اسلام آ باد (رانا غلام قادر) پاکستان اور مالدیپ نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے اور مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دینے کیلئے انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، ڈیجیٹل سکلز، صحت، تعلیم، دفاع، بحری سلامتی، زراعت، سیاحت، تجارت اور ماحولیاتی تحفظ سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کیلئے مفاہمت کی 20 یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط کر دیئے، دونوں مالک نے باہمی تجارت کو دو سال میں ایک کروڑ 34 لاکھ ڈالر سے بڑھا کر 20 کروڑ ڈالر تک لے جانے پر اتفاق کیا ہے، وزیراعظم شہباز شریف نے بھارت کو ایک بار پھر انتباہ کرتے ہوئے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی ناقابل قبول ہے،پانی ہماری ریڈلائن ہے، پانی روکنے کی کوئی بھی کوشش جنگی اقدام تصور ہوگی، مالدیپ کے صدر ڈاکٹر معیزو نے کہا کہ تعلیم، صحت اور تجارت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھائینگے، پاکستان، مالدیپ بزنس فورم سے تجارتی واقتصادی تعاون کی نئی راہیں کھلیں گی۔ ان خیالات کا اظہار دونوں رہنمائوں نے وفد کی سطح پر ملاقات اور مشترکہ پریس کانفرنس کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ قبل ازیں ایک خصوصی تقریب میں انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد نے مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو کو سیاست اور بین الاقوامی تعلقات کے شعبے میں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری دی۔ وزیراعظم نے مالدیپ کے صدر اور ان کے وفد کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیا۔ نائب وزیراعظم اسحق ڈار نے مالدیپ کے صدر سے ملاقات کی ۔مالدیپ کی خاتونِ اول ساجدہ محمد نے اسلام آباد میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کا دورہ کیا اور صحت عامہ کے شعبے میں ادارے کے ساتھ مستقبل میں تعاون میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور مالدیپ کے صدر ڈاکٹر معیزو کے درمیان گزشتہ روز وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے۔20 مفاہمتی یادداشتوں کا تبادلہ بھی کیا گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف اور مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو کے درمیان بدھ کے روز وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں ملاقات ہوئی اور بعد ازاں دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی وفود کی سطح پر اجلاس بھی ہوا۔وزیراعظم نے وزیراعظم ہاؤس آمد پر مالدیپ کے صدر کا استقبال کیا اور انکے اعزاز میں گارڈ آف آنر کی تقریب منعقد کی گئی۔ صدر معیزو نے گارڈ آف آنر کا معائنہ کیا اور وزیراعظم ہاؤس میں یادگار کے طور پر پودا بھی لگایا۔ مذاکرات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور مالدیپ کے دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیا اور علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعظم نے مالدیپ کے ساتھ دیرینہ برادرانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے اور اس کی قومی ترقی کی ترجیحات میں تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔مذاکرات میں اقتصادی تعاون کو خصوصی اہمیت دی گئی۔ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری، سیاحت، غذائی تحفظ، ادویات اور نجی شعبے کے درمیان شراکت داری بڑھانے پر اتفاق کیا۔دونوں رہنماؤں نے فضائی اور بحری رابطوں کو بہتر بنانے اور مشترکہ اقتصادی کمیشن کا اجلاس جلد منعقد کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیراعظم اور مالدیپ کے صدر نے اگلے دو سال میں دوطرفہ تجارت موجودہ ایک کروڑ 34 لاکھ ڈالر سے بڑھا کر 20 کروڑ ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا۔