• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیاوی معاملات میں فریقین اپنے مؤقف کو مضبوط ثابت کرنےکیلئے بالعموم مذہب، روایات اور غیرت وغیرہ کا سہارا لیتے رہے ہیں۔ حیرت انگیز طور پر انسانوں نے اب ماحولیاتی بہانوں کو بھی ہتھیار بنا لیا ہے۔ ماحولیات کے نفع و نقصان بارے من پسند تاویلات سے سیاسی، اخلاقی اور تجارتی جیت یقینی بنانا چاہتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر انسانی، حیوانی اور قدرتی عمل کے نیک و بد ماحولیاتی اثرات کا اظہار ہوتا رہتا ہے۔ لیکن محض اثرات بد کے موہوم خدشات کے پیش نظر انسانی ترقی کا پہیہ روکا نہیں جا سکتا۔

خالق نے انسان کو اتنی عقل سلیم ضرور عطا کی ہے کہ جس کی مدد سے اثراتِ بد کو معتدل کر سکتا ہے، یا قابل برداشت حد تک کم کر سکتا ہے۔ اس سوچ کو ماحولیاتی سائنس میں Mitigation Plan کا نام دیا گیا ہے۔ فطرت کی یہی خوب صورتی ہے کہ وہ اپنے بنیادی اُصولوں سے صرفِ نظر نہیں کرتی، لیکن اپنے دامن میں قابل قبول حد تک جدت اور نئی جہتوں کو سمیٹنے سے انکاری نہیں ہوتی۔

آج کل ملکی و بین الاقوامی اُفق پر نایاب دھاتوں کے موضوع پر سیاسی، تجارتی اور ماحولیاتی مباحث زوروں پر ہیں۔ درحقیقت یہ دھاتیں دستیابی کے لحاظ سے نایاب نہیںہیں بلکہ ہر جگہ اور دنیا کے ہر خطے میں کم و بیش موجود ہیں۔ چونکہ خام چٹانوں (Ores) سے انہیں حاصل کرنا جان جوکھوں کا کام ہے۔ شاید اس کٹھن حصول کو پیش نظر رکھ کر انہیں ’’نایاب‘‘ کا لقب عطا ہوا۔

نایاب جو ہوں گے تو کیا کام نہ ہو گا، نام نہ ہو گا، اس کے مصداق ان 17-عدد دھاتوں کا دانش مندانہ استعمال اس کرۂ ارض کی تقدیر بدل سکتا ہے۔ اسے دوبارہ سرسبز و شاداب بنا سکتا ہے، کیوں کہ یہ تمام دھاتیں ’’گرین ٹیکنالوجی‘‘ کا استعارہ بن چکی ہیں۔ مثلاً اسکینڈیم دھات ہیلوجن لائٹ اور سپرایلومینیم کی تیاری میں مدد دیتی ہے۔ پٹاریم سے لیزر، سپرکنڈکٹر تیار ہوتے ہیں۔ اسی طرح لیتھیم، ہائبرڈ کاروں کے انجن میں استعمال ہوتی ہے۔

علاوہ ازیں کاربن سے مبرا میٹریل کیلئےمفید ہے۔ نیوڈیم دھات برقی گاڑیوں ہوائی چکیوں اور اسمارٹ فون کی تیاری میں مددگار ہے۔ گویا اس گروپ میں موجود سبھی دھاتیں جدید ماحول دوست استعمال کے لحاظ سے ایک سے بڑھ کر ایک ہیں۔ ان دھاتوں کا ذکر ہوتا ہے تو فوراً ’’گرین ٹیکنالوجی‘‘ کا تصور ذہن میں آتا ہے۔ ساتھ ہی برقی توانائی سے چلنے والی خاموش ٹرانسپورٹ، چمکدار شمسی پلیٹ، پن چکیوں، ہوائی چکیوں کے فوائد ہویدا ہو جاتے ہیں، کیوں کہ یہ سارے مظاہر نایاب دھاتوں سے ہی ممکن ہوئے۔ لیکن ان سب ایجادات کا تاریک پہلو بھی ہے، مثلاً برقی ٹرانسپورٹ کو چلانےکیلئے ایسے کارخانوں سے توانائی حاصل کی جاتی ہے جو خود کوئلہ، گیس اور تیل کے تباہ کن ایندھن سے پیداوار دیتے ہیں۔

