• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نریندرمودی بھارت کے وزیر اعظم کی حیثیت سے اپنی تیسری میعاد کے آخری برسوں میں جنریشن زی یعنی اپنے ملک کے نوجوان طلبہ کے ہاتھوں کچھ ویسی ہی صورت حال کا شکار ہیں جس کا سامنا دو سال پہلے بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کو کرنا پڑا تھا اور جس کا نتیجہ ان کے اقتدار کے خاتمے اور جلاوطنی کی شکل میں برآمد ہوا۔ پچھلے عشروںمیں عرب بہار کی شکل میں ہم نوجوانوں کی ایسی تحریکوں کا مشاہدہ تیونس، مصر ، لیبیا، شام اور یمن میں کرچکے ہیں جن کے نتیجے میں حکومتیں تبدیل ہوئیں۔نیپال میں گزشتہ سال کرپشن کے خلاف نوجوان سراپا احتجاج بنے اور حکومت نے طاقت کے بل پر انہیں دبانے کی کوشش کی تو درجنوں مظاہرین ہلاک ہوگئے جس کے بعد شدید عوامی ناراضی کے باعث اس وقت کے وزیر اعظم کے پاس قصر اقتدار سے رخصتی کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں رہا۔ کئی یورپی ممالک بشمول البانیہ، اسپین آئرلینڈ اور فرانس میں بھی ان دنوں تعلیمی نظام کی ابتری اور بے روزگاری جیسے مسائل کے خلاف طلبہ کا پرزور تاریخی احتجاج جاری ہے اور بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر ہیں۔ فرانس میں ہزاروں طالب علموں کی گرفتاری کے باوجود احتجاج کی شدت میں اضافہ ہورہا ہے ۔

