاب ہے۔

مگر یہاں وہ ایماندارانہ سوال ہے جو ہمیں خود سے پوچھنا چاہیے: کیا سفارتی اعتبار ایک کامیابی ہے، یا محض ایک موقع؟یہ محض ایک موقع ہے، مگر ایک اہم موقع، اور یہ عمل پہلے ہی شروع ہو چکا ہے۔ اصل امتحان یہ ہے کہ ہم اس لمحے کو اقتصادی سفارتکاری، تجارت، علاقائی رابطے، اور مضبوط اداروں میں بدل سکیں جو شہریوں کی زیادہ کارکردگی اور اعتماد کے ساتھ خدمت کریں۔ پاکستان کے اپنے ادارہ جاتی ڈھانچے کو اس موقع اور اس قوم کے مطابق بہتر بنانے کیلئے قدم اٹھائے جا رہے ہیں، تاکہ یہ ملک وہ موقع واقعی استعمال کر سکے جو اس نے کمایا ہے۔ہمیں اپنے اندر بھی جھانکنا ہوگا، الزام لگانے کیلئے نہیں بلکہ یہ سمجھنے کیلئے کہ ہمیں کس نے تشکیل دیا:تقسیم، مشرقی پاکستان کی علیحدگی، سیاسی ہنگامہ آرائی، صوبائی شکایات، فرقہ وارانہ تشدد اور دہشت گردی۔ یہ ہمیشہ تفریق کا سبب نہیں رہنا چاہیے؛ دیانتداری سے انکا سامنا کیا جائے تو یہ قومی اتحاد کو مضبوط بنانے والے اسباق بن سکتے ہیں۔

اپنے ماضی سے صلح کرنے کا مطلب سچائی یا احتساب سے دستبرداری نہیں۔ اس کا مطلب ہے وہ کچھ نام لینا جو ہوا، جنہوں نے تکلیف اٹھائی ان کی عزت کرنا، اور ایسے ادارے بنانا جو اتنے مضبوط ہوں کہ نہ آئندہ نسل کی قیادت وہی غلطیاں دہرائے، اور نہ آنے والی نسل کے شہری انہیں معاف کریں۔ یہ صرف ریاست کا بار نہیں۔ یہ ہم شہریوں، تاجروں، اور اس تارکینِ وطن برادری کی بھی ذمہ داری ہے جو اکثر دور بیٹھ کر تنقید تو کرتی ہے مگر اندر سے حصہ ڈالنے کا مشکل کام نہیں کرتی۔ اوپر بیان کی گئی ہر قوم میں ایسے شہری تھے جنہوں نے صرف فیصلہ سنانے کے بجائے تعمیر کرنے کو چنا، جنہوں نے سرمایہ کاری کی، واپس آئے، اور اس وقت بھی وابستہ رہے جب چلے جانا آسان ہوتا۔ پاکستان کی تبدیلی ریاست تنہا نہیں لکھے گی؛ یہ ہم سب لکھیں گے، یا کوئی نہیں لکھے گا۔کوئی قوم اس وقت حقیقی معنوں میں طاقتور نہیں بنتی جب وہ اپنے زخموں کو بھول جائے، بلکہ اس وقت بنتی ہے جب وہ آخرکار انہیں شفا دے۔

تازہ ترین