سنگین جرائم میں ملوث ملزمان کی پولیس مقابلوں میں ہلاکت سے پاکستان کے نظام انصاف پر سوالات کھڑے ہوگئے۔
ان ملزمان کو پاکستان پینل کوڈ کے تحت سزائیں کیوں نہیں دی گئیں؟ منصفانہ ٹرائل کے عملی نفاذ میں کیا رکاوٹیں حائل ہیں؟
کسی بھی جرم کے گواہان کے تحفظ کے قوانین پر عمل کیوں نہیں ہوتا؟ عدالتوں میں ناقص چالان اور قانونی خامیوں کی وجہ سے ملزمان کی رہائی کا ذمہ دار کون ہے؟
کرائم سین سے سائنسی انداز میں شواہد کیوں نہیں اکٹھا کیے جاتے؟ کسی کیس کی آزادانہ تفتیش کی راہ میں پولیس پر کون سے دباؤ سامنے آتے ہیں؟
انسانی حقوق کمیشن پاکستان رواں سال فروری میں سی سی ڈی کے ’’مقابلوں‘‘ کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کرچکا ہے۔
کمیشن کے مطابق صرف 2025 میں سی سی ڈی کے 670 مقابلوں میں 924 مشتبہ افراد ہلاک ہوئے۔