• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یوں تو اس کائنات کی تخلیق کو کروڑوں سال ہو چکے ہیں لیکن انسانی تہذیب و تمدن نے جتنی ترقی گزشتہ 200سال کے دوران کی ہے۔ اس کی ماقبل کوئی مثال نہیں ملتی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ پہلے دنیا اقتدار کیلئے چھینا جھپٹی اور مار دھاڑ کے غیر فطری نظام میں مبتلا تھی، جس کا واحد مقصد تمام وسائل کو اقتدار حاصل کرنے یا اقتدار کو برقرار رکھنے میں صرف کرنا تھا ۔اقتدار کی پرامن منتقلی نہ ہونے کی وجہ سے ہر وقت خون ریزی کا بازار گرم رہتا تھا اور سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے نہ صرف معاشی عدم استحکام کی کیفیت رہتی بلکہ تمام وسائل اسی غیر یقینی کیفیت میں ضائع ہو جاتے، ترقی کا عمل نہ ہونے کے برابر تھا۔ انقلابِ فرانس اور برطانیہ کے صنعتی انقلاب نے جمہوریت اور پرامن انتقالِ اقتدار کے دروازے کھول دیے تو پہلے یورپ اور پھر باقی دنیا میں بھی ترقی کا پہیہ ناقابل تصور تیز رفتاری سے چلنے لگا۔ گویا پورے معاشرے کو ترقی کے عمل میں حصہ دار بنانے کا عمل ہی وہ فطری نظام دیتا ہے جسے جمہوریت کہتے ہیں اور اسی کی وجہ سے سیاسی استحکام آتا ہے جس کا نتیجہ معاشی استحکام کی شکل میں نکلتا ہے۔ جس معاشرے میں جمہوریت جس قدر زیادہ ہوگی وہ معاشرہ اسی قدر مہذب، پر امن اور ترقی یافتہ ہوگا۔ تمام تر نیک نیتی کے باوجود ڈکٹیٹرشپ انفرادی اور قومی سطح پر تباہ کن نتائج کی حامل کیوں ہوتی ہے۔ ؟

دنیا کا ہر ڈکٹیٹر کسی نہ کسی حوالے سے خود کو عقلِ کل اور مختارِ کل خیال کرنے لگتا ہے۔ یوںخود پسندی وتکبر کا مرتکب ہو کر رحمتِ خداوندی سے محروم ہو جاتا ہے ۔

آمر کسی قانون کے تابع نہیں ہوتا

اسکے تو اشاروں سے ہے قانون عبارت

یہ وصف ہے مخصوص مگر ربِِّ جہاں کا

اس واسطے اک شرک ہے آمر کی اطاعت

قرآنِ پاک میں شوریٰ کے نام سے ایک پوری سورۃنازل کی گئی تاکہ بندوں کو زندگی کے تمام انفرادی اور اجتماعی امور پر باہمی مشورے یا جمہوری طرزِ فکر و عمل کی اہمیت سےآگاہ کیا جائے ۔آج سے 1500 سال پہلے جب طاقتور کی مرضی ہی دوسرے انسانوں کی تقدیر ہوا کرتی تھی پیغمبرِ اسلام ﷺنے اجتماعی سطح پر دنیا کو جمہوریت کا تحفہ دیا اور اپنی زبان مبارک سے کسی کو ملت اسلامیہ کا جانشین مقرر کرنے کی بجائے اکثریت کو اس کا فیصلہ کرنے کا حق دے دیا۔ خلفائے راشدین نے بھی اس کا اتباع کیا گویا جمہوریت دینِ اسلام کا ایک لازمی جزو قرار پائی ۔ اب ہم اس موضوع کو تاریخ اور دانش کے حوالے سے دیکھتے ہیں جب سے دنیا میں جمہوریت ایک سیاسی و معاشرتی نظام کے طور پر متعارف ہوئی ہے کسی شخصی ڈکٹیٹر شپ نے مقابلتاً اس سےبہتر کارگزاری کا مظاہرہ نہیں کیا۔اچھائی یا خیر کی سب سے بہتر تعریف یہ ہے کہ خیر وہ ہے جو باقی بھی رہے اگر کسی آمر نے اپنے دور میں کچھ اچھے کام کیے بھی تو ان کا تسلسل اس لیے باقی نہ رہ سکا کہ اس کی پشت پر کوئی مروجہ نظام نہ تھا ۔اگلے ڈکٹیٹر نے اپنی دانست میں اچھا کرتے کرتے اپنے پیش رو کے تمام اچھے کاموں پر پانی پھیر دیا اور قوم کو اپنا سفر پھر صفر سے شروع کرنا پڑا ۔ڈکٹیٹر شپ ایک عارضی ،ایڈہاک یا ڈنگ ٹپاؤ نظام ہے جسکی کوئی طے شدہ سمت یا اصول نہیں ہوتے ۔ جب کہ جمہوریت ایک باضابطہ اور مسلسل عمل ہے جو فطری اصولوں اور موسموں کی طرح وقت کے مطابق تبدیل ہوتا رہتا ہے لیکن تبدیلی کے سارے جھٹکے(Shocks) بھی برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔گویا ڈکٹیٹر شپ ایک تالاب کی مانند ہے جس کا صاف پانی بھی جلد یا بدیر گندہ اور متعفّن ہو جاتا ہے ۔جبکہ جمہوریت ایک بہتے ہوئے دریا یا ندی کی طرح ہے جس کا گندا پانی بھی بہاؤ کی وجہ سے صاف ہوتا رہتا ہے۔ اور اس سے وضو بھی کیا جا سکتا ہے ۔ہمارے ہاں جنرل ایوب خان کے دورِ حکومت کو ترقی کا سنہری دور سمجھا جاتا ہے لیکن جمہوری عمل نہ ہونے کی وجہ سے اگلے ڈکٹیٹر نے ترقی کے ثمرات کو اگلی نسل تک نہ پہنچنے دیا ۔ جب کہ اس کے دور میں علیحدگی کے بوئے ہوئے بیج اتنی تیزی سے پروان چڑھے کہ ان کی فصل البتہ پوری قوم کو ضرور کاٹنا پڑی ۔آج بھی ہمیں سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے بالا ترطبقات کہیں فطری نظام یعنی باقی ماندہ جمہوریت کو بھی آہستہ آہستہ ختم تو نہیں کر رہے۔

احساس یہ گزشتہ کسی ڈر کا تو نہیں

وہ دور جو دھواں ہے مرے گھر کا تو نہیں

تازہ ترین