• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ریاست کی کامیابی کا انحصار محض قوانین،وسائل اور سرکاری منصوبوں ُر نہیں بلکہ انسانی نفسیات، معاشرتی رویوں اور عوامی طرز عمل کی تقسیم پر ہے۔ بعض اوقات سرکاری نظام خود بھی عمل درآمد کو مشکل بنا دیتا ہے۔ چنانچہ مسئلے کا حل قانون بنانے تک محدود نہیں رہ سکتا۔قانون پر اعتماد، اس کی پابندی کی ترغیب اور عمل درآمد کے موثر طریقے بھی ضروری ہیں۔

ہم ٹریفک قوانین بناتے ہیں، جرمانے عائد کرتے ہیں اور آگاہی مہمات چلاتے ہیں، لیکن اگر سڑکوں کا انتظام ناقص ہو، قوانین کا نفاذ غیر مساوی ہو اور شہریوں کو پابندی کا واضح فائدہ دکھائی نہ دے تو محض تعزیری اقدامات دیرپا نتائج نہیں دے سکتے۔ اسی طرح ماحولیاتی تحفظ کے لیے پانی بچانے یا پلاسٹک کے استعمال میں کمی کی تلقین کافی نہیں، شہریوں کو آسان متبادل، بروقت یاد دہانی اور ایسا انتظامی ماحول بھی فراہم کرنا ہوگا جس میں درست رویّہ اختیار کرنا سہل ہو۔

یہی وجہ ہے کہ ایک مختصر پیغام، بروقت یاد دہانی، آسان انتظامی طریق کار یا قابلِ اعتماد سماجی رہنما کی ترغیب بعض اوقات لوگوں کے طرزِ عمل میں نمایاں تبدیلی پیدا کر دیتی ہے، تاہم کسی بھی مداخلت کی کامیابی اس کے مقامی تناظر سے وابستہ ہوتی ہے۔ ہر معاشرہ اپنی تہذیبی ساخت، معاشی حالات اور ترجیحات رکھتا ہے۔اس لیے بیرونی دنیا کے کامیاب تجربات کو من و عن نقل کرنے کے بجائے پاکستان کے حالات میں آزمانا، ان کے نتائج جانچنا اور ضرورت کے مطابق ڈھالنا ضروری ہے۔

ہمارے ہاں حکمرانی کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ کامیابی کو اکثر جاری کردہ احکامات، منعقدہ اجلاسوں، مختص کی گئی رقوم اور شروع کیے گئے منصوبوں سے ناپا جاتا ہے، حالاں کہ یہ سب صرف اقدامات ہیں، نتائج نہیں۔ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ ان اقدامات سے عام آدمی کی زندگی میں کیا تبدیلی آئی: کیا مریض کو بروقت علاج ملا؟ کیا بچے کی تعلیمی استعداد بہتر ہوئی؟ کیا شہری نے پانی کے ضیاع میں کمی کی؟ کیا سرکاری خدمت کا حصول آسان ہوا؟ان سوالات کے جواب کے بغیر پالیسی کی کامیابی کا دعویٰ محض انتظامی سرگرمیوں کی فہرست رہ جاتا ہے۔ اسی لیے جدید پالیسی سازی میں پہلے مسئلے کی حقیقی وجہ معلوم کی جاتی ہے، پھر ممکنہ حل کو محدود پیمانے پر آزمایا جاتا ہے، نتائج کو قابلِ پیمائش اشاریوں سے جانچا جاتا ہے اور موثر طریق کار کو مناسب نگرانی کے ساتھ وسعت دی جاتی ہے۔ اس عمل سے پالیسی اندازوں کے بجائے شواہد پر قائم ہوتی ہے۔

حکومتوں کو جامعات، تحقیقی اداروں اور متعلقہ محکموں کے اشتراک سے ایسے منصوبے تشکیل دینے چاہئیں جن میں آغاز ہی سے واضح ہو کہ کامیابی کس معیار سے ناپی جائے گی۔ اگر کسی اقدام سے مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہوں تو اسے ناکامی چھپانے کے بجائے حکمتِ عملی پر نظرِ ثانی کا موقع سمجھنا چاہیے۔ اس طرح تجربہ، تحقیق، احتساب اور اصلاح ایک مسلسل عمل بن جاتے ہیں، نہ کہ کسی منصوبے کے اختتام پر کی جانے والی رسمی کارروائی۔تاہم انسانی رویّوں پر اثر انداز ہونے کے اس علم کا استعمال غیر معمولی احتیاط کا متقاضی ہے۔ شہریوں کی نفسیات کو سمجھنا ان پر غیر محسوس دبائو ڈالنے یا ان کی آزادیِ انتخاب سلب کرنے کا جواز نہیں بن سکتا۔ پالیسی کا مقصد لوگوں کو فریب دینا نہیں، بلکہ انہیں درست معلومات، واضح انتخاب اور بہتر فیصلے کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا ہونا چاہیے۔

