• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حنا پرویز بٹ کی باتیں حکومت کیلئے شرمندگی کا باعث بنتی ہیں، عظمیٰ بخاری

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ حنا پرویز بٹ کی باتیں اُن کے لیے مسئلہ اور حکومت کے لیے شرمندگی کا باعث بنتی ہیں۔

جیو نیوز کے پروگرام آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ میں گفتگو کے دوران عظمیٰ بخاری نے کہا کہ حنا پرویز بٹ کتنی سنجیدہ ٹوئٹس کرتی ہیں میں اس بارے میں بات نہیں کرنا چاہتی۔

انہوں نے کہا کہ ن لیگی ایم پی اے ناسمجھی میں شاید ایسی باتیں کرجاتی ہیں، جو بعد میں ان کے لیے مسئلہ اور حکومت کے لیے شرمندگی کا باعث بنتی ہیں۔

صوبائی وزیراطلاعات نے مزید کہا کہ پنجاب میں بچوں اور خواتین کے خلاف جرائم میں پولیس کے پاس صرف 2 گھنٹے ہوتے ہیں، ان کیسز میں پولیس کو ملزمان کو گرفتار کرنا ہوتا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ سی سی ڈی سنگین جرائم میں ملوث ملزمان کے لیے بنائی گئی ہے ،اس کے بعد پنجاب میں جرائم میں کمی آئی ہے۔

عظمیٰ بخاری نے یہ بھی کہا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج تھی تو پتا چلا ورنہ بچے کا قتل ٹریفک حادثہ کہہ دیا جاتا، ستم ظریفی یہ بھی ہے کہ والد کے انتقال کے بعد رشتے داروں نے اس بچے کو ساتھ نہیں رکھا۔

انہوں نے کہا کہ آج بہت سارے رشتے دار سامنے آرہے ہیں لیکن ان 2 بچوں کو 2 وقت کی روٹی دینے کو کوئی تیار نہ تھا۔

صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ اس بچے کو کوئی تنخواہ نہیں ملتی تھی، 2 وقت کی روٹی پر اس شخص کے پاس کام کررہا تھا، بچے نے 3 دفعہ اس شخص سے بھاگنے کی کوشش کی۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ملزم کے بارے میں رپورٹ ہے کہ اپنے بچوں کے ساتھ بھی تشدد پسندانہ قسم کے معاملات تھے، ملزم حراست سے بھاگا، دو افراد اس کو چھڑانے کے لیے آئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملزم کے فرار کے بعد ناکہ بندی کی گئی تھی اور ان کا پیچھا بھی کیا جاتا رہا، بہاولپور کے قریب ملزمان کو روکنے کی کوشش کی گئی لیکن یہ نہیں رکے۔

صوبائی وزیرنے کہا کہ ملزمان سے مقابلوں میں ایک سال میں سی سی ڈی کے 7 اہلکار شہید 100 سے زائد زخمی ہوئے، دوسرا شخص جو اس ملزم کے ساتھ گاڑی میں تھا وہ آج بھی مفرور ہے۔

انہوں نے کہا کہ بچوں اور خواتین سے متعلق آج بھی وزیراعلیٰ نے میٹنگ کی اور انہوں نے پوچھا ہے کہ کیوں خواتین اور بچوں پر تشدد میں اضافہ ہورہا ہے۔

قومی خبریں سے مزید