خیبر پختونخوا آج اپنی تاریخ کے ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے۔ صوبہ بدامنی، سیاسی عدم استحکام، معاشی غیر یقینی، بے روزگاری اور کمزور طرزِ حکمرانی جیسے باہم مربوط مسائل سے دوچار ہے۔ گورنر راج کے نفاذ نے پہلے سے پیچیدہ صورتحال میں ایک نئی آئینی اور انتظامی جہت کا اضافہ کر دیا ہے۔ جہاں وفاقی حکومت نے اس اقدام کو بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال سے جوڑا ہے، وہیں اس نے سیاسی اختلافات اور جمہوری نمائندگی سے متعلق سوالات کو بھی جنم دیا ہے۔تاہم، اصل سوال یہ نہیں کہ صوبے پر حکومت کون کرے گا، بلکہ یہ ہے کہ خیبر پختونخوا کو پائیدار امن، سیاسی استحکام، معاشی ترقی اور عوامی اعتماد کی راہ پر کیسے گامزن کیا جائے۔ محض انتظامی بندوبست میں تبدیلی ان مسائل کا حل نہیں جو کئی دہائیوں میں پیدا ہوئےہیں۔ ضرورت ایک جامع حکمتِ عملی کی ہے جو بحران کی بنیادی وجوہات کا تدارک کرے اور ریاستی اداروں کی عوام کو تحفظ اور خدمات فراہم کرنے کی صلاحیت بحال کرے۔
امن پہلی ترجیح ہے، لیکن پائیدار امن صرف سکیورٹی اقدامات سے ممکن نہیں۔خیبر پختونخوا، خصوصاً جنوبی اضلاع اور افغانستان سے متصل علاقوں نے دہشت گردی کی بھاری قیمت ادا کی ہے۔ سکیورٹی اہلکار اور عام شہری مسلسل خطرات سے دوچار ہیں، کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں، سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے اور تعلیم و صحت کی سہولتوں کی فراہمی میں رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں۔ ضرورت ایک مربوط، انٹیلی جنس پر مبنی انسدادِ دہشت گردی حکمتِ عملی کی ہے، جس میں وفاقی و صوبائی حکومتیں، پولیس، محکمہ انسدادِ دہشت گردی اور متعلقہ سکیورٹی ادارے مشترکہ طور پر کام کریں۔ پولیس کو جدید آلات، پیشہ ورانہ تربیت، مناسب افرادی قوت، فرانزک سہولتوں اور مؤثر معلوماتی رابطہ کاری سے مضبوط بنانا ہوگا۔
تاہم، سکیورٹی کارروائیوں کے ساتھ سیاسی و سماجی اقدامات بھی ضروری ہیں۔ قبائلی عمائدین، علمائے کرام، منتخب نمائندوں، سول سوسائٹی اور نوجوانوں کو امن کے قیام میں شریک کیا جائے۔ ضم شدہ اضلاع میں ترقی، روزگار، انصاف، پولیسنگ اور انتظامی انضمام سے متعلق عوامی مسائل کو ترجیح دی جائے۔ افغانستان کے ساتھ مؤثر سرحدی انتظام اور مناسب تعاون بھی اس حکمتِ عملی کا لازمی حصہ ہونا چاہیے۔
دوسرا ستون سیاسی مفاہمت ہے۔وفاقی حکومت، پی ٹی آئی، دیگر سیاسی جماعتوں اور متاثرہ اضلاع کے نمائندوں کے درمیان بامقصد مذاکرات کیے جائیں۔ ان کا مقصد ہر اختلاف ختم کرنا نہیں، بلکہ امن، عوامی خدمات، معاشی بحالی اور سیاسی معمولات کی بحالی پر کم از کم اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہونا چاہیے۔تیسرا ستون مؤثر اور جواب دہ طرزِ حکمرانی ہے۔عوام حکومت کی کارکردگی کو نعروں سے نہیں بلکہ روزمرہ زندگی میںملنے والی سہولتوںسے جانچتے ہیں۔ پولیس کا بروقت ردعمل، عدالتوں سے انصاف، اسکولوں میں معیاری تعلیم، اسپتالوں میں علاج اور سرکاری دفاتر میں شفاف خدمات ہی ریاست پر اعتماد کی بنیاد ہیں۔صوبے میں انتظامی اصلاحات کا ایک مرکوز پروگرام شروع کیا جائے۔ ہر محکمے کی ذمہ داریاں واضح ہوں، کارکردگی کے قابلِ پیمائش اہداف مقرر کیے جائیں اور نتائج کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے۔
