انسانی حقوق کمیشن پاکستان نے کمزور اور غیر محفوظ افراد کے تحفظ میں ریاست کی ناکامی کے تشویشناک رجحان پر فکر مندی کا اظہار کیا ہے۔
ایک بیان میں کمیشن نے کہا کہ ملتان میں 15 سالہ وسیم عباس کی مبینہ طور پر اس کے آجر کی گاڑی سے کچل کر ہلاکت اور پھر مبینہ پولیس مقابلے میں ملزم کی ہلاکت، ریاست کے اس رویے پر سنگین سوالات اٹھاتی ہے جس کے تحت انسانی جان اور قانونی تحفظات کو غیر اہم سمجھ لیا جاتا ہے۔
ایچ آر سی پی نے کہا کہ ماورائے عدالت ہلاکتیں نہ صرف قانونی عمل کے حق کی خلاف ورزی ہیں، بلکہ یہ متاثرین اور ان کے اہل خانہ کو سچائی اور انصاف کے حصول کے موقع سے بھی محروم کر دیتی ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ تاثر کہ اس طرح کی ہلاکتیں جرائم پر قابو پانے کا ایک قابلِ قبول ذریعہ ہیں، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ریاست کی سطح پر "احتساب کے بغیر انتقام" کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ کمیشن اس معاملے کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات اور ہر قسم کی ماورائے عدالت ہلاکتوں کے مکمل خاتمے کا مطالبہ کرتا ہے۔