آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍ محرم الحرام1440ھ 19؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
کہا جاسکتا ہے کہ دارالحکومت پر چڑھائی کرنے اور اسے بند کردینے کی دھمکی کی کوئی وقعت نہ ہوتی ، اور نہ ہی ایسا ممکنات میں سے دکھائی دیتا اگر شریف فیملی کے جاتی امرا میں محل ، جسے وزیر ِاعظم کا کیمپ آفس قرار دے کر سرکاری وسائل سے چلایا جارہا ہے، کے قریب عوامی طاقت کا متاثر کن مظاہرہ نہ ہوتا۔ میں نے ایک گزشتہ کالم میں کہا تھا کہ اس محل کے گرد دیوار، جسے جلد ہی قومی یادگار کا درجہ حاصل ہو جائے گا، پر 45 کروڑ روپے خرچ ہوئے ۔ میں غلطی پر تھا، رقم تھوڑی سی زیادہ ہے ، یہی کچھ 75 کروڑ روپے ہے۔
سرکاری مال پر ہاتھ صاف کرنے کے لئے شاطرانہ چال سازی کوئی ہم سے سیکھے۔ محل نما سرکاری دفاتر میں رہنا، اور پھر اپنی نجی رہائش گاہ کو بھی کیمپ آفس قرار دے کر ریاست کے خرچے پراس کی مہنگی تزئین و آرائش کرنا ہم پر ختم ۔ دنیا کے کسی اور حصے میں اسے کھلی لوٹ مار قرار دے کر تادیبی کارروائی ہوتی ، لیکن ہمارے ہاں احتساب ایک الف لیلیٰ کی کہانی کی سی صداقت رکھتا ہے ۔ اگر یہ اسلامی دور ہوتا، ہم مذہب کی باتیں کرنے سے باز کیوں نہیں آتے، فرض کریں خلفائے راشدین کا دور ، تو یہ رقم اُن کی جیبوں سے نکلوائی جاتی۔ یہاں سب چلتا ہے ، اور ہم جمہوریت کے نام پر دم سادھے جنبش ِ مژگان بھی بار سمجھتے ہیں۔
ایک سوچ یہ بھی کہ اگر اسلام آباد کو مستقل طور پر

ہی بند کردیا جائے تو شاید اسلامی جمہوریہ کی اس سے بڑی اور کوئی خدمت نہ ہوگی۔ ہم نے اب تک جن لاحاصل کاموں میں اپنی توانائی صرف کی، ان کا سرخیل اس شہر کا قیام تھا۔ اس کا ہمیں فائد ہ تو کوئی نہ ہوا، الٹا نقصا ن ہی ہوا کیونکہ بنگالی بھائی ،جن سے ہم نے عشروں پہلے چھٹکارا پالیا، خود کو اس کے ساتھ وابستہ نہیں کرسکتے تھے ۔ مشرقی پاکستا ن کی علیحدگی کی کہانی میں اسلام آباد کا باب شامل ہے ۔ تاہم یہ کھوکھلے معروضات ، اس وقت ہمیں اُس حقیقی خطرے کا سامنا ہے جس کا تعلق عمران خان سے ہے ۔ اُنھوں نے رائے ونڈ جلسے میں اعلانیہ طور پر کہا تھا کہ جب تک وزیر ِاعظم اور ان کے اہل خانہ کے حوالے سے سامنے آنے والے مالیاتی اسکینڈل کی شفاف تحقیقات نہیں ہوتیں، اُن کے اور ان کے حامیوں کے پاس تیس اکتوبر کو اسلام آباد مارچ کے سواکوئی آپشن نہ ہوگا۔
