کراچی (محمد منصف) قانونی ماہرین نے میر رضا کی موت پر جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کو مبہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کمیشن کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکا بلکہ الجھن کا شکار رہا اسی لئے حکومت کو جے آئی ٹی کی تجویز دیدی حالانکہ جے آئی ٹی کی تجویز دینا کمیشن کے مینڈیٹ میں نہیں تھا ، غیر ضروری تاخیر کے باعث شواہد ضائع ہوگئے ، ٹیسٹ کیس تھا جس کی روایتی انداز میں تفتیش کی گئی ، مقدمہ اے کلاس ہونے کے امکانات بڑھ گئے۔ تفصیلات کے مطابق سندھ بار کونسل کے سابق وائس چیئرمین حیدر امام رضوی میر رضا کی موت پر تشکیل دئے گئے کمیشن کو مقررہ مدت سے اضافی وقت ملا تاہم کمیشن کے سربراہ عمر سیال کسی حتمی نتیجے پر نہ پہنچ سکے یعنی ایک جگہ انہوں نے واقعہ قتل قرار دیا لیکن اسی رپورٹ میں کہا کہ چاہے خودکشی ہے یا قتل تفتیشی افسر شواہد جمع کرکے نتیجہ اخذ کرے ،۔فوجداری مقدمات کے ماہر وکیل نظار خان نے روزنامہ جنگ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کمیشن کی رپورٹ جائزہ کا لینے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ کمیشن الجھن کا شکار رہا اسی لئے کمیشن کوئی موثر رپورٹ نہ دے سکا ، اپنے تجربے کی بنیاد پر انہوں نے کہا کہ کیس میں ملزمان تک پہنچنا تقریباً ناممکن ہوگیا ہے مقدمہ اے کلاس ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