ایک مضبوط اور ترقی یافتہ ریاست صرف جمہوری اداروں کے قیام سے وجود میں نہیں آتی۔ اس کیلئے اہل اور باصلاحیت قیادت، مؤثر انتظامیہ، میرٹ پر مبنی فیصلے، جواب دہی اور علم و تحقیق کو قومی ترقی کا بنیادی محرک بنانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ پاکستان آج ایسے مرحلے پر کھڑا ہے جہاں سیاسی استحکام، انتظامی کارکردگی اور معاشی ترقی کیلئے طرزِ حکمرانی پر سنجیدہ غور ناگزیر ہے۔قائداعظم محمد علی جناح کے چھوڑے ہوئے دستاویزی ورثے میں ایک نہایت دلچسپ تحریری نوٹ پاکستان کے آئینی مستقبل کے بارے میں انکے خیالات کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ مختصر تحریر The Jinnah Anthology کے صفحہ 81پر موجود ہے، جسے لیاقت ایچ مرچنٹ اور شریف المجاہد نے ایک کتاب میں مرتب کیا اور آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا۔ اس میں قائداعظم نے پارلیمانی طرزِ حکومت کے بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے صدارتی طرزِ حکومت کو ’’پاکستان کیلئے زیادہ موزوں‘‘ قرار دیا تھا۔ یہ کوئی مکمل آئینی خاکہ نہیں بلکہ ایک فکری غوروفکر تھا۔ تاہم اس سے واضح ہوتا ہے کہ قائداعظم اس امر پر سنجیدگی سے غور کر رہے تھے کہ آیا ویسٹ منسٹر طرزِ حکومت نئے ملک کیلئے موزوں ہے یا نہیں۔ تقریباً آٹھ دہائیوں بعد یہ سوال ایک بار پھر قومی سطح پر سنجیدہ بحث کا موضوع بن رہا ہے۔ اس بحث کا مقصد آمرانہ طرزِ حکومت کی حمایت نہیں بلکہ ایسی جمہوریت کی تلاش ہے جو ملک کو باصلاحیت اور مؤثر حکومت فراہم کرسکے۔پاکستان کو درپیش طویل عرصے سے جاری زرمبادلہ کی قلت، بڑھتا ہوا قرض، ناکافی برآمدات، غربت، بدعنوانی اور بار بار عالمی مالیاتی اداروں سے رجوع کرنا دراصل ایک زیادہ بنیادی خامی کی علامات ہیں۔ ہم ایسا سیاسی نظام تشکیل دینے میں ناکام رہے ہیں جس میں علم، دیانت، پیشہ ورانہ قابلیت اور قابلِ پیمائش نتائج اس امر کا تعین کریں کہ ملک کی حکمرانی کی ذمہ داری کس کے سپرد کی جائے۔آج اولین ضرورت قابلیت پر مبنی حکمرانی کی ہونی چاہیے۔ حقیقی جمہوری صدارتی نظام کے تحت منتخب صدر کیلئے یہ ممکن ہوگا کہ وہ پارلیمنٹ کے ارکان تک محدود رہنے کے بجائے ملک میں دستیاب بہترین ماہرین میں سے وزراء کا انتخاب کرے۔ وزارتِ خزانہ کسی ممتاز ماہرِ معاشیات یا مالیاتی ماہر ، صحت کی وزارت کسی ممتاز ماہرِ صحت اور تعلیم کسی نامور ماہرِ تعلیم کے سپرد ہو۔ سائنس و ٹیکنالوجی کسی مشہورسائنسدان یا جدت طراز کو دی جائے، زراعت جدید زرعی نظام کے کسی ماہرکے سپرد ہو اور صنعت کسی ایسے شخص کو دی جائے جسے صنعتی پیداوار، ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی منڈیوں کا ثابت شدہ علم ہو۔یہی اصول وفاقی سیکریٹریوں کی تقرری پر بھی لاگو ہونا چاہیے۔ تقرری کا معیار ثابت شدہ کارکردگی ہونا چاہیے، مثلاً کامیاب اداروں کا قیام، تکنیکی جدت طرازی، پیٹنٹس ، اہم تحقیقی اشاعتیں، نمایاں پیشہ ورانہ کامیابیاں، برآمدات میں قابلِ ذکر اضافہ یا متعلقہ شعبے میں اسی نوعیت کے دیگر قابلِ پیمائش اشاریے پر ہونا چاہئے ۔وزراء اور سیکریٹریوں کو چار سالہ کارکردگی معاہدوں کے تحت کام کرنا چاہیے، جن کا ہر سال آزادانہ جائزہ لیا جائے۔ جو ذمہ داران بار بار طے شدہ برآمدی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہیں، انہیں تبدیل کردیا جانا چاہیے۔ حکومت کی کارکردگی کا اندازہ اعلانات، سنگِ بنیاد رکھنے کی تقریبات اور تشہیری مہمات سے نہیں بلکہ نتائج سے ہونا چاہیے۔تعلیم قائداعظم کی فکر میں مرکزی حیثیت رکھتی تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ آنے والی نسلیں کردار، ذمہ داری اور معاشی زندگی کیلئےدرکار مہارتوں سے لیس ہوں۔ لہٰذا پاکستان کے آئین میں یہ ضمانت ہونی چاہیے کہ کم از کم مجموعی قومی پیداوار کا چھ فیصد تعلیم اور چار فیصد سائنس، ٹیکنالوجی، تحقیق اور جدت طرازی کے لیے مختص کیا جائے، جبکہ صوبائی حکومتوں پر بھی اسی نوعیت کی ذمہ داریاں عائد ہوں۔ ان اہم شعبوں کو یکے بعد دیگرے آنیوالے وزرائے خزانہ کی صوابدید پر مبنی کٹوتیوں سے محفوظ رکھا جانا چاہیے۔اصلاحات کیلئےاس سے بھی مؤثر طریقہ یہ ہوسکتا ہے کہ وزراء، سیکریٹریوں اور دیگر سرکاری ملازمین کو قانونی طور پر پابند کیا جائے کہ وہ اپنے بچوں کو قریب ترین موزوں سرکاری اسکول یا کالج میں تعلیم دلوائیں، اور دانستہ خلاف ورزی کی صورت میں سخت محکمانہ کارروائی کی جائے۔ جب پالیسی ساز خود سرکاری اسکولوں، لیبارٹریوں، اساتذہ، کتب خانوں اور کالجوں پر انحصار کریں گے تو ان اداروں کا معیار تیزی سے قومی ترجیح بن جائے گا۔معاشی پالیسی میں بھی اسی نوعیت کی بنیادی تبدیلی ضروری ہے۔ پاکستان قرض لے کر صرف کھپت میں اضافہ کرتے ہوئے اور کم قدر کی مصنوعات برآمد کرکے خوشحالی حاصل نہیں کرسکتا۔ قومی کوششوں کو ٹیکنالوجی پر مبنی علم و معیشت کی برآمدات پر مرکوز کرنا ہوگا، جن میں مصنوعی ذہانت اور سافٹ ویئر ، دواسازی ، ویکسینز ، برقیات ، انجینئرنگ مصنوعات ، جدید زراعت ، پراسیس شدہ معدنیات ، قابلِ تجدید توانائی کی ٹیکنالوجیز، خصوصی کیمیکلز ، دفاعی ٹیکنالوجیز اور دیگر علم پر مبنی صنعتیں شامل ہیں۔ہر بڑی وزارت کو برآمدات میں اضافے کا واضح مشن دیا جانا چاہیے۔ اپنی استعداد کے مطابق ہر شعبے کو چھ سال کے اندر سالانہ 5 سے 10 ارب ڈالر کی اضافی برآمدات کا ہدف دیا جاسکتا ہے۔ اگر 20 بڑے شعبے صرف 5 ارب ڈالر فی شعبہ اضافی برآمدات حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں تو پاکستان بالآخر سالانہ مزید 100 ارب ڈالر کما سکتا ہے۔ ایسی کامیابی ہمارے زرمبادلہ کی صورتحال، تکنیکی صلاحیت اور روزگار کے مواقع میں بنیادی تبدیلی پیدا کرسکتی ہے۔اصلاحات صرف اسلام آباد تک محدود نہیں رہنی چاہئیں۔ قائداعظم بارہا حکومت کو عوام کا حاکم نہیں بلکہ خادم قرار دیتے تھے۔ لہٰذا مالیاتی اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کیا جانا چاہیے۔ مقامی عوامی خدمات کے لیے مختص صوبائی فنڈز کا کم از کم 90 فیصد ایک شفاف فارمولے کے تحت منتخب اضلاع، بلدیاتی اداروں، شہروں اور یونین کونسلوں تک پہنچنا چاہیے۔ اس فارمولے میں آبادی، محرومی، بنیادی ڈھانچے اور کارکردگی کو مدنظر رکھا جائے۔صفائی ستھرائی، پینے کا پانی، بنیادی صحت، مقامی سڑکیں اور بلدیاتی سہولیات ان ہی کمیونٹیز کے قریب بہتر طور پر فراہم کی جاسکتی ہیں جو ان سے براہِ راست مستفید ہوتی ہیں۔ تعلیم، صحت، خارجہ پالیسی اور دفاع وفاقی شعبے ہی رہنے چاہئیں اور ان کے لیے مطلوبہ مالی وسائل کی ضمانت نئی آئینی ترمیم کے ذریعے دی جانی چاہیے۔
پاکستان کو تقریباً 40اضافی انتظامی صوبے بنانے کے امکان کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔ ان کی تشکیل آبادی، جغرافیہ، رسائی، معاشی استعداد اور انتظامی کارکردگی کی بنیاد پر ہونی چاہئے، نہ کہ نسل یا زبان کی بنیاد پر۔ چھوٹی انتظامی اکائیاں حکومت کو شہریوں کے قریب لاسکتی ہیں اور عوامی خدمات کی فراہمی میں تعمیری مسابقت پیدا کرسکتی ہیں۔ان میں سے کسی بھی اصلاح کیلئے جمہوریت کو کمزور کرنے کی ضرورت نہیں۔ پارلیمنٹ کو قانون سازی اور انتظامیہ کی نگرانی کا اختیار حاصل رہنا چاہئے۔ عدلیہ، الیکشن کمیشن، ذرائع ابلاغ اور آئینی ادارے مکمل طور پر آزاد رہنے چاہئیں۔ قائداعظم خود حزبِ اختلاف کی جماعتوں کو برسراقتدار حکومتوں کیلئے ضروری اصلاحی قوت سمجھتے تھے۔ لہٰذا انکے تصورات سے ہم آہنگ صدارتی نظام لازماً جمہوری، منتخب، آئینی اور آزاد اداروں کے ذریعے مضبوطی سے محدود ہونا چاہئے۔