رائے ونڈجلسے سے پہلے ایسے افراد کی کمی نہ تھی جو کہتے تھے کہ یہ ایک فلاپ شو ہوگا، اور یہ کہ اس میں آکر عمران خان کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔نیز اس کے بعد حکومت کے نقیب اُن کا ٹی وی ٹاک شوز میں تمسخر اُڑائیں گے۔ تاہم کامیاب جلسے کے بعد وہ نقیب حیرت انگیز طور پر خاموش ہیں۔ ان کی لاف زنی انجانے خوف کا شکار ہوکر دبک سی گئی ۔ پی ایم ایل (ن) نے اس بات کا بھی بہت چرچا کیا کہ عمران خان اکیلے ہیں، اُن کے ساتھ کوئی سیاسی جماعت کھڑی نہیں تو وہ کیا تیر مار لیں گے۔ میرا ذاتی طور پر بھی یہی خیال تھا کہ شیخ الاسلام کے پرعزم کارکنوں، جنھوں نے 2014 کے دھرنوں کے دوران پنجاب پولیس اور اسلام آباد انتظامیہ کو بھاگنے پر مجبور کردیا تھا، کی غیر موجودگی میں عمران خان کو طاقت کا مظاہرہ کرنے میں مشکل پیش آئے گی۔ تاہم اس چیلنج کو دیکھتے ہوئے عمران خان میدان میں اترے اور تمام معاملات اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے دن رات ایک کردئیے ۔ جلسے والے دن کوئی جماعت ساتھ نہ تھی، لیکن اُن کی اپنی جماعت ہی اپنی موجودگی کا توانا احساس دلانے کے لئے کافی تھی ۔
یہ ایک اہم تجربہ تھا، اور اس کے بعد اب عمران کو اسلام آبا د کا رخ کرتے ہوئے کسی ہچکچاہٹ کا سامنا نہیں ہوگا۔ پاکستان تحریک ِ انصاف نے آخر کار سیکھنا شرو ع کر دیا ہے کہ شخصی کشش عوام کو اپیل تو کرتی ہے لیکن ایک عوامی پارٹی کے لئے تنظیم سازی اور پلاننگ کی بھی ایک اپنی اہمیت ہے ۔ باکسنگ رنگ میں عظیم محمد علی سے بڑھ کر کوئی بھی قدرتی صلاحیتیں نہیں رکھتا تھا ، لیکن اس کا یہ مطلب ہر گزنہیں کہ وہ ٹریننگ کو نظر انداز کردیتے ۔ عمران خان جانتے ہیں کہ اس وقت کیا چیز خطرے میں ہے ۔ چیلنج کرنے کے بعد اب وہ اس سے صرف ِ نظر کرنے ، یا اسے آسان لینے کے متحمل ہونہیں سکتے ۔ ٹکٹ ہولڈرز، اسمبلیوں کے ارکان، اہم افرادکو کارکن اور حامیوں کو ساتھ لانے کا کوٹہ دیا جارہا ہے ۔ کارکنوں سے اپنے ساتھ کمبل اور خوراک وغیرہ بھی لانے کا کہا جارہا ہے ۔ یہ تیاری پی ٹی آئی کے سیاسی توشے میںایک نیا اضافہ ہے ۔ اس سے پہلے پی ٹی آئی جلسے منظم کرنے میں ماہر تھی، سائونڈسسٹم کا سیاسی اکھاڑے میں استعمال ایک نئی اختراع تھی، لائٹنگ اورا سٹیج کی ترتیب کابھی خیال رکھا جاتا ۔ تاہم مارچ کے شرکا کواپنے ساتھ کمبل اور اشیائے خوردونوش لانے کاکہنا، اور ، ایک اردو اخبار کے مطابق عارضی بیت الخلا قائم کرنے کے انتظام کرنا ایک پیش رفت ہے ۔اس سے پہلے مذہبی جماعتیںان امور کا خیال رکھتی تھیں۔ جماعت ِ اسلامی اورڈاکٹر قادری کی پی اے ٹی کئی کئی دن کھلے میدانوں میں گزارے کا تجربہ رکھتی ہیں، لیکن تمام تر جوش وجذبے کے باوجود پی ٹی آئی اس میدان کی کھلاڑی نہیں سمجھی جاتی تھی۔ اس کے جلسے جوش، ہلکی پھلکی تفریح ، سائونڈ اور لائٹنگ کا بہترین امتزاج ہوا کرتے تھے ۔ تاہم پہلی مرتبہ یہ ایک فوج کی طرح مارچ کا اہتمام کررہی ہے ۔
تنظیم سازی کا تعلق تھیوری سے زیادہ عملی تجربے سے ہوتا ہے۔ اب پی ٹی آئی کے جیالے اس تجربے سے گزر رہے ہیں۔ شیخ الاسلام نے ایک حوالے سے بہت بڑے موقع کو ضائع کردیا۔ اُن کی قصاص تحریک بہت غلغے سے شروع ہوئی لیکن ہلکی پھلکی آہ وفغاں پر ختم ہوگئی۔ سیماب صفت ڈاکٹر صاحب ہنگام وقت کا جو بن برپا کرکے یکایک منظر سے غائب ہوجانے اور زیادہ سے زیادہ ایک مبلغ کے طور پر تو یاد رکھے جائیں گے لیکن عملی میدان میں اُن کی کارکردگی کا گراف پست ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیائے اسلام میں مبلغین کی کمی نہیں۔ یہاں قدم قدم پر شمس العما اور مقدس احکامات کی نکتہ آفرینی کے زمزمہ پرداز موجود ہیں۔ تیرہویں صدی کے وسط میں اسلامی تہذیب کا زوال شروع ہوا، تو جب ہلاکو خان کی فوج نے بغداد کا محاصرہ کیا اور تاتاری جوانوں کی خمیدہ تلواروں کی چمک سے وقت کی نبضیں برہم ہورہی تھیں تو بعض علما نہایت انہماک سے مقدس کتاب کے نت نئے معنوں پر دفتروں کے دفتر سیاہ کررہے تھے ۔ تاہم ، جیسا کہ کارل مارکس کا کہنا ہے ، اصل فلسفہ دنیا کی وضاحت کرنا نہیں، اسے تبدیل کرنا ہے ۔ شیخ الاسلام کی تبلیغ بہت پر اثر سہی، لیکن میرا خیال ہے کہ ان کے پیروکاروں کا عزم اور ثابت قدمی ان کی تقاریر سے زیادہ متاثر کن ہے۔
یہ سوال کہ تیس اکتوبر کو کیا ہوگا، اس پر مختلف حکومتی حلقے بھرپور ریاستی طاقت استعمال کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں، لیکن پاناما پیپرز کے ماروں کے پاس پنجاب پولیس اور اسلام آباد پولیس ہیں، جن کے کس بل گزشتہ دھرنوں میں سامنے آچکے ہیں۔ پولیس یہ بھی جانتی ہے کہ پہلے تو اُنہیں ماڈل ٹائون میں بے رحمی سے استعمال کیا گیا لیکن پھر اُن کے حال پر چھوڑ دیا گیا۔
ماڈل ٹائون کا سانحہ اگر ایک طرف شریف برادران کی جان آسانی سے نہیں چھوڑے گا تو یہ ہمیشہ کے لئے پنجاب پولیس کے ذہن سے بھی محونہیں ہوگا۔ جب بھی پی ٹی آئی کے کارکن اسلام آباد کا رخ کریں گے، ان کے ہمراہ ماڈل ٹائون سانحے کا بھوت ہوگا۔ بدترین بات یہ کہ جب حکومت کو موجودہ صورت ِحال میں فوج کی حمایت کی شدید ضرورت تھی، ضرورت سے زیادہ چالاکی دکھانے کے چکرمیں اس سے محروم ہوچکی ہے۔ مذکورہ اخبارسرل المیڈا کی کہانی کو لافانی دلیری کی داستان کے طور پر پیش کررہا ہے۔ خداآپ کا بھلا کرے، یہ کوئی پنٹاگون پیپر نہیں، یہ کہانی وزیر ِاعظم آفس میں سے کسی نے لیک کی ہے۔ فی الحال اس معاملے کو ایک طرف رکھیں، میں نے انتیس تاریخ کے لئے ایک کمرہ بک کرالیا ہے۔ انتظار کی گھڑیاں بے تابی اور دل کی دھڑکن میں اضافہ کررہی ہیں۔


.

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں