• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جس طرح بعض علمی شخصیات صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں، اسی طرح بعض فکری کتابیں بھی صدیوں بعد لکھی جاتی ہیں ۔ انہی کتابوں میں سے ایک شاندار علمی، فکری اور تحقیقی کتاب ’’تھافتُ الملاحدۃ ‘‘ ہے۔ ردِّ الحاد، ارتداد اور جدیدیت پر یہ ایک جامع دستاویز ہے۔ اس میں مغربی تہذیب و ثقافت کا بہترین انداز میں تعارف کروایا گیا ہے۔ علمیات، الہٰیات اور ما بعد الطبعیات کو عام فہم اور سلیس اُسلوب میں بیان کیا گیا ہے۔ نئی جنریشن جو تیزی سے فکری گمراہی کا شکار ہو رہی ہے، ان کو سیدھا راستہ دکھا یا گیا ہے۔ معاشرے میں پھیلتے ہوئے عصر حاضر کے الحادی و فکری چیلنجز کے تناظر میں ایک وقیع علمی و تحقیقی کاوش ہے ۔ اس خوبصورت کتاب کے مصنف حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی صاحب ہیں ۔ علمی دنیا میں یہ کسی تعارف کے محتاج نہیں۔سب ان کے نام اور کام سے واقف ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں:” ردِ الحاد کی اصطلاح سے مراد صرف ملحدین یعنی خدا کا انکار کرنےوالوں کا ردّنہیں ہوتا، بلکہ اس اصطلاح کے تحت جدیدیت میں شامل جملہ موضوعات آ جاتے ہیں، خواہ لبرلزم کا موضوع ہو یا سائٹزم کا موضوع ہو یا پھر فیمینزم اور کیپٹل ازم کا۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ لبرلزم پر مبنی اقدار کے مطابق زندگی گزارنے والا شخص منکر خدا اور ملحد ہو، کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جو اقتصادی میدان میں کیپٹل ازم کو اپنا دستور بنائے ہوئے ہیں، لیکن اس بنیاد پر نہ ان کی تکفیر کی جاتی ہے اور نہ ہی یہ سمجھا جاتا ہے کہ انہوں نے خدا کا انکار کیا ہے۔ البتہ یہ بات طے ہے اگر کوئی شخص خدا کا منکر ہو گا تو وہ ان نظریات کا قائل ضرور ہو گا۔ اس مناسبت سے ردِ الحاد کی اصطلاح جدیدیت کے جملہ موضوعات کے ردّ کے لیے بھی استعمال کی جاسکتی۔یہ کتاب جہاں ایک طرف وجودِ باری اور صفاتِ خدا جیسے خالص الٰہیاتی موضوعات پر ایسے دلائل فراہم کرتی ہے ، جن کو ہم بطورِ خاص ملحد اور سو فسطائی قسم کے افراد کے خلاف پیش کرتے ہیں، تو وہیں دوسری طرف لبرلزم، سانئٹزم، فیمینزم، ٹرانس جینڈرزم اور ارتقاء جیسے جدید موضوعات پر بھی تفصیلی گفتگو کرتی ہے، اسلئے اس کتاب کو ردِ الحاد اور ردِ جدیدیت کا مجموعہ قرار دیا جاسکتا ہے۔سوشل میڈیا کے اس دور میں فتنوں کا ہر طرف بول بالا ہے، داخلی فتنے بھی نئی نئی بوتلوں میں پیش کیے جارہے ہیں اور خارجی فتنے بھی شہوات پرستوں اور شبہات پسندوں کی عقلوں کو مد ہوش کیے ہوئے ہیں، ہمیشہ کی طرح ان فتنوں کی سرکوبی کیلئےابنائے امت کی نظر علماء کرام ہی کی طرف اٹھی ہے۔ملحدین کی طرف سے اسلام کے خلاف اٹھائے جانے والے اعتراضات کا جواب دینا تو بہت آسان تھا، کیونکہ یہ اعتراضات اصلاً مستشرقین کے ذریعے پہلے ہی اٹھائے جاچکے تھے اور اہلِ علم نے متعدد بار ان کا جواب دیا تھا، لیکن برصغیر کے علماء اور طلبہ کے لیے اصل مشکل گزشتہ تین چار صدیوں کے دوران مغربی تہذیب کے پرور دہ افکار و نظریات کی تفہیم اور ان کار د تھا۔ اسکولوں اور کالجوں سے معلومات اخذ کرنے والا طبقہ جب ان بیرونی افکار و نظریات سے متاثر ہوتا ہے، تو اولاً شبہات کا اسیر ہوتا ہے۔ پھر آہستہ آہستہ انکارِ خدا کی بند گلی میں قدم رکھ دیتا ہے۔ ایسے افراد کی آنکھوں پر بندھی ہوئی پٹی کو ہٹانے کےلیے معاصر مغربی افکار و نظریات کا سمجھنا اور ان کا علمی رد کرنا ضروری ہے۔

تھافت الملاحدہ کے بارے میں استاذ محترم جناب مفتی ابو لبابہ شاہ صاحب کہتے ہیں: ’’دینی مدارس سے منطق و فلسفہ کی تدریس کم ہونے اور علمِ کلام قدیم میں اختصاص کارواج ختم ہونے کے بعد بہت مشکل لگ رہا تھا کہ ملحدین و مرتدین کی گز بھر لٹکتی زبانوں کو کون لگام دے گا؟قدیم میں اختصاص کے بغیر جدید کا احیاء ایک نا ممکن سی بات ہے‘‘۔ اس کتاب کا قاری جب اس مشکل کو حل ہوتے دیکھتا ہے تو وہ بغیر رکے ایک ہی نشست میں بیسیوں صفحات پڑھتا چلا جاتا ہے۔ کتاب کی ترتیب کچھ اس طرح سے ہے کہ ہر جلد کے مضامین میں ربط وتسلسل بھی ہے اور ہر جلد اپنے موضوع پر حاوی و محیط بھی ہے۔ قاری کا تعلق کسی بھی طبقے سے ہو، اسے اپنے ذوق کی تسکین ملتی ہے۔ ایک ہی نشست میں کتاب نہیں تو جلد ختم کیے بغیر اٹھا نہیںجاتا۔ہم نے یہ کتاب چھ نشستوں میں پڑھی ہے۔ اس کتاب کی تین خو بیاں ہیں۔ نمبر ایک: یہ کتاب علماء، طلبہ اور عوام کے لیے یکساں مفید ہے۔ اسکول، کالج اور یونیورسٹی کے نصاب میں شامل ہونی چاہیے، تا کہ عصری علوم و فنون حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات فکری گمراہی سے آگاہ ہو سکیں۔ نمبر دو: اس کتاب کا اندازِ تحریر انتہائی شستہ، سلیس، عام فہم اور خوبصورت ہے۔ پڑھنا شروع کریں تو رُکنے کا دل ہی نہیں کرتا۔ فکر، معلومات، ادبی چاشنی اور تربیت ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ نمبر تین : کتاب پڑھنے کے بعد انسان تھوڑی دیر کیلئے سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے اور پھر سوچتے سوچتے معرفتِ الٰہی، وجودِ باری تعالیٰ اور صفاتِ خدا کا قائل ہو کر اللہ کو پا لیتا ہے، اور یہی انسان کی معراج ہے۔

تازہ ترین