• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خوشی کے مواقع پر زیادہ کھانا دل کا دورہ پڑنے کا سبب بن سکتا ہے: ماہرینِ صحت

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو 

خوشی کے مواقع پر انواع و اقسام کے کھانوں، تلی ہوئی اشیاء، میٹھے پکوانوں اور مرغن غذاؤں سے لطف اندوز ہونا معمول کی بات ہے مگر ضرورت سے زیادہ کھانا بعض افراد کے لیے صحت کے سنگین مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔

ماہرینِ صحت کے مطابق خوشی کے مواقع پر بھاری غذا کھانے کے بعد خصوصاً دل کی بیماری، ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس کے مریضوں میں دل پر اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ مقدار میں کھانا کھانے کے بعد نظامِ ہاضمہ کو کام کرنے کے لیے زیادہ خون کی ضرورت ہوتی ہے، جس کے باعث دل کو بھی زیادہ محنت کرنا پڑ سکتی ہے، صحت مند افراد کا جسم عموماً اس تبدیلی کو برداشت کر لیتا ہے لیکن جن افراد کے دل کی شریانیں پہلے ہی سکڑی ہوئی ہوں، ان میں دل کو خون کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ سکتا ہے۔

یہاں یہ بات واضح کرنا اہم ہے کہ صرف ایک مرتبہ زیادہ کھانا کھا لینے کا مطلب یہ نہیں کہ دل کا دورہ لازمی  پڑے گا، دل کا دورہ پڑنے کی بڑی وجوہات میں دل کی شریانوں میں خون کی روانی متاثر ہونا اور خون کا لوتھڑا بننا شامل ہیں جب کہ بھاری غذا بعض اوقات حساس افراد میں بھی اضافی دباؤ کا سبب بن سکتی ہے۔

مرغن و نمکین غذائیں صحت کو کتنا نقصان پہنچا سکتی ہیں؟

زیادہ چکنائی، نمک اور ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹس والی غذاؤں کا مسلسل استعمال دل کی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

زیادہ نمک کھانے سے جسم میں پانی جمع ہونے اور بلڈ پریشر بڑھنے کا خدشہ ہوتا ہے، خصوصاً ان افراد میں جو پہلے ہی ہائی بلڈ پریشر یا دل کی کمزوری کا شکار ہوں۔

اسی طرح ضرورت سے زیادہ شراب کا استعمال دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی اور بلڈ پریشر میں تبدیلیوں کا سبب بن سکتا ہے۔

علاوہ ازیں طویل وقت تک بھوکا رہنے کے بعد ایک ہی وقت میں بہت زیادہ کھانا، پانی کی کمی اور کھانے کے فوراً بعد سخت جسمانی سرگرمی بھی بعض افراد کے لیے خطرات بڑھا سکتی ہے۔

بدہضمی یا دل کا دورہ، فرق کیسے سمجھیں؟

بھاری کھانے کے بعد تیزابیت، پیٹ پھولنے، متلی اور بھاری پن کی شکایت عام ہے، لیکن بعض اوقات دل کا دورہ پڑنے کی علامات بھی بدہضمی سے ملتی جلتی ہو سکتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ سینے یا پیٹ کے اوپری حصے میں ہونے والی تکلیف کو محض گیس سمجھ کر نظر انداز کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

دل کا دورہ پڑنے کی ممکنہ علامات میں سینے میں دباؤ، جکڑن یا درد اور اس درد کا بازو، کمر یا جبڑے تک پھیلنا شامل ہیں۔

اس کے علاوہ سانس لینے میں غیر معمولی دشواری، ٹھنڈے پسینے آنا، چکر آنا یا اچانک کمزوری محسوس ہونا اور متلی یا پیٹ کے اوپری حصے میں غیر معمولی تکلیف بھی دل کا دورہ پڑنے کی ممکنہ علامات میں شامل ہے۔

اگر ان میں سے کوئی علامت ظاہر ہو تو فوری طور پر ایمرجنسی طبی مدد حاصل کریں، اینٹی ایسڈ یا گیس کی دوا کے اثر کا انتظار نہ کریں اور نہ ہی تکلیف کو ختم کرنے کے لیے چہل قدمی کرنے کی کوشش کریں، ایسی صورت میں مریض کو خود گاڑی چلا کر اسپتال جانے کے بجائے ہنگامی طبی مدد حاصل کرنی چاہیے۔

خوشی کے مواقع پر دل کو صحت مند کیسے رکھا جائے؟

ماہرین کے مطابق تقریبات کے دوران کھانوں سے مکمل پرہیز ضروری نہیں بلکہ اعتدال اور مناسب احتیاط اہم ہے، چھوٹی مقدار میں کھانا، آہستہ کھانا، دن بھر کھانے کے اوقات میں مناسب توازن رکھنا اور ضرورت سے زیادہ مرغن و نمکین غذاؤں سے بچنا مفید ہو سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ طویل وقت تک فاقہ کرنے کے بعد ایک ہی وقت میں بہت زیادہ کھانے سے گریز کرنا چاہیے، کھانے کے بعد اگر طبیعت ٹھیک ہو تو ہلکی چہل قدمی کی جا سکتی ہے، تاہم بھاری کھانے کے فوراً بعد سخت ورزش سے پرہیز بہتر ہے۔

ماہرین کے مطابق دل کے مریضوں کو اپنی تجویز کردہ ادویات باقاعدگی سے استعمال کرنی چاہئیں، اس کے علاوہ نمک، پانی اور دیگر غذائی پابندیوں سے متعلق اپنے معالج کی ہدایات پر عمل کرنا چاہیے۔


نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

صحت سے مزید