آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ7؍ ربیع الاوّل 1440ھ 16؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
پاکستان کے لئے ضرررساں پہلی چیز اسٹیبلشمنٹ کے دل میں کالعدم جہادی تنظیموں ، جیسا کہ لشکر ِ طیبہ اور جیش ِ محمد، کے لئے نرم گوشہ رکھنا ہے ۔کیا وجہ ہے کہ جب بھی پٹھان کوٹ یا اُڑی جیسا واقعہ پیش آتا ہے تو ثبوت ملنے سے پہلے، بے اختیار پاکستان مورد ِ الزام ٹھہرایا جاتا ہے؟ اس کی وجہ ان کالعدم تنظیموں کی پاکستان میں موجودگی ہے ۔ چنانچہ پاکستان کے ناقدین اس کے ملوث ہونے کی وجہ تلاش کرہی لیتے ہیں۔ ہم چیختے رہیں ، فلک گیر دہائی دیتے رہیں کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہے ، جوکہ درست ہے ، لیکن ہمارے ہاں ایک حافظ سعید اور ایک مولانا مسعود اظہر کی موجودگی ہمارے اصولی موقف کا رخ پھیرنے کے لئے کافی ہے۔ اور پھر ہم دنیا کی بے اعتنائی پر شکوہ کرتے ہیں۔ پاکستان کو بے انتہا نقصان پہنچانے والی دوسری چیز حکمران اشرافیہ کی عقربی بدعنوانی ہے جس کا صرف ایک ہلکا سا کنارہ پاناما لیکس میں ابھر کر سامنے آیا۔ بدعنوانی کے الزامات سے آلودہ قیادت، جو ہمہ وقت احتساب کے تیروں کا رخ بدلنے کی کوشش میں ہو، قیادت کاحق ادا نہیں کرسکتی۔ وہ عوام کو درست کام کرنے کی تحریک کیونکر دے گی؟یہ بھی درست ہے کہ بدعنوان قیادت کالعدم جہادی تنظیموں کے خلاف جنگ میں فوج کی رہنمائی نہیں کرسکتی ۔
ان دونوں عوامل کی وجہ سے پاکستان عالمی