پولیس سے تصادم میں طلبہ ہی نہیں سینکڑوں پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔ احتجاج اتنا جاندار ہے کہ وزیر اعظم نے گزشتہ ہفتے ٹیلی وژن پر قوم سے خطاب میں تسلیم کیا کہ نوجوانوں کا غصہ بلاوجہ نہیں اور حکومت طلبہ کو درپیش مسائل کو نظر انداز نہیں کرسکتی۔تاہم طلبہ فوری عملی اقدامات کے خواہاں ہیں چنانچہ اس خطاب کے کئی دن بعد بھی احتجاجی تحریک پوری شدت سے جاری ہے۔ بات دراصل یہ ہے کہ حکومتوں کی ناپسندیدہ پالیسیوں اور اقدامات کے خلاف لوگوں کے دلوں میں غم و غصہ پروان چڑھتا رہتا ہے اور پھر ایک وقت آتا ہےکہ کوئی ایک واقعہ اونٹ کی کمر پر آخری تنکا بن جاتا ہے اور لوگ سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔ اس عمل کو انٹر نیٹ سے منسلک سوشل میڈیا اور نوجوانوں کے سیاسی شعور نے بہت تیزرفتار بنادیا ہے۔ عرب بہار کا آغاز تیونس میں بے روزگاری اورظلم و ناانصافی سے تنگ آئے ہوئے ایک نوجوان کی خود سوزی سے ہوا تھا۔ بنگلہ دیش میںحکومت کی روزگار پالیسی میں ایک مخصوص طبقے کو نوازے جانے کے خلاف نوجوانوں کے احتجاج کو کچلنے کیلئے حکومتی تشدد نے پورے ملک کے طالب علموں کو حکومت کے سامنے لاکھڑا کیا۔ بھارت میں تعلیمی نظام میں دھاندلیوں اور اہم امتحانات کے پرچے لیک ہوجانے کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ کو چھ ماہ پہلے عدلیہ کے سربراہ کی جانب سے کاکروچ کہے جانے کا واقعہ کاکروچ جنتا پارٹی کے جنم لینے کا سبب بن گیا اور ایک ایسی تحریک اٹھ کھڑی ہوئی جو وزیر اعظم نریندر مودی کیلئے ان کے طویل دور اقتدار میں سب سے زیادہ سنگین چیلنج قرار دی جارہی ہے۔ مودی کی مقبولیت میں کمی کا آغاز گزشتہ انتخابات ہی سے ہوگیا تھا جسکی بنا پر ان کی پارٹی تنہا حکومت بنانے کے قابل نہیں رہی اور مخلوط حکومت کی تشکیل پر مجبور ہوئی۔ اب جنریشن زی کی ناراضی کے نتیجے میں نریندر مودی نے آئندہ عام انتخابات میں شکست کا خطرہ محسوس کیا تو ایک ایسا قدم اٹھا بیٹھے جو ان کے خلاف عوامی جذبات کو بھڑکانے کے حوالے سے جلتی پر تیل ثابت ہوا۔مودی کے مخالفین کے مؤقف کے مطابق الیکشن کمیشن کے سربراہ سے ساز باز کرکے انتخابی فہرستوں کی درستی کے نام پر ملک کے 13کروڑ ووٹروں کے نام نکال دیے گئے جن میں بڑی تعداد مسلمان رائے دہندگان اور ان علاقوں کے لوگوں کی ہے جو مودی مخالف سمجھے جاتے ہیں۔ مسلمانوں کے خلاف مودی کی نفرت انگیز پالیسیوں ، آئین کی دفعہ 370ختم کرکے کشمیر پر ناجائز قبضے اور دیگر اسباب سے بھارت کے مسلمان کانگریس کو بی جے پی کا بہتر متبادل سمجھتے ہیں۔تاہم حالات کے اس تناظر میں مودی نے بظاہرآئندہ انتخابات میں شکست سے بچنے کیلئے کروڑوں ووٹروں کو حق رائے دہی سے محروم کرنے کی جو چال چلی تھی وہ بالکل الٹی پڑگئی اور کئی برسوں کے بعد کانگریس اور دیگر مودی مخالف جماعتیں ملک بھر میں کاکروچ پارٹی کے ساتھ ساتھ مودی سرکار کے خلاف بہت متحرک ہوگئی ہیں جبکہ عام لوگ بھی اب حکومتی جبر کے خوف سے آزاد ہوکر اپنے جذبات کا اظہار برملا کررہے ہیں۔ عوام میںمودی کی مخالفت کے مسلسل بڑھنے کا ایک بنیادی سبب یہ ہے کہ اس طویل دور میں بھارت کی معاشی ترقی کے ثمرات زیادہ تر دولت مند طبقات تک محدود رہے۔ارب پتیوں میں بہت اضافہ ہوا لیکن عوام کی حالت میں بالعموم کوئی نمایاں بہتری واقع نہیں ہوئی۔ مودی نے قومی اتحاد و یگانگت کو فروغ دینے کے بجائے نسل پرست متعصب گروہ آر ایس ایس کے نظریات کے مطابق ہندوتوا کے فلسفے کو اپنایا اور ’ہندوستان ہندوؤں کیلئے‘ کی بنیاد پر مسلمانوں کیخلاف نفرت بھڑکا کر ہندو اکثریت میں اپنی مقبولیت بڑھائی۔ وہ پاکستان دشمنی کو اپنی سیاسی کامیابی کی کلید تصور کرتے رہے اور ہندو اکثریت کو اکھنڈ بھارت کے خواب دکھا کر اپنی حکومت کو مستحکم رکھنے کیلئے کوشاں رہے۔ تاہم یہ حکمت عملی اب بالآخر ناکام ہوتی دکھائی دے رہی ہے جسکے نتیجے میں آئندہ انتخابات میں انکی شکست کے امکانات میں اضافہ ہورہا ہے۔ مودی کے پیش رَواٹل بہاری واجپائی بھی بھارتیہ جنتا پارٹی سے تعلق رکھتے تھے لیکن پاکستان کے ایٹمی قوت بننے کے بعد انہوں نے جان لیا تھا کہ اب اکھنڈ بھارت والی آر ایس ایس کی سوچ تاریخ کا حصہ بن گئی ہے۔

اسلئے انہوں نے لاہور آکر مینار پاکستان پر اعلان کیا کہ دوست بدلے جاسکتے ہیں مگر پڑوسی نہیں لہٰذا بھارت اور پاکستان کو اچھے ہمسایوں کی طرح رہنا چاہیے۔ لاہور میں ہونے والی تقریب میں انہوں نے اپنی ایک نظم بھی سنائی جس کا عنوان تھا’’ اب جنگ نہیں ہوگی‘‘۔ مودی بھی پاکستان کے ساتھ یہی پالیسی اختیار کرتے اور اپنے ملک میں مسلم مخالف اقدامات کرکے نفرتوں کے سوداگر نہ بنتے تو عین ممکن ہے کہ انکا اقتدار تاحیات جاری رہتا لیکن اب انکا سیاسی مستقبل بہرحال نہایت مخدوش نظر آتا ہے۔

تازہ ترین