آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل4؍ربیع الاوّل 1440ھ13؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
قیام پاکستان کے لئے جدوجہد کرنے والوں کا بنیادی مقصد ایک ایسی ریاست حاصل کرنا تھا۔جس میں نہ صرف مظلوم کو ظالم کے ظلم سے نجات ملے بلکہ انصاف اور بنیادی زندگی کے حقوق ہر کسی کو اسی طرح میسرہوں جس طرح ریاست مدینہ میں میسر تھے ۔ افسوس کہ ایک طویل عرصہ گزرنے کے بعد بھی قیام پاکستان کے مقاصد حاصل نہ کئےجا سکے اور آج بھی یہاں پر ظالم طاقتور اور مظلوم کمزور اور انصاف کا حصول مشکل ہی نہیں نا ممکن بنا ہوا ہے اور اگر گزشتہ پندرہ سالوں کو دیکھیں تو غربت ، افلاس ، جہالت ، لاقانونیت اور دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ دہشت گردی اور انتہاپسندی کے عفریت نے بھی اس وطن کو گھیر رکھا ہے۔دہشت گردی اور انتہا پسندی کو پروان چڑھانے والی قوتوں نے پاکستانیوں کا پاکستان سے رشتہ بھی کمزور کرنے کی تدبیریں اور کوششیں کیں اور ایسا لگنے لگا کہ پاکستان کا مذہبی طبقہ بالخصوص مدارس عربیہ کے طلباء ، اساتذہ اور محراب و منبر کے وارثوں کا پاکستان سے محبت کا جذبہ کمزور ہو رہا ہے ۔حالانکہ حقیقت میں معاملہ ایسا نہیں تھا اور نہ ہے۔ پاکستان علماء کونسل اور اس سے متصل تنظیموں وفاق المساجد پاکستان (رجسٹرڈ) ، تحفظ مدارس دینیہ (رجسٹرڈ) اور علم و امن فائونڈیشن نے یکم اگست سے 31 اگست تک مدارس عربیہ کے طلباء ، اساتذہ ، آئمہ، خطباء کے ساتھ مل کر ’’ندائے

پاکستان امن و سلامتی سب کے لئے ‘‘ کے نعرے کے ساتھ ملک بھر میں مدارس اور مساجد میں تقریبات کا اہتمام کرنے کا فیصلہ کیا۔ان تقریبات میں معاشرے کے تمام طبقات کو اور تمام مذاہب اور مکاتب فکر کے قائدین کو ضلعی سطح سے لے کر مرکزی سطح تک مدعو کیا گیااور قیام پاکستان کے اسباب کے ساتھ ساتھ پاکستان کے موجودہ حالات کے تناظرمیں اس بات کو واضح کیاگیا کہ نظریہ پاکستان قطعی طور پر اس چیز کا نام نہیں ہے کہ اسلام اور پاکستان کا نام لے کر اپنی سوچ اور فکر کو دوسروں پر مسلط کر دیا جائے ۔نظریہ پاکستان انسانیت سے پیار، مظلوموں کی دادرسی کرنا ، محروم طبقوں کو ان کے حقوق دینے کا نام ہے ۔یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ مدارس عربیہ میں فکر کے حوالے سے ایک مربوط اور منظم کوشش کی ضرورت ہے اور مدارس کے طلباء ، آئمہ اور خطباء اور اسلام سے محبت رکھنے والے نوجوانوں میں یہ شعور پیداکرنے کی ضرورت ہے کہ وطن کی محبت اور وطن سے پیار اسلامی تعلیمات کے ہر گز برعکس نہیں ہے ۔بطور مسلمان اور انسان ہمیں دنیا کے کسی بھی خطے پر مسلمانوں اور انسانوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر آواز اٹھانے کا حق حاصل ہے اور یہ بطور انسان اور مسلمان ہماری ذمہ داری بھی ہے کہ خیر کو خیر کہیں اور شر کو شر، لیکن جس ارض پاک پر ہم رہتے ہیں اس کی سلامتی ، اس کا دفاع اور اس میں رہنے والے اپنے ہم وطنوں کا تحفظ بھی ہماری ذمہ داری ہے ۔دنیا میں کسی بھی ملک میں اس وقت شریعت اسلامیہ کا نفاذ نہیں ہے ، سعودی عرب اور بعض دیگر ممالک میں حدود اللہ کا نفاذ ہے لیکن کوئی بھی شخص اس بنیاد پر کہ وہ مسلمان ہے کسی بھی اسلامی ملک میں داخل نہیں ہو سکتا جب تک وہ اس ملک کا ویزہ نہ لے اور اس ملک کے قوانین کے احترام کا عہد نہ کرے۔ حقیقی طور پر خطہ ارض پر جغرافیائی سرحدوں نے موجودہ حالات میں بہت سے فسادات کو روک رکھا ہے اور اسی لئے جب کوئی بھی شخص کسی بھی ملک کی شہریت اختیار کرتا ہے تو وہ اس ملک کے قوانین کے احترام کا بھی حلف اٹھاتا ہے اور وعدہ کرتا ہے کہ وہ کوئی ایسا عمل نہیں کرے گا جس سے اس ملک کے قوانین کی خلاف ورزی ہو ۔مکہ مکرمہ کی محبت رسول اللہ ؐ کے دل میں ہمیشہ رہی اور اسی بنیاد پر وطن کی محبت کو ایمان کا حصہ قرار دیا گیا ہے ۔ یوم پاکستان کے حوالے سے مدارس اور مساجد سے وطن کی محبت کا پیغام اس بات کا واضح اظہار ہے کہ پاکستان کا دینی طبقہ کسی بھی صورت وطن کی محبت اور دفاع سے غافل نہیں ہے ۔14اگست کو پاکستان علماء کونسل کی اپیل پر ملک کے تمام مدارس اور مساجد پر پاکستان کا قومی پرچم لہرایا گیا اور یہ درست ہے کہ یہ منظر ایک طویل عرصے کے بعد دیکھا گیا لیکن یہ بات بھی درست ہے کہ یہ شعور اور احساس پیدا کیا گیا کہ پاکستان کے دیگر طبقوں کی طرح مدارس اور مساجد کے ذمہ داران کو یوم پاکستان ہو یا یوم دفاع پاکستان اپنی محبتوں کو عوام الناس کے سامنے لانا چاہئے تو پھر یوم پاکستان اور یوم دفاع پاکستان مناتے ہوئے کسی بخل سے کام نہیں لیا گیا۔اسی تناظر میں یہ بات محسوس کی جا سکتی ہے کہ پاکستان کے مدارس کی اکثریت کا انتہاپسندی اور دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ہر مدرسہ اپنے مسائل اور معاملات کو خود حل کرنے کے لئے کوشاں رہتا ہے اور اسی سلسلے میں بعض اوقات مدارس کے ذمہ داران کا ایسی جماعتوں یا گروہوں سے تعلق قائم ہو جاتا ہے جو پاکستان کے اندر انتہا پسندی میں ملوث ہیں اور یہ تعداد انتہائی قلیل ہے ۔ یہ بات اطمینان بخش ہے کہ بعض مدارس کی تنظیموں کی طرف سے حکومت کو مدارس کے متعلق معلومات فراہم نہ کرنے کے اعلان کے باوجود صوبہ پنجاب میں سو فیصد ، صوبہ سندھ میں ستر فیصد ، خیبر پختونخوامیں ستر فیصد ، بلوچستان میں اسی فیصد سے زائد مدارس نے اپنی مکمل معلومات اور آڈٹ رپورٹیں بھی حکومت کے پاس جمع کروا دی ہیں اور یہ عمل اس بات کا واضح اظہارہے کہ مدارس کے ذمہ داران تعلیم کی خدمت کرنا چاہتے ہیں اور وہ کسی محاذ آرائی یا تصادم کی طرف نہیں جانا چاہتے۔انہوں نے بعض مقامات پر بلا جواز حکومتی اداروں کی طرف سے اختیار کئے گئے متشددانہ رویے کے باوجود حکومتی ذمہ داران اور اداروں کے ساتھ تعاون کیا جس کے بعد یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ پاکستان کے مدارس کے ذمہ داران پاکستان کی سلامتی اور استحکام کے معاملے میںہر قسم کا تعاون سلامتی کے اداروں کے ساتھ کر رہے ہیں اور کرنے کو تیار ہیں۔الحمد للہ یوم پاکستان سے یوم دفاع پاکستان تک پورے ملک کے اندر ہونے والے اجتماعات میں بیرونی اور اندرونی سازشوں کے خلاف پاک فوج کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔بھارتی جارحیت ہو یا افغانستان کے بعض ذمہ داران کے غیر ذمہ دارانہ بیانات ملک بھر میں ہونے والے اجتماعات میں سپہ سالار قوم جنرل راحیل شریف کے نام پیغامات میں کہا گیا کہ پاکستان کے مدارس کے طلباء ، آئمہ ، خطباء ، اساتذہ کسی بھی طرف سے پاکستان پر جارحیت کی صورت میں پاک فوج کے ساتھ ہوں گے۔ یوم دفاع کی تقریبات کے دوران ہی وزیر اعظم پاکستان نے مدارس کے حوالے سے بعض اقدامات پر غور و فکر کرنے کا اعلان کیا۔یہ بات اہم ہے کہ وزیر اعظم کسی بھی فیصلے سے پہلے مدارس اور مساجد اور پاکستان کی مذہبی تنظیموں کی قیادت کے ساتھ مشاورت کے سلسلے کو جاری رکھیں ۔ صرف چند اداروں یا افراد کی بجائے جو بھی اقدامات اٹھائے جائیں ان میں قومی اتفاق رائے نظر آنا چاہئے ، اگرچہ وزارت مذہبی امور اور وزارت داخلہ کے بعض اقدامات سے قومی ایکشن پلان جسے وطن عزیز کے تمام طبقوں کی متفقہ حمایت حاصل ہے کو بھی بعض متنازع امور کی طرف لے جانے کی کوشش سمجھا جا رہا ہے۔ امید کی جا سکتی ہے کہ وزیر اعظم پاکستان اور چیف آف آرمی ا سٹاف قومی ایکشن پلان پرا تفاق رائے کو مزید موثر اور مضبوط بنانے کے لئے مزیداقدامات کریں گے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں