آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات6؍ ربیع الاوّل 1440ھ 15؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
خواجہ سعد رفیق کوئی ایک ماہ بعد اخبار نویسوں کے ہاتھ لگے تھے۔ اس دوران وہ یورپ کے نجی دورے پر تھے اور ادھر پاکستان میں سیاسی پلوں کے نیچے بہت سا پانی بہہ چکا تھا۔ اپنے ہاں سیاست کو کسی پہلو قرار نہیں۔ ایک بحران ٹلتا ہے تو دوسرا آلیتا ہے۔
جہاں بھونچال بنیادِ فصیل و در میں رہتے ہیں
ہمارا حوصلہ دیکھو ہم ایسے گھر میں رہتے ہیں
تحریک ِانصاف کے استعفوں کا ’’بحران‘‘ حل ہوا تھا کہ اب ایم کیو ایم یہی کارڈ کھیلنے پر تل گئی۔ زیادہ دن نہیں گزرے جب جناب زرداری نے چترال سے کراچی تک پاکستان کو بند کردینے اور اینٹ سے اینٹ بجادینے کی دھمکی دی تھی۔ تب ان کا مخاطب کوئی اور تھے اور اب اُنہوںنے وزیراعظم نوازشریف کو ہدف بنایا۔ ہونٹوں پر مسکراہٹ سجائے رکھنے والے آصف زرداری ڈاکٹر عاصم حسین کی گرفتاری پر آگ بگولہ ہوگئے تھے اور نواز شریف پر 1990 کی دہائی کی انتقامی سیاست دوبارہ زندہ کرنے کا الزام لگارہے تھے۔ ادھر الطاف حسین کے ساتھ بھی بیانات اور جوابی بیانات کا یُدھ پڑگیا ہے۔ لندن میں مقیم ایم کیو ایم کے قائد کی طرف سے پیپلز پارٹی کی قیادت پر وعدہ خلافی کے الزام کا جواب بھی خود زرداری صاحب کی طرف سے آیا جس میں اُنہوں نے الطاف حسین کو یہ احساس دِلانے کے علاوہ کہ بہتان تراشی انہیں زیب نہیں دیتی،ایم کیو ایم پر ہمیشہ

وعدہ خلافی کرنے اور دھوکہ دینے کا جوابی الزام عائد کردیا تھا۔
یاد آیا، الیکشن 2008کے بعد یہی زرداری صاحب تھے جو مفاہمت کا عَلم تھامے پہلے جاتی امرا پہنچے۔ نوازشریف کو اپنا بڑا بھائی قرار دینے کے علاوہ بلاول اور حسین نواز کو بھی اس رشتے میں باندھنے کا اعلان کیا۔ کراچی پہنچ کر ان کا رُخ نائن زیرو کی طرف تھا۔ راستے میں انہوں نے ’’شہدا‘‘ کے قبرستان جا کر فاتحہ خوانی بھی کی۔ ان میں بیشتر وہ تھے جو پیپلز پارٹی کے گزشتہ دور میں آپریشن کا نشانہ بنے تھے۔ نائن زیرو پہنچ کر اُنہوںنے ماضی کے سارے قضیے دفن کرنے اور دونوں طرف سے ہونے والی زیادتیوں پر معافی تلافی کے ساتھ، الطاف حسین کو منہ بولا بھائی بنالیا۔ یہاں انہوں نے فضہ اور بختاور کو اس رشتے میں باندھنے کا اعلان کیا تھا۔ سیاسی مفادات کے ٹکراؤ میں حقیقی بھائیوں کو باہم مدمقابل بنتے دیر نہیں لگتی اور یہاں تو منہ بولا رشتہ تھا۔چنانچہ اب وہ باہم دست وگریباں ہیں تو حیرت کیسی؟ میاں صاحب نے اچھا کیا کہ اپنے رفقا کو اس ناگوار اور ناخوشگوار کھیل کا حصہ بننے سے منع کردیا۔ ہفتے کی صبح ریلوے پولیس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ میں خواجہ سعد رفیق بھی اسی پر عمل پیرا تھے۔ اُنہوں نے مسلم لیگ(ن) اور میاں صاحب کے خلاف جناب زرداری کے بیانات پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیاتھا۔ ایم کیو ایم کے استعفوں کے حوالے سے حکومتی پالیسی کے متعلق اِن کا کہنا تھا، یہ وہی ہے جو پی ٹی آئی کے استعفوں کے سلسلے میں تھی کہ عوام کے ووٹ لے کر آنے والے ایجی ٹیشنل پالیٹکس کی بجائے پارلیمانی سیاست کریں کہ ملک کو درپیش سنگین داخلی و خارجی مسائل کا تقاضا بھی یہی ہے۔ اہلِ کراچی کے مینڈیٹ کو تسلیم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے، انہوں نے ایم کیو ایم پر اپنی صفوں کو کریمنلز سے پاک کرنے پر بھی زور دیا۔ اخبار نویسوں سے گفتگو کا آغاز سعد رفیق کے حلقہ(125) کے متعلق سوال سے ہوا تھا۔ وہ بیرونِ ملک تھے جب لاہور کے حلقہ 122اور لودھراں کے حلقہ 154میں ایاز صادق اور صدیق بلوچ کے انتخاب کو کالعدم قرار دیتے ہوئے الیکشن ٹریبونلز نے یہاں از سرِ نو انتخاب کا حکم دے دیا تھا۔ (122میں عمران خان اور 154 میں جہانگیر ترین پٹیشنر تھے)۔
مسلم لیگ(ن) نے اس کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی بجائے ضمنی انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا۔ اس سے پہلے ٹریبونل نے سعد رفیق کے حلقہ 125 میں بھی از سرنو انتخاب کا حکم دیا تھا۔ سعد اس چیلنج کو قبول کرنے پر مصر تھے لیکن مسلم لیگ(ن) کی قیادت نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا کہ ٹریبونل نے اس الیکشن کو کسی دھونس، دھاندلی کی بنیاد پر نہیں، پولنگ عملے کی طرف سے ہونے والی ’’بے قاعدگیوں‘‘ اور’’بے ضابطگیوں ‘‘ پر کالعدم قرار دیا تھا۔ یہ ایک دلچسپ صورتِ حال تھی کہ الیکشن ٹریبونل نے پٹیشنر حامد خاں کے تمام الزامات کو مسترد کردیا تھااور بے قاعدگیوں اور بے ضابطگیوں کو بھی ٹریبونل نے پولنگ اسٹاف کی بدنیتی کی بجائے اس کی نااہلی کا نتیجہ قرار دیا تھا اور مناسب تربیت کے فقدان کو اس کا سبب ٹھہرایا تھا۔
ایاز صادق کے حلقہ 122 کا معاملہ بھی ایسا ہی تھا۔ ووٹرزکے انگوٹھوںکا ناقابل شناخت ہونا(ناقص سیاسی اور شناخت میں تاخیر کو اس کاسبب قرار دیا گیا تھا) کاؤنٹر فائلز کے پیچھے دستخط یا مہر کانہ ہونا ، شناختی کارڈز کے نمبروںمیں ایک آدھ ’’عدد‘‘ کی غلطی یا کمی بیشی وغیرہ لیکن اس سب کچھ سے الیکشن کے اصل نتیجے پر کوئی اثر نہیں پڑتاکہ ان بے ضابطگیوں کے سواا لیکشن کاسارا عمل صاف شفاف تھا۔ اُمیدواروں کے ایجنٹوں کی موجودگی میں ، پولنگ کی ساری ایکسرسائز، ان کی طرف سے ووٹر کی شناخت (اور تصدیق) کے بعد بیلٹ پیپر کا اجراء، پولنگ کے اختتام کے بعد ان کے سامنے گنتی ، نتیجے کی تیاری ، الیکشن کمیشن کے فارم پر اس رزلٹ کی ایجنٹوں کو فراہمی اور پھرتمام پولنگ سٹیشنوں سے موصولہ انہی نتائج کے مطابق ریٹرننگ افسر کی طرف سے نتیجے کا اعلان۔ اگر یہ سارا عمل درست ہے تو کیا محض بے ضابطگیوں کی بنیاد پر اس انتخاب کو کالعدم قرار دیا جاسکتا ہے؟ اس حوالے سے اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے موجود ہیں لیکن مسلم لیگ(ن) نے ایک بار پھر ملک کی اعلیٰ ترین عدالت سے رجوع کا فیصلہ کیاتھا۔
حلقہ 125کے متعلق سعد رفیق کی پٹیشن سپریم کورٹ میں زیرسماعت ہے۔ مسلم لیگ نے 122اور 154 میں ضمنی انتخاب میں جانے کا فیصلہ کیا تو 125کے متعلق بھی سوال پیدا ہوا لیکن یہاں وہی دلیل آڑے آگئی جو سپریم کورٹ میں پٹیشن کا سبب بنی تھی۔ اخبار نویسوں کے سوال کے جواب میں سعد رفیق اسی کا اعادہ کررہے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس نوع کی بے قاعدگیاں اور بے ضابطگیاں تو کم و بیش تمام حلقوں میں موجود ہوں گی۔ راولپنڈی کے حلقہ 56میں (جہاں سے عمران خان جیتے) حنیف عباسی تھیلے کھلواتے تو یہی سب کچھ وہاں بھی سامنے آجاتا۔ فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) کی رپورٹ میں اس حلقے میں ایسی 58بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی تھی ۔ واضح رہے کہ اس حلقے میں عمران کی فتح کا مارجن صرف13ہزار ووٹ کا تھا۔ یہاں صوبائی اسمبلی کے حلقہ 14میں تحریکِ انصاف کے مقابلے میں مسلم لیگی اُمیدوار 4ہزار ووٹوں کی لیڈ سے جیتا جبکہ صوبائی اسمبلی کے دوسرے حلقے میں مسلم لیگ کو صرف تین ہزار ووٹوں سے شکست ہوئی تھی۔عمران خان (اور ان کے رفقا) پروپیگنڈے کا طوفان اُٹھائے ہوئے ہیںکہ انہوںنے صرف 4حلقوں کو کھولنے کا مطالبہ کیا تھا جن میں سے 3کا فیصلہ اِن کے حق میں آگیا(یہاں تحریکِ انصاف کو فاتح قرار نہیں دیا گیا بلکہ از سرنو انتخاب کا حکم دیا گیا ہے)لیکن حقیقت یہ ہے کہ تحریک انصاف نے قومی وصوبائی اسمبلیوں کی 61 نشستوں کے نتائج الیکشن ٹریبونلز میں چیلنج کئے تھے ۔ حلقہ 122 کا فیصلہ دینے والے جسٹس (ر) کاظم ملک کے بقول ، وہ 30پٹیشنوں کا فیصلہ مسلم لیگ(ن) کے حق میں دے چکے ہیں۔ لبنیٰ ظہیر گزشتہ دِنوں یہ یاد دہانی بھی کراچکیں کہ تحریکِ انصاف نے قومی اسمبلی کی 40نشستوں پر اُمیدوار ہی کھڑے نہیں کئے تھے اور باقی حلقوں میں سے 93میں اس کے اُمیدواروں کی ضمانت ضبط ہوگئی تھی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں