پشاور دیر کالونی میں اسکول کی چھت گرنے کے افسوسناک سانحے میں معصوم بچوں کی اموات پر فضا بدستور سوگوار رہی۔ سانحہ کی ابتدائی رپورٹ گورنر کے پی کو جمع کرائی گئی ہے جس کے مطابق اسکول انتظامیہ نے مقررہ ایس او پیز پرعمل درآمد نہیں کیا۔
گورنر کے پی کا کہنا ہے کہ غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔ دوسری جانب ڈپٹی کمشنر پشاور نے شہداء کے لواحقین میں2 کروڑ 10 لاکھ روپے کے امدادی چیک تقسیم کیے ہیں۔
اسکول سانحہ پر شہر میں غم اور افسوس کی فضاء برقرار رہی۔ گورنر کے پی کو جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق اسکول مالک نے16 مرلہ اراضی 10 سال کیلیے لیز پرحاصل کی اورعمارت تعمیر کی اور اسکول سال 2026 میں رجسٹرڈ ہوا۔ تاہم اسکول انتظامیہ نے مقررہ ایس او پیز پرعمل درآمد نہیں کیا۔
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ہدایت کی کہ نجی اسکولوں کے قیام اور عمارتوں کی تعمیر کیلیے مقررہ ایس او پیز پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور غم زدہ خاندانوں سے تعزیت بھی کی۔
سانحے کے دوسرے روز مختلف سیاسی و حکومتی شخصیات نے بھی دیر کالونی پہنچ کر شہداء کے لواحقین سے تعزیت اور دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔ مشیر اطلاعات ثمر بلور کا کہنا تھا کہ معصوم بچوں کی اموات کے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے جبکہ وفاقی وزیر امیر مقام نے علاقے میں سرکاری اسکول بنانے کا اعلان کیا۔
مشیر اطلاعات ثمر ہارون بلور نے کہا سانحے کے بعد حکومت نے اسکولوں کی عمارتوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات شروع کر دیئے ہیں۔ سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کے معائنے کے لیے صوبے بھر میں ضلعی سطح پر سروے اور فزیکل انسپیکشن کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ نجی اسکولوں کی عمارتوں کے تحفظ کے لیے بھی اقدامات کا آغاز کردیا گیا ہے۔