• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان میں کتنی غربت ہے۔ اس کا اندازہ اعداد و شمار سے نہیں لگایا جا سکتا۔ غربت جاننے کیلئے غریب گھرانوں سے ملکر ان کے حالات جاننا ضروری ہے۔ میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں جو ملک کے تمام غریبوں پر صادق آتی ہے۔ ہمارے گھر میں جو صفائی کرنے والی عورت آتی ہے اس کے چار بچے ہیں۔ اسکے خاوند کو کبھی کام ملتا ہے اور کبھی نہیں اور بیماری کی حالت میں وہ کام پر نہیں جا سکتا۔ اس کے بچوں میں سب سے بڑا اس کا لڑکا ہے۔ جو چند برس پہلے ساتویں یا آٹھویں جماعت میں پڑھتا تھا۔ وہ بچہ ذہین تھا اور پڑھائی میں اچھا تھا۔ پھر مجھے اچانک معلوم ہوا کہ اس کو اسکول سے اٹھا لیا گیا ہے اور اب وہ کسی دکان یا کارخانے میں کام کرتا ہے۔ میں نے اس کی ماں سے پوچھا کہ اس نے ایسا کیوں کیا۔ اس نے کہاصاحب جی اگر میرا بیٹا کام نہ کرے تو ہم سب انا پیٹ کیسے بھریں!۔

پھر میں نے اس سے پوچھا کہ تمہارے گھر میں پھل اور گوشت کتنے عرصے کے بعد آتا ہے۔ اس نے کہا صاحب جی پھل تو ہم نہیں لے سکتے لیکن گوشت بڑی عید پر دو تین دن کیلئے مل جاتا ہے ۔ صاحب جی اس جرم میں برابر کے شریک ہیں جس سے اسی نوے فی صد لوگوں کی یہ حالت ہے۔

یہ ہے پاکستان میں غربت کی اصل حقیقت ۔ اعداد و شمار کی بتی بنا کردیا جلاتے رہیں ۔ 1958ء سے جو پارٹیاں بر سر اقتدار رہی ہیں۔ وہ اب بھی موجود ہیں۔ 1958ء سے پہلے جو اس ملک کے حکمران رہے ہیں وہ اپنا حساب دے رہے ہیں ۔پاکستان کے قدرتی وسائل سوائے چین کے ان تمام ملکوں سے زیادہ ہیں۔ تو پھر کیا وجہ ہے کہ ہم ان ممالک سے غریب ہیں اور سال بہ سال ان کا اور ہمارا فرق بڑھتا جارہا ہے۔ ہمارے لئے اہم ترین سوال یہی ہے۔ باقی تمام سوال ثانوی حیثیت کے ہیں۔ غربت تمام برائیوں کی جڑ ہے۔

درد ناک بات یہ ہے کہ یہ سوال کہ ہم غریب کیوں ہیں اور ہمیں غربت دور کرنے کیلئے کیا کرنا چاہیے ،نہ کبھی کسی اسمبلی میں اٹھایا گیا نہ کبھی ٹی وی اور اخباروں میں زیر بحث آیا اور نہ ہی ہمارے نام نہاد دانشوروں کی محفلوں میں اس پر گفتگو ہوئی ۔ لگتا ہے یہ خاموشی دانستہ ہے۔ اس خاموشی سے وطن عزیز قبرستان کی صورت اختیار کر گیا ہے۔جس میں

’نے زورِ سناں ہے نہ کہیں شورِ فغاں ہے‘

ہمارا ملک ایک بڑا ملک ہے جس کی آبادی اور ضروریات بڑھ رہی ہیں۔ اگر ہم نے فی الفور اپنے وسائل بڑھانے کی طرف توجہ نہ کی اور ہماری آمدن تیزی سے نہ بڑھی تو اس کے نتائج تباہ کن ہونگے ۔ جن کو بیان کرنے سے میں کانپتا ہوں ۔ اب ہمارے لئے بہت کم وقت رہ گیا ہے۔ ان خوفناک حالات سے نکلنے کیلئے ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ اس سوال کا جواب مشکل نہیں ہے۔تمام انتظامی ڈھانچے اور ادارے جو ہم نے وراثت میں لئے ہیں اور جن سے ہم اپنے ملک کو چلانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں ان کو ہمیں جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دینا چاہیے اور ان کی جگہ دور حاضر کے تقاضوں کے مطابق نئے ڈھانچے اور ادارے بنانا ہوں گے۔بہ قول اقبال ؔ

ہے وہی تیرے زمانے کا امام برحق

جو تجھے حاضر و موجود سے بے زار کرے

اپنے اشد ضروری اخراجات کے علاوہ اپنے تمام وسائل کو صرف اور صرف تعلیم پر خرچ کرنا ہوگا ۔ علم کی تعریف ہر عہد میں بدلتی رہی ہے اور بدلتی رہے گی۔ اس دور میں با معنی تعلیم سے مراد سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم ہے۔ جس میں ہم پسماندہ ترین ممالک میں سے ایک ہیں۔

ہمارے ملک میں موٹر سائیکل کی بہت بڑی مارکیٹ ہے۔ کیا ہماری انجینئر نگ یونیورسٹیوں نے کوئی موٹر سائیکل بنائی ؟ اگر نہیں تو کیا ان کو ختم کر کے ان کی زمینوں کو نیلام نہیں کر دینا چاہیے؟جنوبی کوریا نے اپنی موجودہ تاریخ کے ابتدا ہی میں Korea Advanced Institute of Science and Technology کی بنیاد رکھی تھی ۔ آج مغربی جریدے لکھتے ہیں کہ KAIST کوریا کی ترقی کا انجن ہے۔اس دور میں پاکستان کی کسی آزاد خیال محفل میں اسلام اور قرآن کی بات کرنا دقیانوسی خیال کیا جاتا ہے۔ قرآن حکیم نے چودہ سو سال پہلے ایک جملے میں ترقی اور تنزلی کا فیصلہ کر دیا تھا۔ ’’اے رسول اپنی امت پر واضح کر دیںکہ وہ قوم یا فرد جس کو علم ہے اور وہ جس کو علم نہیں ہے کیا کبھی برابر ہو سکتے ہیں‘‘مندرجہ بالا حکمت پر عمل کرنے سے بھی کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ اگر ہم یہ تمام کام اپنی زبان میں نہ کریں۔ زبان کی بحث کا جواب بڑا آسان ہے۔ کیا کوئی ملک ایسا ہے جس کی فی کس آمدن پندرہ ہزارڈالر یا اس سےزیادہ ہو اور اس کے سارے قوانین اور ساری تعلیم بشمول سائنس اور ٹیکنالوجی کے اپنی زبان میں نہ ہو؟اس سوال کے جواب کے لئے کہ اس تین حرفی منشور کو اسلامی جمہوریہ پاکستان میں کس طرح نافذ کیا جا سکتا ہے۔ آپ کو کسی وثیقہ نویس سے پوچھنا پڑے گا۔ اگر آپ اصرار کریں کہ میں ہی اس کا جواب دوں تو میرے پاس ایک آسان نسخہ ہے۔ اگر آپ ایک طویل سفر (Long March) پر نکلنے کے لئے تیار ہوں جس میں آپ کے ہزاروں ساتھی کام آئیں تو پھر یہ منشور ہی نہیں ہر کام آپ کیلئے آسان ہو جائے گا۔

تازہ ترین