ملک کے مختلف شہروں میں منافع خور سرگرم ہوگئے۔ کھانے پینے کی اشیا مہنگی کردی گئیں۔
لاہور میں روٹی کی قیمت میں 3 روپے اضافہ ہوا، سرکاری ریٹ 17 روپے ہونے کے باوجو تندور پر 20 روپے میں فروخت ہونے لگی۔
آٹے کے پیڑے کا وزن بھی کم کردیا جبکہ تندور مالکان نے اخراجات بڑھنے کا شکوہ کردیا۔
مالکان کہتے ہیں کہ آٹا ہر ہفتے مہنگا ہو رہا ہے، میدے کی بوری بھی مہنگی ہوگئی، گیس بھی نہیں آتی، سلنڈر پر تندور چلا رہے ہیں، ہم کیا کریں؟
لاہور میں مرغی کی قیمت میں اضافہ کا سلسلہ جاری ہے، مرغی کا گوشت 550 سے 600 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہا ہے۔
کوئٹہ میں مختلف سبزیوں کی قیمت میں ہوشربا اضافہ ہوگیا ہے۔ کوئی بھی سبزی 200 روپے فی کلو سے کم میں دستیاب نہیں۔
مہنگائی کی موجودہ لہر میں غریب کےلیے 2 وقت کا کھانا بھی مشکل ہوگیا ہے، اس لیے حکومت سے ریلیف کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