برادری کی توجہ کشمیریوں کی ابتلا کی طرف مبذول نہیں کرا سکتا۔ جب ہم بھارتی مظالم کی بات کرتے ہیںتو انڈیا ’سرحد پار دہشت گردی‘ کی دہائی دینا شروع کردیتا ہے ۔ ہم دنیا کے سامنے لاکھ تاویلیں پیش کرکے اس الزام کو جھٹلاتے رہیں لیکن جب ہمارے ہاں جہاد ی تنظیمیں موجو د ہیں تو کوئی ہماری بات نہیں سنے گا۔ فوج نے جنرل راحیل شریف کی قیادت میں حیر ت انگیز کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فاٹا میں دہشت گردی سے لے کر کراچی میں الطاف حسین کی خوفناک لہر کا رخ پھیر دیا ۔ تاہم اب جبکہ جنرل راحیل شریف کی مدت تمام ہوا چاہتی ہے ، جہادی تنظیموں کے خلاف کارروائی سے اجتناب کرنا یقینا ناکامی کے زمرے میں آتا ہے ۔ ایک مرتبہ پھرکہتا ہوں کہ اگر پاکستان کی حکمران اشرافیہ فہم وفراست سے مکمل عاری نہیں ہوئی تو اُنہیں چاہئے کہ کسی صدارتی فرمان کے ذریعے حافظ سعید کو پاکستان بھر کی فلاحی تنظیموں کا سربراہ مقرر کردیں۔ ان کی لشکر ِ طیبہ یا جماعت الدعوۃ نے سیلاب اور زلزلے جیسی قدرتی آفات کے وقت فلاحی کاموں کی بے پناہ سکت دکھائی ۔ چنانچہ ا س کے تربیت یافتہ کارکنوں کو کسی مفید کام میں استعمال کرنا چاہئے ۔ جہاں تک مولانا مسعود اظہر کا تعلق ہے تو ضروری ہے کہ جہاد کا باب بند کرکے اُنہیں اسپیشل فورسز کا اعزازی اتالیق مقرر کردیا جائے ۔ وہ اور ان کے کارکن بھارتی فورسز سے کشمیر میں برسر ِ پیکار رہے ہیں، چنانچہ ہم ان کے جہاد ی طریق ِکار پر تو سوال اٹھا سکتے ہیں لیکن ایسے پرعزم افراد کی مثالیت پسندی اور مخلص جذبے پر انگلی اٹھانا ممکن نہیں، جو اپنے مقصد، جو بھی ہو، کے لئے جان دینے کے لئے بھی تیار ہوں۔
ایک ایسے معاشرے ، جس میں ترقی کی معراج جائزو ناجائزطریقے سے دولت اکٹھی کرنا ہے، کسی بھی مقصد کی خاطر بے غرض اور مخلص جذبے رکھنے والے افراد بہت نایاب ہیں۔ ہم میں سے زیادہ تر اخلاص سے تہی داماں ہوتے ہیں، معمولی سا مفاد ہمیں اپنی راہ تبدیل کرنے پر راضی کرلیتا ہے ۔ چنانچہ سیاست اور جہا د کے نظریے پر سوال اٹھاتے ہوئے ہمیں ان گروہوں کے عام کارکنوں کی اخلاقی پختگی کی قدر کرنی چاہئے، نیز ان کی طرف انگشت نمائی سے گریز کی ضرورت ہے ۔ یہ وہ قیمتی جوان ہیں جو اپنے عقائد کی خاطر موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ کسی بھی قسم کا حوصلہ ہو، قابل ِ تعریف ہوتا ہے ، حتیٰ کہ ایک انتہاپسند کی جرات بھی۔ یقینا عام انسان ایسے خطرات مول نہیں لے سکتے ، اور نہ ہی اُن میں کسی واضح مقصد کواپنانے اور اس کے لئے زندگی وقف کرنے کا حوصلہ ہوتا ہے ۔ وہ کسی موقف پر ثابت قدم نہیں رہ پاتے ہیں۔ وہ صرف ساحل پر بیٹھ کر دوسروں کو موجوں سے جدوجہد کرتے دیکھتے ہیں، اور امید رکھتے ہیں کہ اُن کے تبصرے گہر یاب ہوں گے۔ ضروری ہے کہ ان تنظیموں کے پرعزم کارکنوں کوتلاش کرکے قومی زندگی کے مرکزی دھارے میں شامل کیا جائے ۔ اس کام میں گفتار کے غازیوں کو ایک طرف رکھا جائے ۔ امریکیوں سے پوچھیں کہ کس کے مشورے سے بوکھلاہٹ کا شکار، پال بومر نے عراقی فوج کو تحلیل کردیا تھا؟ اس ایک احمقانہ اقدام کے نتیجے میں انتہا پسند تنظیموں نے سراٹھا لیا اور امریکی قبضے کے خلاف مزاحمت شروع کردی۔ ہمیں اس راہ پر چلنے کی ضرورت نہیں، لیکن جنرل اسٹاف، اور قومی نظریے کی پاسبان، آئی ایس آئی کے ذہن میں یہ بات واضح ہونی چاہئے کہ اب جہاد کے دن جاچکے ۔ اب ایسی تنظیموں کے ساتھ ہلکے سے تعلق کی بھی پاکستان کوبھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ اس کے کچھ خدوخال ہماری آنکھوں کے سامنے بننا شروع ہوبھی گئے ہیں۔
ان جہادی تنظیموں جتنی ہی خطرناک پاکستان کے لئے سویلین حکمرانوں کی لالچ و طمع ہے جس کے سیر ہونے کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔ ان کے ساتھ کیا مسئلہ ہے؟ کیااُنھوں نے پہلے ہی بے اندازہ دولت جمع نہیں کررکھی جو اگلی بیس نسلوں کے لئے بھی کافی ہے؟ اس کے باوجود انہیں ہر شعبے، اسٹیل سے لے کر مرغ بانی تک، میں بھاری نفع سمیٹتے دیکھیں گے۔ پاکستان سے لے کر لندن تک کی مہنگی ترین جائیدادیں ان کی جیب میں ہیں۔ اگر اتنا کچھ حاصل کرکے بھی سیر نہیں ہوئے تو اس کا مطلب ہے کہ طمع کا یہ قلزم کبھی نہیں بھرے گا۔ اس دولت کا ان کے ہاں مصرف کیا ہے جو ہل من مزید کی تجسیم بنے ہوئے ہیں ؟ان کی عبادت و ریاضت ، جس میں ان سے بڑھ کر کم سیاست دان ہی ہوں گے، اور مقامات ِ مقدسہ کی زیارت ان کی مبینہ طور پر کمیشن یابی کی صلاحیت کو کچھ تو کم کردیتی۔
اس طرح پاکستان کے ایک طرف جہاد کی یلغار ہے تو دوسری طرف دولت کی نہ سیراب ہونے والی پیاس۔ اگر پاکستان کو امن درکار ہے تو ان دونوں کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ حافظ سعید اور مولانا مسعود اظہر کو عوامی دھارے میں شامل کریں اور پاکستان کی خاطر پاناما لیکس میں سامنے آنے والے انکشافات پر کارروائی آگے بڑھائیں۔ حیرت ہے ، حکمران اشرافیہ اس ایشو پر کب تک احتساب کی آنکھوں میں دھول جھونکے گی؟سمندر پار اکائونٹس کی تفصیل موجود ہے ۔ مے فیر جائیداد اور ان اکائونٹس کا ان کے کاغذات میں کبھی ذکر نہیںہوا۔ چنانچہ وزیر ِاعظم اور ان کے اہل ِخانہ قانون کے سامنے جواب دہ ہیں۔ اگر جہاد کا راستہ بند کردیا گیا ہے ، جو کہ اچھی بات ہے ، تو پھر پاناما پر چکمہ بازی بھی ختم ہونی چاہئے ۔ تاہم اس پر ابھی احتساب کی عدالت نہیں سجی۔ عدالتیں فعالیت سے دست کش ، نیب اور ایف آئی اے جیسے ادارے حکومت کے انگوٹھے کے نیچے ہیں۔ چنانچہ یہاں ایک جمود دکھائی دیتا ہے ۔ اسے کیسے توڑا جائے؟ اس کے لئے کون سی آسمانی طاقت اترے گی؟
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کو قیادت کے بحران کا سامنا ہے۔ ہمارے پاس ٹینک، میزائل اور ایٹم بم اور ایسی جذباتی قوم ہے جو کسی بھی چیلنج پر آپے سے باہر ہوجاتی ہے ، لیکن ہماری قیادت کی صفیں خالی اور بے جان ہیں۔ تاجروں کو حکمران بنانے کا انجام ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ سویلین رہنمائوں میں عمران ہیں، لیکن وہ اقتدار سے بہت دور ہیں۔ پاکستان ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے ۔ یہ جہاد اور پاناما لیکس پر فیصلہ کن کارروائی کرکے آگے بڑھ سکتا ہے ، پا پھر یہ ماضی کی دلدل میں ہی جمود کا شکار رہے گا۔اگر ایسا ہو اتو اسے مقدر کی خرابی کے سوااور کیا نام دیا جائے؟


.

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں