آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍ محرم الحرام1440ھ 19؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
سانحہ 16دسمبر 2014ء دنیاکی تاریخ میں ایک افسوسناک ، اذیت ناک دن کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ پشاور کے ایک ا سکول میں ہونے والے اس حادثے کی مثال انسانی تاریخ میں کہیں نہیںملتی۔ یہ بات حقیقت ہے کہ 1985ء کے بعد پاکستان میں فرقہ وارانہ اختلافات نے تشدد کا راستہ اختیار کیااور 2000ء کے بعد پاکستان کی بعض داخلہ اور خارجہ پالیسیوں کی وجہ سے تکفیری سوچ نے پاکستانی نوجوانوںکو یرغمال بنانا شروع کر دیا۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ سنہ 2000ء سے قبل مختلف عسکری و جہادی تنظیمیں پاکستان میں کام کر رہی تھیں اور ان سے متصل ہزاروں افراد ایک سوچ اور فکر کے ساتھ آزادانہ کام کر رہے تھے ۔ سنہ 2000ء کے بعد بیک جنبش قلم ان تنظیموں پر پابندی لگاتے وقت اس بات پر غور نہ کیا گیا کہ یہ ہزاروں نوجوان کہاں جائیںگے اور ان کا مستقبل کیا ہو گا اور یہی وہ وجہ ہے جس کی بنا ء پر پاکستانی نوجوانوں کا عالمی عسکری اور جہادی تنظیموں سے نہ صرف رابطہ قائم ہوا بلکہ ان تنظیموں میں موجود تکفیری سوچ کے حامل لوگوں نے اپنی سوچ کو بھی ان نوجوانوں میں منتقل کرنا شروع کیا اورپاکستان میں خود کش حملوں ، بم دھماکوں اور عوام الناس کے قتل کا سلسلہ شروع ہوا جس سے نہ کوئی مسجد محفوظ رہی نہ کوئی غیر مسلموں کی عبادت گاہ۔ اگر سنہ 2000ء کے بعد بننے والی پالیسی پر

غور کر لیا جاتا اور ان نوجوانوں کی فکری اور ذہنی رہنمائی کے لئے کوئی راستہ اختیار کیا جاتا تو ممکن ہے وہ حالات پیدا نہ ہوتے جس سے آج ہم دو چار ہیں ۔ بہر حال پاکستان کی قومی ، مذہبی و سیاسی قیادت نے سانحہ پشاور کے بعد ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے عزم کا جو اظہار کیا ہے ، اب ضرورت اس امر کی ہے کہ 21ویں ترمیم کے بعد دہشت گردی کو دہشت گردی سمجھا جائے او ر اس کو کسی مسلک ، مذہب یا عقیدے کے ساتھ نہ جوڑا جائے ، نہ ہی دہشت گردی کے نام پر مساجد و مدارس کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جائے ۔ اگر خدانخواستہ سنہ 2000ء کی طرح ایک بار پھر دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر غیر منصفانہ کوئی راستہ کھولا گیا تو اس سے نقصانات میں اضافے کا خدشہ ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نہ صرف مجرموں کو سزا ملے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ وہ ذہنی اور فکری راستے بند کیے جائیں جن کی وجہ سے ایک عام مسلمان نوجوان انتہاء پسندی اور دہشت گردی کا راستہ اختیا ر کرتا ہے۔
21ویں ترمیم میں مذہب اور فرقے کے لفظ پر جس طرح بعض جماعتوں اور گروہوں کا رد عمل سامنے آ رہا ہے اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اگر حکومت کی تمام تر یقین دہانیوں کے باوجود بعض جماعتیں اور گروہ یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہی ہیں کہ اس ترمیم کا مقصدصرف اور صرف مذہبی طبقہ ،مسجد اور مدارس کو نشانہ بنانا ہے تو اس سے انتہاء پسندی اور دہشت گردی کو تقویت ملے گی جو بہر صورت درست نہیں ہے ۔ وفاقی وزیر قانون و اطلاعات پرویز رشید اور وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اور خود وزیر اعظم پاکستان اس بات کی مسلسل تردید کر رہے ہیں کہ مدارس ، مساجد اور مذہبی طبقہ کو ہراساں نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی اس کا مقصود مذہبی طبقہ ، مدارس اور مساجد ہیں۔ لیکن بعض جماعتیں جس انداز سے اس پر اپنا رد عمل دے رہی ہیں اس سے قومی یکجہتی بھی متاثر ہو رہی ہے اور اس ترمیم کے بارے میں شکوک و شبہات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے جو درست بات نہیں ہے ۔ حقیقت یہی ہے کہ پاکستان کے 99% مدارس اور مساجد بغیر کسی بیرونی امداد کے چلتے ہیں اور ان کے مہتمم حضرات صاحب ثروت لوگوں سے چندہ اکٹھا کر کے مدارس کے نظام کو چلا رہے ہیں ، جو ایک فیصد یا اس سے کم زیادہ مدارس کے متعلق یہ شکایت ہے کہ وہاں سے انتہاء پسندی اور دہشت گردی پروان چڑھتی ہے تو حکومت کو بغیر کسی خوف کے ان کے بارے میں عوام کو اور مذہبی جماعتوں کو بتانا چاہئے ۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ مدارس کی بعض تنظیموں کے ذمہ داران کے مدارس کے اساتذہ اور طلباء پاکستان کے اندر دہشت گردی کی بڑی بڑی کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں تو اس معاملے میں ان سے وضاحت طلب کرنا کوئی حرج کی بات نہیں ہے ۔ جب تک مدرسہ اور مسجد کے معاملے میں حکومت رابطے کے فقدان کو ختم نہیں کرے گی ، اور مدارس اور مساجد کے معاملے پر چند سیاسی اور مذہبی شخصیات کو ہی مدرسہ اور مسجدسمجھ لے گی ، اس وقت تک مسائل حل نہیں ہو سکتے اور نہ ہی چند شخصیات کی سرگرمیوں کو تمام مدارس اور مساجد کی سرگرمیاں سمجھنا چاہئے۔ اگر ضلع ، تحصیل اور ڈویژن کی سطح پر مدارس و مساجد کی انتظامیہ اور حکومتی مشینری کا رابطہ ہو جائے تو بہت سارے مسائل حل ہو سکتے ہیں ۔ اسی طرح فرقہ وارانہ تشدد کے خاتمے کے لئے پاکستان علماء کونسل اور مولانا شاہ احمد نورانی کی سربراہی میں بنائے جانے والے ضابطہ اخلاق کو عملی شکل دے دی جائے تو اس سے فرقہ وارانہ تشدد پر قابو پایا جا سکتا ہے ۔انتہاء پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ہماری داخلہ پالیسی واضح ہونی چاہئے اور حکومت کو تمام گروہوں ، جماعتوں ، فرقوں کے ساتھ یکساں سلوک کرنا چاہئے ، لائوڈا سپیکرکے ناجائز استعمال پر مکمل پابندی لگانی چاہئے ۔
فرقہ وارانہ تشدد پر ابھارنے والی تقریروں اور تحریروں پر نہ صرف پابندی ہو بلکہ تقریر کرنے والوں اور لکھنے والوں کے لئے بھی سخت سزائوں کا تعین کیا جانا چاہئے ۔کالعدم تنظیموں کے معاملے پر بھی واضح پالیسی کا تعین ہونا چاہئے۔ اسی طرح خارجہ پالیسی کا از سر نو تعین کرتے ہوئے افغانستان سمیت تمام ممالک کے بارے میں ہمیں واضح سمت متعین کرنی چاہئے ، کیونکہ اگر خارجہ اور داخلہ پالیسی میں ابہام ہوا تو اس سے ایک بار پھر ہم نئے بحران کا شکار ہو جائیں گے ۔ 16 دسمبر کے بعد پوری قوم دہشت گردی اور انتہاء پسندی کے خلاف یکجا ہے ۔ ملک کے تمام مدارس اور مساجد 16 دسمبر کے سانحہ کی نہ صرف بھر پور مذمت کر رہے ہیں بلکہ دہشت گردی کے عفریت کے خاتمے کی بھی حمایت کررہے ہیں ان حالات میں مدارس اور مساجد اور حکومت کے درمیان مزید ہم آہنگی کی ضرورت ہے ۔ پاکستان علماء کونسل ، تحفظ مدارس دینیہ ، وفاق المساجد پاکستان اور وفاق المدارس پاکستان سے متصل ہزاروں مدارس نہ انتہاء پسندی کے کبھی معاون رہے ہیں اور نہ ہی دہشت گردی کے کبھی حامی اور نہ ہی ان مدارس کو کسی اسلامی یا غیر اسلامی ملک نے کبھی مدد فراہم کی ہے۔ اگر چند شخصیات، چند گروہ اور ادارے مذہب اور مدارس کے نام پر کچھ معاملات میں ملوث ہیں تو ان کو انفرادی اور سیاسی تناظر میں دیکھا جانا چاہئے، ان کو مسجد و مدرسہ سے نہیں جوڑنا چاہئے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں