• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قیام پاکستان کے وقت مغربی پنجاب کے اضلاع کی تعداد 16جبکہ کل تین ڈویژن تھے۔ لاہور ڈویژن میں لاہور، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، گجرات اور شیخوپورہ کے اضلاع شامل تھے اور ملتان ڈویژن میں ملتان، مظفر گڑھ، ڈیرہ غازی خان، جھنگ، مظفر گڑھ، لائل پور اور ساہیوال کے اضلاع، جبکہ راولپنڈی ڈویژن میں راولپنڈی، جہلم، میانوالی، شاہپور (سرگودھا)، کیمبلپور (اٹک) شامل تھے۔ بہاولپور ایک علیحدہ ریاست تھی جسکے نوابین نے رضاکارانہ طور پر 1955 میں پاکستان میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ پنجاب میں اِس وقت اضلاع کی کل تعداد 41 ہے اور یہ اضلاع ملک کی سیاسی جماعتوں اور انکے لیڈروں نے اپنے سیاسی اور ذاتی فائدوں کیلئے بنوائے۔

اب سوال یہ ہے کہ لاہور سے قصور اور شیخوپورہ سے ننکانہ صاحب الگ کر کے نئے اضلاع کیوں بنائے؟ گوجرانوالہ سے وزیر آباد اور حافظ آباد، ساہیوال سے اوکاڑہ اور پاکپتن، راولپنڈی سے مری اور چکوال، پھر فیصل آباد سے چنیوٹ اور ٹوبہ ٹیک سنگھ، اسی طرح تلہ گنگ، کوٹ ادو اور تونسہ نئے اضلاع کیوں بنے؟ قیام پاکستان کے وقت کل تین ڈویژن اور سولہ اضلاع تھے، اب 41 اضلاع اور دس ڈویژن ہیں اور انکا سبب یہ بتایا گیا کہ عوام کو انکے قریب ہی سہولتیں دی جا سکیں گی۔

جب نئے اضلاع قائم کیےجا رہے تھے تو کہا گیا کہ چکوال، مری کے لوگوں کو راولپنڈی جبکہ اوکاڑہ اور پاکپتن والوں کو ساہیوال آنا پڑتا ہے۔ ساہیوال ضلع کی چونکہ آبادی بھی بڑھ گئی ہے، اس لیے ضروری ہو گیا تھا کہ لاہور، ملتان، راولپنڈی اور فیصل آباد ڈویژن کے شہروں کو ضلع کا درجہ دے دیا جائے تاکہ عوام کو سفر کی تکالیف سے نجات دلائی جا سکے۔ یہ بھی کہا گیا کہ آبادی اور تعلیم یافتہ افراد کی تعداد روز بروزبڑھ رہی ہے، اس لیے نئے اضلاع کی صورت میں نئی نوکریاں دستیاب ہو نگی۔ ہر نئے ضلع میں پولیس، انتظامیہ اور دوسرے درجنوں نئے محکمے وجود میں آنے سے پہلے گریڈ سے لے کر بیس اور اکیس گریڈ تک کی نئی اسامیاں نکلیں گی، جس سے ایک تو افسران کی ترقیاں جلد ہوں گی اور ساتھ ہی مقابلے کا امتحان پاس کرنیوالے صوبائی اور وفاقی کیڈر کیلئےنئے افسران کو ایڈجسٹ کیا جا سکے گا۔

اگر نئے اضلاع اسلیے قائم کیے جاتے ہیں کہ عوام کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے تو پھر سیاستدانوں اور ان کے حکمرانوں سے نہایت ہی ادب سے گزارش کی جا سکتی ہے کہ جناب والا: اگر نارووال کے لوگ سیالکوٹ اور مری کے لوگوں کیلئے راولپنڈی کے سرکاری دفاتر میں اپنے کام کیلئے آنا جانا مشکل ہوتا تھا، تو پھر یہ جو تجویز سامنے لائی جا رہی ہے کہ پنجاب کے نئے چار یا پانچ صوبے قائم کیے جائیں تاکہ پنجاب کے دور دراز علاقوںسے لوگوں کو لاہور میں عدالتوں اور سرکاری دفاتر میں آنےجانےکیلئے جن پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ان کا خاتمہ کر دیا جائے؟ نئے ضلع بناتے وقت کہتے ہیں کہ اس سے وہاں کے لوگوں کو بہتر گورننس دستیاب ہو سکے گی، تو یہی بات اگر نئے صوبےکےبارے کی جائے تو کیا اس سے گورننس کئی درجے بہتر نہیں ہو سکتی؟ کیا اس طرح حکمرانوں اور اس علاقے کے عوام کا آپس میں فاصلہ کم نہیں ہو گا؟ وکلاء حضرات راولپنڈی اور ملتان، بہاولپور بنچ بنانے کے بعد ایک عرصے سے فیصل آباد بنچ کی تکرار اس لیے کر رہے ہیںکہ ان اضلاع اور ڈویژن کے لوگوں کو لاہور کی بجائے فیصل آباد اور سرگودھا بنچ میں اپنے مقدمات کیلئے جانا پڑے۔ اگر وکلاء فیصل آباد ہائی کورٹ بنچ کیلئے آواز اٹھا رہے ہیں تو اسی طرح اگر کوئی شخص یا ادارہ پنجاب میں کچھ نئے صوبوں کی بات کر رہا ہے تو یہ تسلیم کیوں نہیں کیا جاتا کہ وہ اپنے علاقے کیلئے نئے ضلع اور بنچ کی بات اس لیے کرتا ہے کہ ہمارے لوگوں کو دور دراز کا سفر نہ کرنا پڑے۔تو پھر رحیم یار خان اور کوٹ ادو سمیت لیہ، بھکر اور تونسہ سمیت ڈیرہ غازی خان کے لوگوں کا کیا قصور ہے کہ انہیں فیصل آباد، ملتان یا ڈیرہ غازی خان اور بہاولپور سے اپنے سرکاری اور ترقیاتی کام کیلئے لاہور تک کا طویل سفر کرنا پڑے۔ اپنی پسند کا نیا ضلع بنوانا ہو تو کہا جاتا ہے کہ اختیارات کی تقسیم نچلی سطح پر یا اپنے گھر کے قریب میسر ہو جائیگی۔ پھر یہ بھی تسلیم کیجیے کہ اس وقت ذرائع آمد و رفت کیلئے استعمال ہونے والی ٹرانسپورٹ، چاہے لوکل بسیں ہوں یا کسی کی ذاتی گاڑی، ان میں استعمال ہونیوالے تیل سمیت قیام و طعام کے اخراجات اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ رحیم یار خان، سرگودھا، خوشاب، اٹک، راجن پور اور لیہ، بھکر کے لوگوں کی جان نکل جاتی ہے۔ اور اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کبھی وزیر، مشیر، آئی جی اور سیکرٹری صاحب اور دوسرے صوبائی انتظامی افسران کبھی میٹنگ تو کبھی کسی اور مصروفیت کی بنا پر دستیاب ہی نہیں ہوتے، اور سائل کو اگلی مقررہ تاریخ پر پھر دھکے کھاتے ہوئے خوارہو کر واپس جانا پڑتا ہے۔ اگر یہی ان کا صوبہ ڈیرہ غازی خان، ملتان، فیصل آباد اور راولپنڈی میں ہو تو ان کو میسر آنیوالی آسانیوں کا اندازہ وہی کر سکتے ہیں جنکی آئے روز لاہور کی جانب پریڈ ہوتی ہے۔

اس وقت پنجاب کی آبادی تیرہ کروڑ کے قریب پہنچ چکی ہے اور اسکی وجہ سے نان ڈویلپمنٹ اخراجات نے اس صوبے کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ اسی طرح آج کے حالات میں کے پی، بلوچستان اور سندھ کی آبادی اور رقبہ پشاور، کراچی اور کوئٹہ سے کسی طور بھی خوش اسلوبی سے کنٹرول نہیں ہو رہا، اور ایسے وقت میں جب دشمن اور بین الاقوامی طاقتیں پاکستان کی جغرافیائی حدود کو لسانیت کے نام پر کمزور کرنے پر تلی ہوئی ہیں، ایسے میں لسانیت اور قومیت کو اپنے معاملات اپنے ہی گھر میں حل کرنے کی طاقت مہیا کر دینا بہترین حکمت عملی ہو گی، کیونکہ اب جنگ صرف سرحدوں پر نہیں بلکہ دشمن کے گھر تک لڑی جاتی ہے...!!

تازہ ترین