وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کسی ایک آپریشن میں بھی فوج کے ساتھ نہیں گئے، سابق وزیر اعلیٰ کہتے تھے میں یہ سیاسی طور پر افورڈ نہیں کرسکتا، ہم کراچی سے پشاور جنازوں کیلئے پہنچ جاتے تھے لیکن صوبائی حکومت سے کوئی نہیں آتا تھا۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ کوشش کر رہا تھا کہ اپوزیشن کی وزیراعظم سے ملاقات ہوجائے، ہمارا دل نہیں تھا کہ ایمرجنسی لگائیں اس سے بچنے کی پوری کوشش کی، ذاتی طور پر کئی بار سہیل آفریدی سے ملا ہوں، مل کر پانچ اضلاع میں پولیس کو مضبوط کرنے کا پلان بنایا تھا، سہیل آفریدی کو کون روکتا تھا وہ الگ بات ہے، ہم تو کہتے تھے کہ لیڈ وزیراعلیٰ لیں لیکن وہ تیار نہ تھے، سابق وزیر اعلیٰ کہتے تھے میں یہ سیاسی طور پر افورڈ نہیں کر سکتا۔
محسن نقوی نے کہا کہ پوری کوشش کی کہ کے پی حکومت کو آن بورڈ لیں اور دہشتگردی کے خلاف شانہ بشانہ لڑیں، پریس ریلیز نکلوالیں، انہوں نے دہشتگردی کی مذمت نہیں کی، اسد قیصر نے دہشتگردی کے خلاف بات کی، اسد قیصر کو کہا آپ کی اور صوبائی حکومت کی بات میں بہت فرق ہے، سب نے دہشتگردی کے خلاف بات کی۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ حتیٰ الامکان کوشش کی کہ یہ اقدام نہ کرنا پڑے، آج بنوں میں جوانوں کی شہادت ہو رہی ہے اور اگلے دن وزیر اعلیٰ فوج کے خلاف تقریر کر رہا ہے، صوبے میں ایپکس کمیٹی بنوانے کیلئے بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جس دن ہمارے مذاکرات ہوئے ہم نے دہشتگردی پر بات کی، پلیز یہ نا کہیں کہ ہم نے دہشتگردی کو مس یوز کیا ہے، مذاکرات سے ہم نہیں آپ اٹھ کر گئے تھے، مذاکرات ہر بار ہم نے آکر کیے۔
انہوں نے کہا کہ راجا ناصر اور بیرسٹر گوہر سے پوچھیں کیا بانی پی ٹی آئی کے ڈاکٹرز سے ان کی میٹنگز نہیں کروائیں، آنکھ والے مسئلے میں جو جو چیز کہی ہم نے مانی، آپ اپنی صوبائی لیڈرشپ کے ساتھ بیٹھیں اور حل نکالیں، کیا ہم نے بیرسٹر گوہر اور علامہ ناصر کو ڈاکٹروں کی بریفنگ نہیں کروائیں، جب بھی طبیعت خرابی کا میسج آیا اُسی دن کیا انہیں اسپتال نہیں لے جایا گیا۔