OECD کی 2022ءکی رہنما دستاویز بھی اس امر پر زور دیتی ہے کہ پالیسی سازی میں behavioural science کا استعمال اخلاقی اصولوں، شفافیت، شہریوں کی خود مختاری اور انفرادی حقوق کے احترام سے مشروط ہونا چاہیے (OECD، 2022ء)۔ اس اصول کی عملی اہمیت یہ ہے کہ کوئی بھی پالیسی موثر ہونے کے ساتھ قابلِ اعتماد بھی ہو۔اگر شہری یہ محسوس کریں کہ ان کے ساتھ پوشیدہ طور پر جوڑ توڑ کیا جا رہا ہے تو وقتی نتائج کے باوجود عوامی اعتماد کمزور ہو سکتا ہے لہٰذا پاکستان میں اس تصور کو اپناتے ہوئے رازداری کے تحفظ، معلومات کے ذمہ دارانہ استعمال، شفافیت اور عوامی مفاد کو مقدم رکھنا ضروری ہے۔ یہ بھی واضح کرنا چاہیے کہ کسی مداخلت کا مقصد کیا ہے، اس کے اثرات کیسے جانچے جائیں گے اور شہریوں کے حقوق کیسے محفوظ رہیں گے۔ یوں موثریت اور انصاف ایک دوسرے کی ضد نہیں رہیں گے، بلکہ پائیدار پالیسی کے دو لازم اجزا بن جائیں گے۔

آج پاکستان کو ایسے نظامِ حکمرانی کی ضرورت ہے جو محض انتظامی احکامات پر نہیں، بلکہ علمی بصیرت، شواہد، عوامی اعتماد اور انسانی ضروریات کی تفہیم پر استوار ہو۔ گورنمنٹ غازی یونیورسٹی اور ڈی جی خان کنگز کالج لندن کے اسکول فار گورنمنٹ اور اس علمی موضوع سے وابستہ دیگر اداروں کے مابین اشتراک اسی مقصد کے لیے اہم ہے کہ تحقیق کو عملی حکمتِ عملی میں ڈھالا جائے، مقامی مسائل کو درست طور پر سمجھا جائے اور علمی مباحث کو عوامی بہبود سے مربوط کیا جائے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں پالیسی سازی میں انسانی رویّوں کے مطالعے کو باقاعدہ اہمیت دیں، نوجوان محققین کی حوصلہ افزائی کریں اور ایسے تجرباتی منصوبوں کی سرپرستی کریں جن میں واضح اہداف، قابلِ پیمائش نتائج اور شفاف جائزہ شامل ہو۔

آخرکار ریاست کی عظمت کا پیمانہ اس کے قوانین کی ضخامت، سرکاری عمارتوں کی بلندی یا بجٹ کے حجم سے متعین نہیں ہوتا۔ اصل معیار یہ ہے کہ اس کے فیصلے انسانوں کی زندگیوں میں کتنی آسانی، آسودگی، انصاف اور خوش حالی پیدا کرتے ہیں۔ قانون ضروری ہے، مگر قانون کی افادیت اسی وقت ظاہر ہوتی ہے جب وہ قابلِ فہم، قابلِ عمل اور عوامی زندگی سے ہم آہنگ ہو۔

پالیسی کا کمال حکم صادر کرنے میں نہیں، بلکہ مسئلے کی اصل وجہ سمجھنے، انسانی رویّوں کو ملحوظ رکھنے اور نتائج کو شواہد سے جانچنے میں ہے۔ اگر ہم نے انسان کو سمجھے بغیر نظام بدلنے کی کوشش کی تو اصلاح کے نام پر کاغذی کارروائیاں بڑھتی رہیں گی، لیکن اگر ہم نے قانون، ادارے اور انسانی نفسیات.... تینوں کو ایک مربوط پالیسی فریم ورک میں دیکھا تو پاکستان میں ایسی حکمرانی کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے جو محض احکامات جاری نہ کرے، بلکہ شہریوں کے اعتماد سے حقیقی اور پائیدار تبدیلی پیدا کرے۔

(یہ مقالہ غازی یونیورسٹی اور کنگز کالج لندن کی مشترکہ ورکشاپ ڈیرہ غازی خان میں بطور مہمان خصوصی پڑھا گیا ہے۔)

تازہ ترین