ماحول دوست جدید ایجادات میں استعمال ہونے والی نایاب دھاتوں کا حصول بھی ماحولیاتی خطرات سے گزر کر ممکن ہو رہا ہے۔ پاکستان میں روایتی کان کنی کے جن طریقوں سے ان دھاتوں کا حصول ممکن ہے، وہ نہایت پُرخطر ہیں۔ مثال کے طور پر ایک ٹن نایاب دھاتوں کی نکاسی کیلئے کم از کم دو ہزار ٹن تک خام چٹانوں کی توڑپھوڑ کی جاتی ہے۔ بعدازاں فاضل پتھر میں تابکاری معدنیات تھیوریم، یورینیم کی معمولی مقدار رہ جاتی ہے، جو کہ مقامی ماحولیات کیلئےازحد نقصان دہ ہے۔ خام پتھر کی بھاری مقدار سے نایاب دھاتوں کی بازیابی کا طریقۂ کار جو تیسری دنیا کے ممالک میں مروج ہے وہ ماحولیات کیلئے نہایت خطرناک ہے۔ اس میں تیزاب کی مدد سے خام پتھر کو دھویا جاتا ہے۔ اس دوران بھاری دھاتیں یعنی کرومیم، تانبا، کیڈمیم اور آرسینک وغیرہ کو آبی گزرگاہوں یعنی دریا، جھیلوں میں شامل ہونے کا موقع مل جاتا ہے۔ یہ طریقہ پڑوسی نظامِ حیات (اکالوجی) کی تبدیلی اور حیوانات کی نسل کشی کا باعث بن سکتا ہے۔ صدیوں پرانے لیکن اب بھی جاری "Open dump" گڑھوں کی مدد سے خالص نایاب دھاتوں کا حصول نہ صرف ماحولیاتی نقصان کا باعث ہے، بلکہ نہایت صبرآزما اور مہنگا بھی۔ جب تک پاکستان میں معدنیات کے حصول کی جدید ٹیکنالوجی ازقسم ’’الیکٹرومیگ‘‘ کان کنی اور مائیکروبز کا استعمال مروج نہیں ہوتا، بہتر ہے مزید کئی دہائیاں انتظار کی بجائے ان معدنیات کو پیداواری حصول کیلئے ترقی یافتہ ممالک میں ٹرانسپورٹ کر دیا جائے۔ ان کے جدید سسٹم سے فائدہ اُٹھا کر خالص نایاب دھاتوں کی تجارت کی جائے تاکہ معاشی استحکام کی منزل جلد ہی حاصل ہو۔ بیرون ملک خام دھاتوں (Ores) کی منتقلی کے ذریعے جدید سہولتوں کا استفادہ کوئی گھاٹے کا سودا نہیں۔ یہ ہمارے ہاں مروج فرسودہ طریقۂ کار سے بہتر بھی ہے اور ماحولیاتی تباہ کاریوں سے بچنے کا ذریعہ بھی۔

اس وقت نایاب دھاتوں بارے ماحولیاتی مسائل اور خطرات کی نشان دہی محض بہانہ ہے۔ سیاسی حلقے بدلتے ہوئے حالات میں اس مسئلے کو محض پوائنٹ اسکورنگ کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔ مرکزی حکومت کی جانب سے دانش مندی اس غبارے سے ہوا نکال سکتی ہے۔

ضروری ہے کہ وفاق اور صوبوں کے مابین معدنیاتی وسائل بارے قابل قبول فارمولہ لاگو کیا جائے۔ ان قیمتی معدنیات کی برآمد شفاف معاہدات کے زیراثر ہو، تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں کسی صوبائی فریق کو تنہائی اور محرومیوں کا شکوہ نہ ہو سکے۔

تازہ ترین