• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میر رضا کی ہلاکت خودکشی نہیں قتل ہے، JIT بنائی جائے، جوڈیشل کمیشن رپورٹ

کراچی (محمد منصف) میر رضا کیس کی جوڈیشل کمیشن رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ میر رضا کی ہلاکت خودکشی نہیں قتل ہے، JIT بنائی جائے، جوڈیشل افسر عمر سیال کی رپورٹ میں پولیس تفتیش پر سوالات، جائے وقوعہ اور سی سی ٹی وی کے شواہد میں سنگین کوتاہیوں کی نشاندہی ،ڈی آئی جی عرفان بلوچ کی سربراہی میں جے آئی ٹی، آئی ایس آئی، آئی بی، رینجرز اور سائبر کرائم ایجنسی کے نمائندے شامل کرنے کی سفارش، ابتدائی خودکشی کے دعوے مسترد، حتمی پوسٹ مارٹم میں پیٹھ سے گولی لگنا قرار، میڈیکل بورڈ تبدیلی پر افسران کے خلاف کارروائی کی بھی سفارش کی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق جوڈیشل کمیشن کے سربراہ عمر سیال نے رپورٹ میں کہا ہے کہ ہمارے سامنے آنے والے شواہد کے پیش نظر میر رضا علی کا قتل ہوا ہے تاہم قتل ہے یا خودکشی اس کا تعین پولیس کو کرنا ہے کہ شواہد جمع کرے اور شواہد کی بنیاد پر ہی نتیجہ اخذ کیا جائے، کمیشن نے کہا ہے کہ واقعہ میں بلیک میلنگ یا قرضہ واپس نہ کرنے پر بدلہ لینے کے شبہ کی تحقیقات کو بھی نظر انداز کیا گیا ہے۔ میر رضا علی قتل کیس میں جوڈیشل آفیسر عمر سیال نے اپنی رپورٹ میں پولیس کی تفتیش پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے محکمہ صحت سمیت متعدد افسران کے خلاف کارروائی کی سفارش کر دی۔ ڈی آئی جی عرفان بلوچ کی سربراہی میں جے آئی ٹی کی سفارش بھی کر دی اور کہا ہے کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم میں آئی ایس آئی، آئی بی، رینجرز سندھ اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے نمائندے شامل کرنے کی تجویز ہے، ایف آئی اے کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کی کمیٹی بنانے کی سفارش بھی کی ہے کہ ذمہ داران کے خلاف کارروائی کرے۔

اہم خبریں سے مزید