وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے لوگ چاہتے ہیں کہ 9 مئی کے واقعات اور دھرنوں کا دور واپس آ جائے لیکن اب ایسا نہیں ہو گا، اب دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری یکسوئی کے ساتھ لڑی جائے گی۔
قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے وزیرِ دفاع نے تحریکِ انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی ایک ایسے جنازے کی نشاندہی کریں جس میں وہ شریک ہوئے ہوں۔
ان کا کہنا ہے کہ میں جیل میں قید کے دوران جیل کا کھانا کھاتا تھا اور سردی میں میرے پاس کمبل بھی نہیں تھا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ یہاں ایک شخص کی رہائی کو مسئلہ بنایا گیا، ہم نے نواز شریف اور مریم نواز کی رہائی کو مسئلہ نہیں بنایا اور پارلیمنٹ آتے رہے۔
وزیرِ دفاع نے کہا کہ خیبر پختون خوا کے وزیرِ اعلیٰ کو شاید لیز پر وزارتِ اعلیٰ دی گئی تھی اور وہ اسے مزید لیز پر دینا چاہتے تھے، وہ 13 سے 14 ماہ اقتدار میں رہے، سہیل آفریدی کس سے ہدایات لیتے تھے؟ وہ افغانستان میں بیٹھے ایک شخص سے ہدایات لیتے تھے۔
خواجہ آصف نے سوال اٹھایا کہ خیبر پختون خوا میں کانوں کا ٹھیکہ اس وقت کس کے پاس ہے؟ کانوں کا ٹھیکہ رکھنے والا شخص امریکا میں بیٹھا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیرِ داخلہ نے گزشتہ روز سینیٹ میں پوری کہانی بیان کی کہ حکومت نے کتنی لچک دکھائی، حکومت کے پاس ہنگامی اقدام کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا تھا، یہ لوگ کس طرح ڈھٹائی سے اپنے لیے رعایتوں کا تقاضہ کرتے ہیں۔
وزیرِ دفاع نے کہا کہ پارلیمنٹ آنے کے لیے ہیلی کاپٹر کو رکشہ بنایا ہوا تھا، اگر ایک شخص افغانستان میں بیٹھ کر خیبر پختون خوا کی حکومت چلا رہا ہو تو پھر ایسے ہی حالات پیدا ہوتے ہیں۔
خواجہ آصف کے مطابق ایک مسودے پر دستخط ہوئے لیکن ویٹو کا اختیار ایک روپوش شخص کے پاس تھا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ بانیٔ تحریکِ انصاف سے ملاقات نہیں ہوتی، حالانکہ ملاقاتیں ہوتی ہیں، بس انہیں عوام کے سامنے نہیں لایا جاتا۔