• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اکتوبر آتا ہے تو دنیا اپنے اُن لوگوں کے نام سناتی ہے جنہوں نے انسان کو بیماری، جہالت، خوف یا کائنات کے کسی راز سے نجات دلانے میں حصہ ڈالا ہوتا ہے۔ نوبیل انعامات کی خبریں پڑھتے ہوئے ہم بھی خوش ہوتے ہیں، مگر اس خوشی کے پیچھے ایک کسک رہ جاتی ہے: ان ناموں میں ہمارے لوگ زیادہ کیوں نہیں ہوتے؟ کیا پاکستان کی مٹی ذہانت پیدا کرنے میں بخیل ہے، یا ہم اپنے حصے کے ہیروں کو تراشنے کا ہنر بھول گئے ہیں؟جھنگ کا عبدالسلام، میاں چنوں کا ایوب اومایا، کراچی کی نرگس ماولوالا اور آصفہ اختر، گمبٹ کے رحیم بخش بھٹی، انسانیت کے عبدالستار ایدھی اور ادب کے شیخ ایاز بتاتے ہیں کہ اس سرزمین کا دامن خالی نہیں۔ ہمارے پاس ذہن بھی ہیں، خواب بھی اور محنت کرنیوالے لوگ بھی۔پاکستان کیلئے نوبیل انعام کوئی ناممکن خواب نہیں۔ ڈاکٹر عبدالسلام نے 1979ء میں طبیعیات اور ملالہ یوسف زئی نے 2014ء میں امن کا نوبیل انعام حاصل کیا۔ ایک نے کائنات کی بنیادی قوتوں کو سمجھنے میں حصہ ڈالا، دوسری نے بچوں، خصوصاً لڑکیوں کے حقِ تعلیم کے لیے آواز بلند کی۔ ملالہ اس وقت صرف سترہ برس کی تھیں۔ ان دونوں کامیابیوں کے درمیان پینتیس سال کا وقفہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ انفرادی صلاحیت کو مسلسل قومی کامیابی میں بدلنے کیلئے ہم نے کیا نظام بنایا؟

ڈاکٹر عبدالسلام (1926ء تا 1996ء) نے شیلڈن گلاشو اور اسٹیون وائن برگ کے ساتھ نوبیل انعام حاصل کیا۔ ان کی تحقیق نے برقی مقناطیسی اور کمزور جوہری تعاملات کو ایک مشترکہ نظریاتی ڈھانچے میں سمجھنے کی راہ ہموار کی۔ یہ محض کسی پاکستانی کا اعزاز نہیں، جدید طبیعیات کی ایک بنیادی کامیابی تھی۔ مگر اپنے وطن میں مطلوبہ تحقیقی سہولتیں نہ ملنے کے باعث وہ 1954ء میں کیمبرج چلے گئے۔ ان کی اپنی سوانح میں اس علمی تنہائی کا ذکر موجود ہے۔ ہمیں ان کی کامیابی پر فخر ضرور کرنا چاہیے، لیکن اس سوال سے بھی گریز نہیں کرنا چاہیے کہ ایک غیرمعمولی ذہن کیلئے وطن میں آگے بڑھنے کی گنجائش کیوں کم پڑ گئی؟ڈاکٹر عبدالقدیر خان (1936ء تا 2021ء) ہمارے بچھڑے ہوئے علمی اور فنی سرمائے کا ایک اور اہم نام ہیں۔ وہ دھاتیات کے ماہر تھے اور یورینیم کی افزودگی کی صلاحیت پیدا کرنے میں ان کا مرکزی کردار رہا۔ کہوٹہ میں پیچیدہ ٹیکنالوجی، تربیت یافتہ افرادی قوت اور ادارہ جاتی صلاحیت کی تعمیر اس بات کا ثبوت تھی کہ پاکستان کسی مشکل قومی ہدف کے لیے وسائل اور توجہ یکجا کرے تو بڑی فنی پیش رفت کرسکتا ہے۔ ان کی خدمات کو نوبیل انعام کا معیار قرار دینے کے بجائے ہمیں ان سے ادارے بنانے اور مہارت پیدا کرنے کا سبق لینا چاہیے۔ صحت، زراعت، توانائی اور ماحولیات کو بھی ایسی ہی مستقل قومی توجہ درکار ہے۔

ادب کی طرف آئیں تو شیخ ایاز (1923ء تا 1997ء)، فیض احمد فیض (1911ء تا 1984ء)، سعادت حسن منٹو (1912ء تا 1955ء) اور قرۃ العین حیدر (1927ء تا 2007ء) جیسے نام سامنے آتے ہیں۔ ایاز نے سندھی شاعری کو آزادی، محبت اور انسان دوستی کی نئی وسعت دی؛ فیض نے دکھ اور مزاحمت کو ایسا شعری آہنگ دیا جو سرحدوں سے آگے پہنچا۔ منٹو نے تقسیم اور سماجی منافقت کے زخم کھول کر دکھائے۔ سوال یہ ہے کہ ہم نے اپنی زبانوں کی بڑی تخلیقات کے معیاری تراجم اور عالمی اشاعت کیلئے کتنی مستقل محنت کی؟

نوبیل نہ ملنا کسی ادیب کی عظمت کو کم نہیں کرتا، لیکن عالمی قاری تک نہ پہنچ پانا ضرور ایک محرومی ہے۔ شیخ ایاز کیلئے جس سنجیدہ ترجمے کی ضرورت تھی، وہ آج بھی باقی ہے۔ امر جلیل جیسے تخلیق کاروں کے انسان دوستی، رواداری اور سماجی انصاف کے پیغام کو بھی زبان کی سرحد سے آگے لے جانے کی ضرورت ہے۔ ترجمہ صرف الفاظ بدلنے کا نام نہیں۔ اسے ادبی مہارت، معتبر ناشر اور مسلسل تعارف چاہیے۔