چوتھا ستون معاشی بحالی اور روزگار ہے۔بے روزگاری اور محدود معاشی مواقع، خصوصاً نوجوانوں کیلئے، صوبے کے بڑے مسائل ہیں۔ بدامنی سرمایہ کاری روکتی ہے، جبکہ مسلسل محرومی عوامی اداروں پر اعتماد کم کرتی ہے اور انتہاپسند عناصر کو استحصال کے مواقع فراہم کر سکتی ہے۔خیبر پختونخوا میں زراعت، معدنیات، سیاحت، گلہ بانی، پن بجلی، اطلاعاتی ٹیکنالوجی اور تجارت کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ ان سے فائدہ اٹھانے کیلئے بہتر بنیادی ڈھانچہ، آسان کاروباری ضابطے، مالی وسائل تک رسائی اور سرکاری و نجی شعبے کے درمیان مؤثر شراکت داری ضروری ہے۔صوبائی معاشی پروگرام میں ایسے شعبوں کو ترجیح دی جائے جو نسبتاً کم مدت میں زیادہ روزگار پیدا کر سکیں۔ جنوبی اضلاع میں زراعت، تجارت اور چھوٹی صنعتوں کو فروغ دیا جائے، جبکہ ضم شدہ اضلاع میں سڑکوں، تعلیم، صحت، ڈیجیٹل رابطوں اور فنی تربیت پر سرمایہ کاری کی جائے۔
پانچواں ستون مالی انصاف اور ترقیاتی وعدوں کی تکمیل ہے۔صوبے کی سکیورٹی ذمہ داریوں اور ترقیاتی ضروریات کیلئے قابلِ اعتماد مالیاتی نظام درکار ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں انسدادِ دہشت گردی کے اخراجات، زیرِ التوا مالی معاملات اور ضم شدہ اضلاع کی ضروریات کا مشترکہ جائزہ لیں۔
قومی مالیاتی کمیشن کے 2010 کے انتظام کے تحت خیبر پختونخوا کیلئے اضافی ایک فیصد حصے کا مقصد صوبے کے غیر معمولی سکیورٹی بوجھ میں مدد فراہم کرنا تھا۔ ان وسائل کے استعمال اور موجودہ مالی ضروریات کا شفاف جائزہ لیا جائے۔
وفاقی و صوبائی حکومتوں کے درمیان ایک مالیاتی معاہدہ ہونا چاہیے، جس میں فنڈز کی فراہمی، ترجیحی اخراجات، شفافیت اور قابلِ پیمائش نتائج واضح ہوں۔ ترقیاتی وسائل کی تقسیم میں غربت، بدامنی، نقل مکانی اور محرومی کو بنیاد بنایا جائے، نہ کہ سیاسی وابستگی کو۔چھٹا ستون انصاف اور عوامی اعتماد کی بحالی ہے۔امن صرف تشدد کی عدم موجودگی نہیں، بلکہ انصاف، عزت اور ریاستی اداروں پر اعتماد کا نام بھی ہے۔ شہریوں کو بروقت انصاف، مؤثر تنازعات کے حل اور بنیادی حقوق کے تحفظ کی ضمانت ملنی چاہیے۔ دہشت گردی اور نقل مکانی سے متاثرہ خاندانوں کی بحالی اور معاوضے کی فراہمی شفاف طریقے سے کی جائے۔
آخرکار، صوبے کو بحالی کے لیے ایک واضح اور مدت بند لائحۂ عمل درکار ہے۔ابتدائی 90 دنوں میں شہریوں کے تحفظ، پولیس کی استعداد، سیاسی مذاکرات، بنیادی خدمات کے تسلسل اور صوبے کی فوری ضروریات کے جائزے پر توجہ دی جائے۔ اگلے ایک سال میں ضلعی ترقی، روزگار، انتظامی اصلاحات، انصاف تک رسائی اور رکے ہوئے منصوبوں کی تکمیل کو ترجیح دی جائے۔ اگلے تین سے پانچ سال میں معاشی تنوع، بہتر تعلیم و صحت، مؤثر مقامی حکومت اور علاقائی محرومیوں میں کمی کے لیے مستقل اصلاحات کی جائیں۔خیبر پختونخوا کے بحران کا حل کسی ایک ادارے، سیاسی جماعت یا انتظامی بندوبست میں نہیں۔ اس کیلئے وفاق اور صوبے کے درمیان تعاون، پیشہ ورانہ سکیورٹی اداروں، مؤثر سول انتظامیہ اور مقامی آبادی کی بامعنی شراکت ضروری ہے۔
موجودہ غیر معمولی انتظام طویل المدت سیاسی اور ترقیاتی اصلاحات کا متبادل نہیں بننا چاہیے۔ اسی طرح سیاسی معمولات کی بحالی بھی اس وقت تک مکمل کامیابی نہیں ہوگی جب تک بدامنی، بے روزگاری اور کمزور حکمرانی کے بنیادی مسائل حل نہ ہوں۔خیبر پختونخوا کے عوام خوف سے آزادی، سیاسی محاذ آرائی سے نجات، منصفانہ حکمرانی اور بلاامتیاز معاشی مواقع کے مستحق ہیں۔ایک پُرامن اور خوشحال خیبر پختونخوا کا سفر تب شروع ہوگا جب ہر کوئی یہ تسلیم کرے کہ صوبہ اقتدار کی غنیمت نہیں، بلکہ ایک امانت ہے جس کی حفاظت اور خدمت سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