بھارتی سینئر اداکارہ انیتا کنول نے انکشاف کیا ہے کہ میری جمع پونجی تیزی سے ختم ہو رہی ہے اور موجودہ حالات میں میرے اخراجات پورے کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ایک حالیہ انٹرویو کے دوران انیتا کنول نے بتایا کہ میری بچت اب صرف 1 سال تک چل سکتی ہے، اس لیے میں جَلد دوبارہ اداکاری شروع کرنا چاہتی ہوں۔
انیتا کنول نے بتایا کہ میرے بچے مالی مدد کے لیے تیار ہیں مگر میں اپنے بچوں پر انحصار نہیں کرنا چاہتی، میں اپنی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ اپنے بچوں کو تحائف دینے اور ضرورت مندوں کی مدد کرنے کے قابل رہنا چاہتی ہوں۔
اداکارہ کا کہنا ہے کہ میرے پاس ایک خوبصورت گھر ہے جس کی تعمیر میں میرے والدین نے بھی حصہ ڈالا تھا جبکہ گھر کے لیے لیا گیا قرض ادا کر چکی ہوں، یہی میرا واحد بڑا اثاثہ ہے جبکہ میری جمع پونجی ختم ہونے کے قریب ہے۔
انیتا کنول نے کہا کہ میں اپنے اخراجات کا احتیاط سے حساب رکھتی ہوں لیکن بڑھتی ہوئی مہنگائی نے مالی معاملات مشکل بنا دیے ہیں، اس کے علاوہ مجھے اپنے ملازمین کے اخراجات بھی برداشت کرنا پڑتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ کام کرنا صرف مالی ضروریات کے لیے نہیں بلکہ ذہنی سکون کے لیے بھی اہم ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق اداکارہ کو اس بات کا بھی افسوس ہے کہ فلمی صنعت کے بہت سے نوجوان ان کے سابقہ کام سے واقف نہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ بعض اوقات مجھے اپنی عمر سے کہیں کم عمر خواتین کے لیے موزوں کردار پیش کیے جاتے ہیں، میں کام کے لیے بے چین نہیں بلکہ اپنے تجربے اور صلاحیتوں کے مطابق کردار چاہتی ہوں، مگر یہ بھی سچ ہے کہ مجھے پیسے بھی چاہئیں۔
انیتا کنول کے مطابق کام حاصل کرنے کے لیے آڈیشن دے رہی ہوں اور ہدایت کاروں سے ملاقاتیں بھی کر رہی ہوں لیکن اب تک مجھے کوئی بڑا کردار یا اہم پیشکش نہیں ملی ہے۔