انسانی خدمت کی تاریخ میں عبدالستار ایدھی اور بلقیس ایدھی کا ذکر کیے بغیر بات ادھوری رہتی ہے۔ ایمبولینس، بے سہارا لوگوں کیلئے پناہ، لاوارث بچوں کی نگہداشت اور مصیبت میں گھرے انسان کی مدد، ان دونوں نے خدمت کو روزمرہ زندگی کا کام بنا دیا۔ انکی عظمت کسی انعام کی محتاج نہیں تھی۔ ایدھی کی زندگی یہ بتاتی ہے کہ انسانیت کیلئے بڑا کام کبھی کبھی ایک چھوٹے سے آغاز اور عمر بھر کی پابندی سے پیدا ہوتا ہے۔آئی اے رحمان (1930ء تا 2021ء) نے انسانی حقوق، جمہوریت، مذہبی رواداری اور محروم طبقات کیلئے مسلسل جدوجہد کی۔ ایسے لوگ معاشرے کا اخلاقی حافظہ ہوتے ہیں۔ ان کی تحریریں، دلائل اور تجربات محفوظ نہ کیے جائیں تو اگلی نسل کو ہر جدوجہد نئے سرے سے شروع کرنا پڑتی ہے۔یہ سب ہمارے بچھڑے ہوئے لوگ ہیں، مگر ہمارے سامنے زندہ مثالیں بھی موجود ہیں۔ گمبٹ کے ڈاکٹر رحیم بخش بھٹی ان میں نمایاں ہیں۔ انہوں نے گمبٹ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز’گمس‘ کی تعمیر و ترقی میں بنیادی کردار ادا کیا۔ڈاکٹر ادیب رضوی نے سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن’ ایس آئی یو ٹی‘ کے ذریعے علاج کو مریض کی مالی حیثیت سے الگ کرنے کی عملی کوشش کی۔ گردوں کے علاج، ڈائلیسس اور پیوندکاری کے شعبوں میں ان کے ادارے کی خدمات بتاتی ہیں کہ انسانی وقار کو مرکز بنا کر طب کا نظام تعمیر کیا جاسکتا ہے۔ گمس اور ایس آئی یو ٹی جیسے اداروں کو طبی تحقیق کے مضبوط مراکز بنانا پاکستان کے لیے ایک بڑا موقع ہے۔ کراچی میں پرورش پانے والی ڈاکٹر نرگس ماولوالا اس سائنسی ٹیم کا حصہ تھیں جس نے لائگو کے ذریعے ٹکراتے ہوئے بلیک ہولز سے پیدا ہونے والی کششِ ثقل کی لہروں کی پہلی براہِ راست شناخت کا اعلان 2016ء میں کیا۔ انہیں 2010ء میں میک آرتھر فیلوشپ بھی ملی۔ وہ خود 2017ء کے نوبیل انعام یافتگان میں شامل نہیں تھیں، مگر ان کی تحقیق اس بڑی دریافت کے اجتماعی سفر کا اہم حصہ ہے۔ یہی جدید سائنس کی حقیقت ہے: چند نام اعزاز پاتے ہیں، ان کے پیچھے بڑی ٹیمیں، آلات اور کئی برس کی محنت ہوتی ہے۔ ڈاکٹر عطاء الرحمٰن کی قدرتی کیمیائی مرکبات پر تحقیق اور اعلیٰ تعلیم میں خدمات بھی اسی سلسلے کا حصہ ہیں۔

ڈاکٹر محمد صبیح انور کی تحقیق میں روشنی، مقناطیسیت، اسپنٹرونکس اور کوانٹم کنٹرول شامل ہیں۔ انہوں نے تجربات کے ذریعے طبیعیات کی تعلیم کو بہتر بنانے پر بھی کام کیا ہے۔ ڈاکٹر زہرا حسن کی تپِ دق، مدافعتی ردعمل اور جراثیم کی ادویات کے خلاف مزاحمت سے متعلق تحقیق ہمارے طبی مسائل سے براہِ راست تعلق رکھتی ہے۔ ان لوگوں کو مستقل تحقیقی معاونت دینا کسی فرد پر احسان نہیں، قومی ضرورت پوری کرنا ہے۔ یہ فہرست مکمل نہیں۔ میرے محدود مطالعے سے باہر بھی پاکستان کی جامعات، اسپتالوں، تجربہ گاہوں اور بیرونِ ملک بہت سے باصلاحیت لوگ ہوں گے۔ ہر غیرمعمولی ذہن مشہور نہیں ہوتا، اور ہر اہم کام اخبار کی سرخی نہیں بنتا۔ ہمیں ان لوگوں تک بھی پہنچنا ہے جو خاموشی سے کام کر رہے ہیں، مگر وسائل، رہنمائی یا موقع نہ ملنے کے باعث آگے نہیں بڑھ پاتے۔

نوبیل کی اگلی خبر کا انتظار ضرور کیجیے، مگر آج کے باصلاحیت ذہن کو انتظار میں نہ رکھیے۔ ہیروں کی موجودگی پر فخر تب مکمل ہوگا جب ان کی روشنی ہمارے اپنے گھروں، اسپتالوں، درس گاہوں اور آنے والی نسلوں تک بھی پہنچے۔

تازہ ترین