• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ خطے میں پائیدار امن صرف طاقت کے استعمال سے نہیں، بلکہ سیاسی بصیرت، باہمی احترام، سفارت کاری اور تنازعات کے پُرامن حل سے ممکن ہے۔ سعودی عرب نے خطے میں امن و استحکام کیلئے سفارتی کوششوں، مذاکرات اور سیاسی مفاہمت کی حمایت کی ہے۔ اس پس منظر میں سعودی سرزمین پر حوثی ملیشیا کے میزائل اور ڈرون حملے محض ایک ملک کی سلامتی کا مسئلہ نہیں، بلکہ بین الاقوامی قانون، علاقائی استحکام اور شہریوں کے تحفظ سے متعلق ایک سنگین معاملہ ہیں۔اقوام متحدہ کا آرٹیکل 2(4) ریاستوں کو دوسری ریاستوں کی علاقائی سالمیت یا سیاسی خودمختاری کے خلاف طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی سے روکتا ہے۔ کسی ملک کی سرزمین پر غیر قانونی مسلح حملے، خصوصاً شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حملے، بین الاقوامی امن و سلامتی کے بنیادی اصولوں کے منافی ہیں۔

سعودی عرب پر حوثی میزائل حملوں کے معاملے میں اہم بات یہ ہے کہ سلامتی کونسل نے بھی اس خطرے کو نظرانداز نہیں کیا۔ 7 اگست 2026 کے بیان میں کونسل کے ارکان نے سعودی عرب کے خلاف حوثی میزائل حملوں کی مذمت کی، جبکہ 18 ستمبر 2026ءکے بیان میں شہریوں اور توانائی کی تنصیبات کو متاثر کرنے والے حملوں پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا گیا۔ سلامتی کونسل نے بین الاقوامی انسانی قانون اور متعلقہ قراردادوں کی پابندی پر بھی زور دیا جویہ واضح کرتا ہے کہ سعودی عرب کا مؤقف محض دو فریقوں کے سیاسی اختلاف تک محدود نہیں، بلکہ اس میں ریاستی خودمختاری، شہریوں کے تحفظ اور عالمی قوانین کی پاسداری جیسے بنیادی اصول شامل ہیں۔

یمن کا بحران اچانک پیدا نہیں ہوا۔ عرب بہار کے بعد 2011ءمیں شروع ہونے والی سیاسی تبدیلیوں، اقتدار کی منتقلی، داخلی اختلافات اور مسلح گروہوں کے عروج نے ملک کو عدم استحکام کی طرف دھکیلا۔ 2014ءمیں حوثیوں نے دارالحکومت صنعاء پر قبضہ کر لیا، جس کے بعد یمن کا سیاسی بحران ایک وسیع علاقائی تنازع میں تبدیل ہونے لگا۔2015میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے قرارداد 2216منظور کی، جس میں یمن کی سیاسی منتقلی کے عمل کی حمایت، مخصوص افراد پر اسلحے کی پابندی اور سیاسی عمل کی بحالی کے لیے اقدامات شامل تھے۔ اس قرارداد نے یمن کی قانونی حکومت اور بحران کے سیاسی حل کے حوالے سے بین الاقوامی فریم ورک متعین کیا۔

سعودی عرب کی سفارتی پالیسی کا ایک اہم پہلو یہ رہا ہے کہ یمن کے مسئلے کا حل مذاکرات، جنگ بندی اور جامع سیاسی تصفیے میں تلاش کیا جائے۔ اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے یمن نے فروری 2024 میں سلامتی کونسل کو بتایا تھا کہ دسمبر 2023ءمیں یمنی فریقوں نے ملک گیر جنگ بندی، شہریوں کے حالات بہتر بنانے اور یمنی سیاسی عمل دوبارہ شروع کرنے کے حوالے سے وعدے کیے تھے۔ انہوں نے ان کوششوں میں سعودی عرب اور عمان کے کردار کو سراہا۔

