آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
’’لندن میں مقیم خان آف قلات سمیت ’’ناراض بلوچوں ‘‘سے مذاکرات درست سمت میں، درست اقدام ہے لیکن یہ اتنا آسان نہیں، ایک Tricky کھیل ہے‘‘۔ قدرے توقف کے بعد اُنہوں نے بات کو آگے بڑھایا، ’’وہ تھک بھی گئے ہیں۔‘‘ اور پھر ایک لطیفہ، ’’ایک ضدی بچی چیخ پکار کئے جارہی تھی۔ باپ نے چُپ کرانے کیلئے سو، سو جتن کئے۔ ماں نے بھی سو طرح کے لالچ دیئے لیکن صاحبزادی تھی کہ زبان منہ میںڈالنے کیلئے آمادہ نہ ہوئی اور پھر خود ہی خاموش ہوگئی۔ دادی نے کہا، تیرے باپ اور ماں نے تجھے منانے کیلئے کیا کچھ نہ کیا، لیکن تو مان کے نہ دی، اب خود ہی چُپ ہو گئی ہے‘‘۔’’نہیں، دادی، میں چُپ نہیں ہوئی، تھک گئی ہوں۔ ذرا سانس لے لوں، پھر شروع ہوجاؤں گی‘‘۔ یہ جناب الطاف حسن قریشی کے ہاں ڈنر پر نواب غوث بخش باروزئی کے ساتھ بے تکلف گپ شپ تھی۔ غوث بخش کا تعلق بلوچستان کے معروف سیاسی خانوادے سے ہے۔ اِنکے والد نواب محمد خاں باروزئی (مرحوم) بھٹو صاحب کے دور میں بلوچستان کے اسپیکر اور وزیراعلیٰ رہے۔ ’’خدا یار‘‘ جو بعد میں غوث بخش ہوگئے، نواب صاحب کوا پنی اولاد میں سب سے چہیتے تھے، ہونہار برواکے چکنے چکنے پات۔ ڈاؤمیڈیکل کالج کراچی سے ایم بی بی ایس کے بعد انہوں نے 22سال محکمہ صحت میں ملازمت کی اور پھر والد کے سیاسی جانشین ہوگئے کہ انکی

قسمت میں تاریخ کے نازک موڑ پر نہایت اہم کام لکھا تھا۔ 11مئی 2013ءکے عام انتخابات کا انعقاد، بلوچستان میں بلاشبہ ایک سنگین چیلنج تھا۔ تب پاکستان کے حساس ترین صوبے میں نگران وزیراعلیٰ کے طور یہ ذمہ داری غوث بخش باروزئی کے سپرد ہوئی۔پاکستان کے باغی، بلوچ عسکریت پسند بلوچستان میں انتخابات کے انعقاد کو اپنے مقاصد کیلئے نقصان دہ سمجھتے تھے کہ منتخب قیادت کے ذریعے بلوچوں کی شکایات کے ازالے کا راستہ کھلے گا، چنانچہ بلوچستان میں انتخابات کو سبوتاژ کرنا ان کی اہم ترین ترجیح تھا۔ یہ اپریل (2013) کا تیسرا ہفتہ تھا، جب الطاف صاحب کے ’’پائنا‘‘ نے لاہور کے کچھ صحافی دوستوں کے ساتھ کوئٹہ کے دورے کا پروگرام بنایا۔ یہ قصۂ زمین برسرِ زمین والی بات تھی، حالات کے بچشمِ خود مشاہدے کا اہتمام۔ بلوچ عسکریت پسندوں نے انتخابات کے انعقاد کو ناممکن بنانے کیلئے سر دھڑ کی بازی لگادی تھی اور ان میں حصہ لینا سر ہتھیلی پر رکھ کر میدان میں اُترنے والی بات تھی۔ اُنہی دِنوں مسلم لیگ(ن) بلوچستان کے صدر سردار ثناء اللہ زہری اپنی انتخابی مہم کے دوران بال بال بچے، ان کا بھائی ، بیٹا اور بھتیجا اس حملے میں جاں بحق ہوگئے تھے۔ پنجاب سے بارہ، تیرہ سینئر صحافیوں کے قافلے کی کوئٹہ روانگی، بلاشبہ شہادت گہہ الفت میں قدم رکھنے والی بات تھی۔ ایک محبت کرنے والے دوست نے تو یہاں تک کہہ دیا ، میری دُعا ہوگی تم لوگوں کی واپسی تک کوئٹہ سے کوئی ’’بریکنگ نیوز‘‘ نہ آئے۔ کوئٹہ میں مختلف سیاسی جماعتوں کی قیادت سے گفتگو رہی۔ کوئٹہ پریس کلب میں شام کی چائے پر اخبار نویس بھائیوں کا نقطۂ نظر جاننے کا موقع ملا ۔ سدرن کمانڈ کے سربراہ پنڈی میں اہم مصروفیات کے باعث کوئٹہ میں نہیں تھے۔ انکی عدم موجودگی میں میجر جنرل عبداللہ، میجر جنرل مظہر سلیم اور میجر جنرل نصیر سے گفتگو ہوئی۔ کوئٹہ میں آخری شب نگران وزیراعلیٰ غوث بخش باروزئی کیساتھ عشائیہ تھا۔ بلوچوں کی روایتی مہمانداری کیساتھ یہ ایک بے تکلف نشست تھی۔ ہر جگہ یہ احساس موجود تھا کہ بلوچستان میں الیکشن کاانعقاد اور اس میں شرکت کیلئے فرہاد کا سا عزم چاہئے کہ یہ پہاڑ سے جوئے شیر نکال لانے سے کم نہ تھا۔ ہمارے ’’مہربان پڑوسی‘‘ نے بھی عسکریت پسندوں کیلئے ہتھیاروں کی نئی کھیپ کے علاوہ پیسے کی بوریوں کے منہ بھی کھول دیئے تھے۔
بلوچستان کے مخصوص حالات کے پیش نظر یہاں مرحلہ وار انتخابات کی تجویز بھی آئی،(یوں نگران وزیراعلیٰ کی مدت بھی طویل ہوجاتی)لیکن اس کی سب سے زیادہ مخالفت خود ان کی طرف سے ہوئی کہ یہ ایک طرح سے نفسیاتی پسپائی کا اظہار ہوتا جس سے عسکریت پسندوں کے حوصلے بڑھ جاتے۔ غوث بخش باروزئی کا کہنا تھا اس سے بحث نہیں کہ کس حلقے میں کتنے ووٹ پڑے، اصل چیز الیکشن کا انعقاد تھا اور عسکریت پسندوں کی تمام تر دھمکیوں اور دہشت انگیز کارروائیوں کے باوجود یہ ’’معجزہ ‘‘ ہوگیا۔
انتخابی نتائج کے مطابق مسلم لیگ(ن) پہلے، پشتون قوم پرست محمود خاں اچکزئی کی پختونخوا ملی عوامی پارٹی دوسرے اور بلوچ قوم پرست ڈاکٹر مالک کی نیشنل پارٹی تیسرے نمبر پر تھی۔ سنگل لارجسٹ پارٹی کی حیثیت سے حکومت سازی مسلم لیگ(ن) کا حق تھا اور وہ حکومت بنانے کی پوزیشن میں تھی لیکن نوازشریف نے قومی مفاد کو جماعتی مفاد پر ترجیح دی اور وزارتِ اعلیٰ بلوچ قوم پرستوں کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا۔ (اس پر مسلم لیگیوں کو آمادہ کرنا کوئی آسان کام نہ تھا)۔ غوث بخش باروزئی کے بقول، خود اُن کا آئیڈیا بھی یہی تھا اور یہ حکمتِ عملی بے ثمر نہیں رہی۔ آج کا بلوچستان مئی 2013ءسے پہلے کے بلوچستان سے مختلف ہے تو اس کا کریڈٹ سیاسی و عسکری قیادت ، دونوں کو جاتا ہے۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف 6ستمبر کی شب جی ایچ کیو میں منعقدہ تقریب میں اسی حقیقت کا اظہار کر رہے تھے، ’’کراچی اور بلوچستان میں سول، ملٹری کوششوں سے امن قائم کرنے میں کامیابی ہوئی۔‘‘ بلوچستان میں امن کیلئے ، ’’5سے 15لاکھ روپے‘‘ کا پیکج بھی اچھا آئیڈیا ہے لیکن غوث بخش باروزئی کی یہ بات بھی توجہ طلب ہے کہ یہ پیکج سرداروں اور نوابوں کی روایتی جلبِ زر کا ذریعہ نہ بن جائے۔
1970ءکی دہائی کے تین، چار بلوچ قوم پرست لیڈروں میں اب صرف سردار عطا اللہ مینگل حیات ہیں۔ ان کا ایک بیٹا جاوید مینگل ’’ناراض بلوچوں‘‘ کے ایک گروہ کا سرغنہ ہے۔ جناب عطا اللہ مینگل اب سیاست میں سرگرم نہیں، اختر مینگل انکے سیاسی جانشین ہیں۔ میاں صاحب کے دوسرے دور میں مسلم لیگ کی حمایت کے ساتھ وہ بلوچستان کے وزیراعلیٰ بھی رہے۔ بڑے مینگل صاحب کو ’’پاکستان‘‘ سے بہت سی شکایات ہیں لیکن بلوچستان کے علیحدگی پسندوں سے اب بھی ان کا کہنا ہے ، پاکستان سے ’’آزادی‘‘ کے بعد اس سے بھی بڑی مصیبت میں پھنس جاؤ گے‘‘(یہ بلوچستان پر ہوسناک نظریں جمائی ہوئی عالمی طاقتوں کی طرف اشارہ ہے)۔ یاد آیا، بلوچستان میں بھٹو صاحب کے ہاتھوں ، اپنی حکومت کی برطرفی کے بعد سردار عطااللہ مینگل لاہور آئے تو یہاں اہلِ لاہور سے اپنے خطاب میں اُن کا کہنا تھا، خدانخواستہ پاکستان ٹوٹ گیا، تو ہم بلوچستان کا نام پاکستان رکھ دینگے۔
مئی2013ء کے الیکشن کے بعد ہونیوالی انڈر اسٹینڈنگ کے مطابق ڈاکٹر مالک کی حکومت کے ڈھائی سال پورے ہونے کو ہیں جس کے بعد مسلم لیگ (ن) کی باری ہے لیکن غوث بخش باروزئی کے خیال میںڈرائیونگ سیٹ پر بلوچ قوم پرست کی موجودگی سے پُرامن بلوچستان کی طرف سفر آسان ہورہا ہے تو باقی ماندہ ڈھائی سال بھی انہی کو دینے میں کوئی حرج نہیں۔ نواب غوث بخش اِن دِنوں ، اپنی نگران وزارتِ اعلیٰ کے 2ماہ 18دِنوں کی کہانی لکھنے میں مصروف ہیں لیکن ظاہر ہے، اس میں کچھ ذکر سیاسی پس منظر کا بھی ہوگا اور اس پس پردہ کہانی کا اپنالطف ہوگا۔ اپنی سیاسی وابستگی کے بارے میں ان کا کہنا تھا، اِن دِنوں تو وہ سیاسی کنوارے ہیں۔یہاں اُنہوں نے ایک دلچسپ واقعہ بھی سُنایا ۔ اکبر بگٹی (مرحوم) خود کو سیاسی کنوارا کہا کرتے تھے۔ 1970ءکی دہائی میں انہوں نے ایئرمارشل اصغر خاں کی تحریکِ استقلال میں شمولیت اختیار کر لی۔ اس پر مرحوم محمد خاں باروزئی نے ہنستے ہوئے کہا: اکبر خاں نے اپنا سیاسی کنوار پن برباد کر لیا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں