کراچی (محمد منصف)سندھ ہائی کورٹ نے صوبے کی تمام ماتحت عدالتوں کو 1لاکھ 85ہزار سے زائد زیر التواء مقدمات جلد از جلد نمٹانے کی ہدایت کر دی ہے، کراچی کا ڈسٹرکٹ سینٹرل 19ہزار 766 التواء مقدمات کے ساتھ سرفہرست ہے۔ تفصیلات کے مطابق سندھ بھر کی ضلعی عدالتوں اس وقت 1 لاکھ 85 ہزار 7 سو 53 مقدمات زیر التواء ہیں ، صوبے کے 28 عدالتی اضلاع میں قتل ، اقدام قتل ، دہشت گردی ، اغواء برائے تاون، بھتہ خوری، امتناعی منشیات ، اسمگلنگ ، چوری ڈکیتی ، بدعنوانی ، سمیت دیگر سنگین نوعیت کے مجموعی طور پر 87 ہزار 299 فوجداری مقدمات التواء کاشکار ہیں ،اسی طرح 72 ہزار 49 سول مقدمات اور 25 ہزار 605 خاندانی تنازعات کے مقدمات بھی زیر التواء ہیں۔ محکمہ قانون کے پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق سندھ بھر کی ضلعی عدالتوں میں 30 جون 2026 تک زیر التواء مقدمات کی تعداد 1 لاکھ 85 ہزار سے زائد ہے۔ کراچی کے ڈسٹرکٹ ساؤتھ میں مجموعی طور پر 24 ہزار 928 مقدمات التواء کا شکار ہیں جن میں 7 ہزار 926 فوجداری، 14 ہزار 256 سول اور 2 ہزار 746 خاندانی نوعیت کے مقدمات ، ڈسٹرکٹ ویسٹ میں مجموعی طور پر 18 ہزار ہزار 730 مقدمات التواء کا شکار ہیں جن میں 9 ہزار 10 فوجداری، 6 ہزار 950 سول اور 2 ہزار 770 خاندانی نوعیت کے مقدمات ، ڈسٹرکٹ ایسٹ میں مجموعی طور پر 35 ہزار 710 مقدمات التواء کا شکار ہیں جن میں 14 ہزار 772 فوجداری، 15 ہزار 749 سول اور 5 ہزار 489 خاندانی نوعیت کے مقدمات زیر التواء کا شکار ہیں۔ اسی طرح ڈسٹرکٹ سینٹرل میں مجموعی طور پر 19 ہزار 766 مقدمات التواء کا شکار ہیں جن میں 8 ہزار 612 فوجداری، 7 ہزار 778 سول اور 3 ہزار 376 خاندانی نوعیت کے مقدمات جبکہ ڈسٹرکٹ ملیر میں مجموعی طور پر 25 ہزار 476 مقدمات التواء کا شکار ہیں جن میں 14 ہزار 369 فوجداری، 7 ہزار 898 سول اور 3 ہزار 209 خاندانی نوعیت کے مقدمات زیر التواء ہیں۔