ستمبر 2023ءمیں بھی اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی نے ریاض میں سعودی حکام کے ساتھ جنگ بندی، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی اور جامع سیاسی عمل کی بحالی پر بات چیت کی تھی۔یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہےکہ جب مذاکرات کے ذریعے جنگ بندی اور سیاسی مفاہمت کے امکانات موجود ہوں تو میزائل اور ڈرون حملوں کے ذریعے کشیدگی میں اضافہ کس کے مفاد میں ہے؟ اس کا سب سے زیادہ نقصان عام یمنی شہریوں، سعودی شہریوں اور پورے خطے کے امن کو پہنچتا ہے۔

سعودی عرب کی اہمیت صرف اس کی جغرافیائی حیثیت یا معاشی قوت تک محدود نہیں۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں حرمین شریفین کی موجودگی کے باعث اس سرزمین کو پوری مسلم دنیا میں خصوصی مذہبی مقام حاصل ہے۔ دنیا بھر سے لاکھوں عازمین حج اور عمرہ کیلئے سعودی عرب آتے ہیں۔ انکی سلامتی، عبادت کی آزادی اور محفوظ آمدورفت کا تحفظ ایک غیر معمولی انسانی اور مذہبی اہمیت رکھتا ہے۔تاہم اس معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے قانونی اصول واضح رہنا چاہیے: حرمین شریفین کی حرمت اور اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے، جبکہ شہری آبادی، شہری تنصیبات اور عبادت گاہوں کا تحفظ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت بھی اہم ہے۔ کسی بھی فریق کو ایسے مقامات اور ان کے آس پاس موجود شہریوں کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کا حق حاصل نہیں۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے قرارداد 2722، مورخہ 10جنوری 2024، میں حوثیوں سے تجارتی جہازوں پر حملے فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا اور بین الاقوامی قانون کے مطابق بحری جہازوں کے تحفظ کے حق کو تسلیم کیا۔اسی طرح اگست 2026 میں سلامتی کونسل کے ارکان نے سعودی عرب پر میزائل حملوں اور تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے بحری آمدورفت کے حقوق اور آزادیوں کے تحفظ پر زور دیا۔یہ صورت حال واضح کرتی ہے کہ حوثی حملوں کے اثرات کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہتے۔ ان کے نتائج عالمی تجارت، سمندری سلامتی اور علاقائی سفارت کاری تک پھیل سکتے ہیں۔

سعودی عرب اور یمن کے درمیان جغرافیائی قربت اور تاریخی تعلقات اس بات کے متقاضی ہیں کہ یمن میں امن و استحکام کو خطے کی مشترکہ ترجیح بنایا جائے۔ ایک مستحکم، خودمختار اور متحد یمن نہ صرف یمنی عوام بلکہ سعودی عرب اور تمام خلیجی ممالک کے مفاد میں ہے۔اس مقصد کیلئے ضروری ہے کہ یمن کے تمام متعلقہ فریق سیاسی عمل میں شریک ہوں، جنگ بندی کی پاسداری کریں، انسانی امداد کی رسائی یقینی بنائیں اور ایسے سمجھوتے کی طرف بڑھیں جو کسی بیرونی دباؤ یا مسلح طاقت کے بجائے یمنی عوام کی سیاسی خواہشات کی نمائندگی کرے۔

بین الاقوامی برادری بھی سعودی عرب کے خلاف حملوں اور شہریوں کو درپیش خطرات پر واضح مؤقف اختیار کرے، متعلقہ سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد کی حمایت کرے اور یمن میں سیاسی تصفیے کیلئے اقوام متحدہ کی کوششوں کو مضبوط بنائے۔اس کے ساتھ ساتھ اسلحے کی غیر قانونی منتقلی روکنا، انسانی امداد کی فراہمی بہتر بنانا اور تمام فریقوں کو بین الاقوامی قانون کا پابند بنانا بھی ناگزیر ہے۔حوثی قیادت کو بھی چاہئے کہ وہ میزائل اور ڈرون حملوں کے بجائے سیاسی مکالمے کو ترجیح دے اور یمن کو مزید تباہی سے بچانے کیلئے سنجیدہ اقدامات کرے۔

تازہ ترین