پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) خیبر پختونخوا کے سیکریٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی اور گورنر راج بھی لگ گیا مگر پارٹی کا لائحہ عمل نہیں آیا۔
پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شوکت یوسفزئی نے کہا کہ بدقسمتی سے لانگ مارچ کی کوئی حکمت عملی یا پلان نہیں تھا، اتنی بڑی تحریک کے لیےحکمت عملی نہ ہونے سے پارٹی کو نقصان ہوا، جن کے پاس اے، بی اور سی پلان تھے وہ ابھی تک سامنے نہیں آئے۔
شوکت یوسفزئی نے کہا کہ بیرسٹر گوہر اور سلمان اکرم راجا سے بہت توقعات ہیں۔ پارٹی کے فیصلے سوشل میڈیا کے دباؤ سے آزاد ہو کر کرنے ہوں گے، تحریک انصاف مذاکرات کے راستے کسی صورت بند نہ کرے۔
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ پارٹی سیاسی مزاحمت ترک کرکے سیاسی حکمت عملی اپنائے، اداروں سے کوئی لڑائی نہیں، یہ پالیسی واضح ہونی چاہیے، گرینڈ اپوزیشن الائنس بنانا وقت کی ضرورت ہے۔
شوکت یوسفزئی نے کہا کہ تجویز دی تھی کہ لانگ مارچ موخر کرکے مذاکرات کیے جائیں، لانگ مارچ موخر نہ کرنے کے نتائج پارٹی کو بھگتنا پڑ رہے ہیں، 11 اکتوبر کو ورکرز اس لیے نہیں نکلے کہ ان کے پاس کوئی گائیڈ لائن نہیں تھی۔