آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل11؍ربیع الاوّل 1440ھ20؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
16دسمبر 2014ءکے سانحہ آرمی پبلک اسکول کے بعد، پشاور ایک بار پھر دہشت گردی کا نشانہ بنا، اس بار بڈھ بیر کا ایئر بیس ہدف تھا۔ مسجد میں موجود 16نمازیوں سمیت 29افراد شہادت کے منصبِ جلیلہ پر فائز ہوگئے۔ ان میں جواں سال اور جواں ہمت ، کیپٹن اسفند یار بخاری بھی تھے۔ وزیراعظم نوازشریف ، آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور ایئر چیف سہیل امان پشاور پہنچے، شہدا کی نمازِ جنازہ میں شرکت اور اسپتال میں زخمیوں کی عیادت کی۔ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک بھی اِن کے ہمراہ تھے۔ یہ سانحہ ساری قوم کو ایک بار پھر سوگوار کرگیا تھا۔ اگلے روز بھی شہیدوں کا تذکرہ تھا۔’’ کفن میلا ہونا‘‘ تو بعد کی بات ہے، ابھی توشہداکے آبائی علاقوں میں تدفین کا مرحلہ تھا۔ شہیدوں کو تو ویسے بھی کفن نہیں دیا جاتا، اِن کا خون آلود لباس ہی اِن کا کفن ہوتا ہے اور اسی شانِ دلربا کے ساتھ وہ اپنے رب کے حضور حاضر ہوجاتے ہیں۔ ؎
یہی داغ تھے جو سجا کے ہم سرِ بزم یار چلے گئے
شہداء کے ورثا نے کس ہمت کے ساتھ اپنے پیاروں کی شہادت کی خبر سنی تھی، اُن کے عزم و حوصلے کی کہانیاں کتنی دلگداز تھیں ۔ میڈیا میںایک تصویر نے تو ایک بار پھر ہر حساس شخص کی دُنیائے دِل کو زیر و زبر کردیا تھا۔ کیپٹن اسفندکا والد اپنے شہید بیٹے کی وردی اور قومی پرچم وصول کر رہا تھا۔ چند

ہفتے بعد 28سالہ کیپٹن کو دُلہا بننا تھا۔
عمران خان شہدا کی نمازِ جنازہ میں شرکت(اور زخمیوں کی عیادت) کے لیے پشاور نہیں پہنچ سکے تھے لیکن اتنا تو کرسکتے تھے کہ ایک آدھ دِن سیاست بازی سے گریز کرلیتے۔ قومی قیادت کے دعویدارلیڈر سے اس قومی سانحہ پر اتنی سی وضعداری کی توقع کچھ ایسی بے جاتو نہیں تھی۔ انہیں یاد ہوگا ، گیارہ مئی 2013کے عام انتخابات سے تین چار دِن قبل ان کے زخمی ہونے کی اطلاع پاتے ہی، میاں نوازشریف نے، (جن کے ساتھ سیاسی مخالفت کو، وہ دُشمنی کی حد تک لے گئے تھے)اگلے روز ملک بھر میں مسلم لیگ(ن) کی انتخابی مہم معطل کردی تھی۔
عمران خان کو حلقہ 122 کے ضمنی انتخاب کی صورت میں ایک سخت چیلنج درپیش ہے۔ الیکشن ٹریبونل نے ایاز صادق کے انتخاب کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ازسرِ نو انتخاب کا حکم دیا تو اس کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کے لئے ٹھوس بنیاد موجود تھی لیکن ایازصادق نے ’’اسٹے آرڈر کے پیچھے چھپنے‘‘ کا طعنہ سننے کی بجائے، الیکشن لڑنے کا (عمران کا چیلنج ) قبول کر لیا جو ایاز سے زیادہ خود عمران کے لئے سنگین مسئلہ بن گیا ہے۔ عمران اس حلقے سے دو بار ایاز صادق کے ہاتھوں شکست کھا چکے۔ 2002 کے عام انتخابات میں، جب ڈکٹیٹر کے لیے لاہور میں’’شیر‘‘ کے کسی اُمیدوار کی کامیابی ناقابلِ برداشت تھی۔ عمران خان کے مقابلے میں، ایاز کو 19ہزار ووٹوں کی سبقت حاصل ہوئی۔ مئی 2013 میں ایاز کی فتح کا مارجن 9ہزار کے لگ بھگ تھا۔ اب 11اکتوبر کو یہاں ضمنی الیکشن ہونا ہے تو عمران خاں کا اندازِ کلام اور طرزِ عمل کیا ان کے داخلی خوف کا ترجمان ہے؟ عمران خاں(اور ان کی تحریکِ انصاف) کی انتخابی پسپائی کا آغاز یوں تو مئی 2013 کے عام انتخابات کے فوراً بعد ہی ہوگیا تھا، جب میانوالی اور پشاور میں عمران خاں کی جیتی ہوئی دونوں نشستیں ضمنی انتخاب میں تحریکِ انصاف کے ہاتھ سے نکل گئیں ۔ خیبر پختونخوا میں تو تحریکِ انصاف کی حکومت بھی بن چکی تھی۔ گزشتہ سال کی دھرنا بغاوت کے بعد پسپائی کا یہ عمل تیز تر ہوگیا جب تحریکِ انصاف چھ کے چھ ضمنی انتخاب ہار گئی، کچھ اس شان سے کہ اب مسلم لیگ(ن) کی فتح کا مارجن عام انتخابات سے آٹھ، نو گُنا تک تھا۔ اس حوالے سے تازہ ترین صدمہ ہری پور کا تھا، جب عمران کے اپنے صوبے میں اُن کا اُمیدوار 47ہزار کے مارجن سے ہار گیا، عام انتخابات میں یہاں مسلم لیگ(ن) کے ٹکٹ پر عمرایوب صرف6سو ووٹوں سے جیتے تھے۔ ضمنی انتخابات کے یہ تندوتلخ تجربات ہی کیا کم تھے کہ لاہور کے حلقہ 122کے ضمنی انتخاب کے حوالے سے ’’گیلپ‘‘ اور’’ پلس کنسلٹنٹ‘‘کی سروے رپورٹس تحریکِ انصاف کے لئے مزید پریشانی کا باعث بن گئیں، رائے عامہ کا جائزہ لینے والے اِن دونوں اِداروں کی ساکھ اور اعتبار عالمی سطح پر بھی مسلمہ ہے۔ ’’گیلپ‘‘ کی سروے رپورٹ کے مطابق یہاں 51فیصد ووٹرنے ایاز صادق کے حق میں جبکہ 36فیصد نے علیم خاں کی حمایت میں رائے دی۔ پلس کنسلٹنٹ کی رپورٹ میں یہاں علیم خاں کی حمایت 36فیصد اور ایاز صادق کی تائید 57فیصد بتائی گئی ہے۔ الیکشن میں ابھی 20دِن باقی ہیں، بینرز اور انتخابی دفاتر کی شان و شوکت کے لحاظ سے علیم خاں آگے ہیں، کہ ’’پیسہ بہت ہے‘‘ لیکن حد سے بڑھی ہوئی نمائش منفی ردعمل کو بھی جنم دیتی ہے۔ اِدھر عمران خاں دھمکیوں پر اُترآئے ہیں۔ وہی گزشتہ سال دھرنے کے دِنوں والا اسٹائل ، تب وہ پولیس کو دھمکاتے تھے، کسی پولیس والے نے میرے کارکن کے ساتھ زیادتی کی تو میں اسے اپنے ہاتھ سے پھانسی دوں گا۔ کنٹینر پر ہوم سیکرٹری کے علاوہ اسلام آباد پولیس کے افسران کا نام لے لے کر دھمکاتے رہے کہ وہ اِن سب سے نمٹ لیں گے۔ اب حلقہ 122 کے ضمنی انتخاب کے حوالے سے اپنے ