آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
اگر فیصلے وقت پر نہ کئے جائیں تو اس کی بڑی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے اور اس حقیقت کو وزیر اعظم میاں نواز شریف کو سمجھنا چاہئے اس لئے بھی کہ ماضی میں ان کی حکومتیں اسی لئے گئیں کہ انہوں نے وقت پر فیصلے نہیں کئے تھے اگر میں اس کی تفصیل میں جائوں تو میرا یہ کالم سیاسی تاریخ نظر آنے لگے گا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ اس پوزیشن میں نہ ہوں کہ کوئی موثر قدم اٹھا سکتے ہوں۔ ان کے سامنے رکاوٹیں ہوں جو عبور نہ کی جاسکتی ہوں۔ مثال کے طور پر جب سپریم کورٹ نے ان کی حکومت اور اسمبلی بحال کی تو ان کو پہلا قدم یہ اٹھانا چاہئے تھا کہ وہ صدر غلام اسحٰق خان کا سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں مواخذہ کراتے کیونکہ انہیں دو تہائی اکثریت اسمبلی میں حاصل تھی اگر ایسا ہوجاتا تو آج پاکستان کی سیاست کچھ اور رخ اختیار کئے ہوئے ہوتی۔
وزیر اعظم میاں نواز شریف نے ایک بیان میں کہا ہے جو جمعہ 9؍جنوری 2015ء کے ’’جنگ‘‘ کی بڑی سرخی ہے ’’دہشت گردوں کو 20روز میں پھانسی دے دینی چاہئے‘‘ خصوصی عدالتیں 10، 15سال قبل بن جانی چاہئے تھیں میرے خیال میں یہ اس سے بھی پہلے ہوجانی چاہئے تھیں۔ روس نے جب افغانستان سے انخلا کیا تو امریکہ نے بغیر سوچے سمجھے افغان مزاحمت کاروں کو آپس میں دست و گریباں چھوڑ دیا اور پاکستان کو تنہا صورت حال سے نمٹنے کے لئے چھوڑ

دیا۔افغان جنگ کا ملبہ کسی پر تو گرنا تھا تو اس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک پاکستان تھا۔ کلاشن کوف کلچر اور ہیروئن کی وباء افغانستان سے آئی افغان مہاجرین کا جو ریلا آیا اس کو صحیح طور سے MANAGE نہیں کیا گیا۔ یہ منظر میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا جس کے جدھر سینگ سمائے اسی طرف جا گھسا جبکہ ایران نے اس کو صحیح انداز میں دیکھا اور اس کو پوری حکمت عملی کے ساتھ HANDLE کیا یہی وجہ ہے کہ وہاں ایران میں افغان ماجرین کی موجودگی کسی منفی ردعمل و رجحان کا باعث نہیں بنی۔ایران نے افغانستان سے آنے والوں کو کیمپوں تک محدود رکھا ہے انہیں شناختی کاغذات دئیے ان کے لئے بازار اسکول شفاخانے کیمپوں کے اندر ہی رکھے مقامی آبادی کے ساتھ ان کے روابط پر نظر رکھی۔ پاکستان میں تو یہ ہوا کہ افغانستان سے نقل مکانی کرکے آنے والے پاکستان کے شہروں بستیوں اور صوبوں کے دور دراز علاقوں تک جا پہنچے۔ اگر پہلے ہی ایران کی طرح سے اس مسئلے سے نمٹا جاتا تو آج ان کی موجودگی باعث تشویش نہ ہوتی۔
اب وزیر اعظم نے کہا ہے کہ تمام رجسٹرڈ افغانوں کو کیمپوں میں رکھا جائے گا اور غیرقانونی طور پر جو یہاں مقیم ہیں ان کو فوری واپس کیا جائے گا اور رجسٹرڈ مہاجرین کو بھی واپس جانا ہوگا۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ سب زبانی کلامی ہے ان کی واپسی کے آثار ابھی تک پیدا ہوتے نظر نہیں آرہے۔
ہونا تو یہی چاہئے تھا کہ فوجی عدالتوں کے قانون کے وجود میں آنے کے ساتھ ہی افغان مہاجرین کی واپسی کا سلسلہ شروع کردیا جاتا۔ یہ اتنا آسان کام نہیں ہے۔ اس کے لئے مصمم ارادے اور عمل کی ضرورت ہے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ سول حکومت کی رٹ کو ہر جگہ چیلنج کا سامنا ہے۔ ابھی مستقبل میں کئی مشکل مقامات آئیں گے۔ وفاقی حکومت کو وزیر اعظم میاں نواز شریف کی قیادت میں اس کا بلیو پرنٹ بنانا ہوگا یو این او کو امریکا کو اعتماد میں لینا ہوگا۔ افغان حکومت اس حوالے سے مرکزی کردار ادا کرسکتی ہے۔ عوام چاہتے ہیں کہ دہشت گردی کا خاتمہ ہو اور یہ مقصد فوج کے ہاتھوں ہی انجام کو پہنچے گا۔ عوام نے فیصلہ دے دیا ہے اور ان کی منتخب حکومت نے اور اسمبلی نے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے آئین میں تبدیلی کردی ہے۔ ہم نے بارہا انہی کالموں میں لکھا ہے کہ متحد ہوکر پاکستان کی سلامتی کی جنگ لڑیں کیونکہ امن اتحاد سے اور اتحاد عمل سے قائم ہوسکتا ہے۔ میں نے 7؍اکتوبر 2006ء کے ایک کالم میں لکھا تھا جس کا عنوان تھا ’’ترقی کے لئے امن ضروری ہے‘‘ ’’کوئی بھی ملک امن و امان کے بغیر ترقی نہیں کرسکتا۔ اس لئے پوری احتیاط سے اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے جدوجہد کی ضرورت ہے ملک کے اندر ایسے عناصر موجود رہے ہیں جو کسی نہ کسی بہانے پاکستان کو عدم استحکام میں مبتلا کرنے کی کوشش میں لگے رہے ہیں اور یہ سلسلہ 1947ء ہی سے جاری ہے۔ اس کے پیچھے پاکستان کے پڑوسی ملکوں اور عالمی طاقتوں کا بھی ہاتھ رہا ہے ملک کو بنگال سے لے کر خیبر تک ہیجان میں مبتلا رکھا گیا (جب مشرقی بنگال پاکستان کا حصہ تھا) کوئی دور ایسا نظر نہیں آئے گا جب عوام کو تشدد کی طرف نہ لے جایا گیا ہو لوگوں کو سڑکوں پر آنے کی دعوت نہ دی گئی ہو ایسے حالات میں امن کیسے قائم ہوتا۔ اب جب امن نہیں ہوگا تو محترم معاشرہ کس طرح وجود میں آئے گا۔ جمہوری اقدار کس طرح فروغ پائیں گی تعلیم کس طرح عام ہوگی۔ معاشی ترقی کس طرح ہوگی صنعتی انقلاب کس طرح آئے گا چنانچہ پاکستان کی پوری تاریخ علمی تنزل، معاشی ناہمواری، سیاسی عدم استحکام اور لاقانونیت کی تاریخ ہے‘‘۔دہشت گردی کے خلاف حکومت نے اور خاص طور سے وزیر اعظم نواز شریف نے جو لب و لہجہ اختیار کیا ہے وہ قومی اتفاق رائے کے بغیر ممکن نہیں تھا لیکن ابھی رکاوٹیں ختم نہیں ہوئی ہیں ابھی کئی مشکل مقامات سامنے ہیں جن کو عبور کرنا پڑے گا۔ ابھی حکومت کو سپریم کورٹ کو مطمئن کرنا ہے قوم کا مقدمہ وہاں پیش ہونا ہے۔ میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ آج کا وزیراعظم میاں نواز شریف ماضی میں ناکام ہونے والے میاں نواز شریف سے زیاہ مستعد اور بروقت فیصلہ کرنے والا ہے اگر سول حکومت فوج اور عوام مل کر آگے بڑھیں تو پاکستان میں دہشت گردی کو ختم کرنے میں دو سال نہیں اس سے کم وقت لگے گا طاقت کے استعمال کے ساتھ عدل قائم کرنا بھی ضروری علم و دانش کے ہتھیار سے ہی دشت گردوں کو کنٹرول کرنا ہوگا ان کے ذہن بدلنا ہوں گے ان کی سوچ تبدیل کرنا ہوگی یہ بہت مشکل کام ہے ، اس کو آسان نہ سمجھا جائے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں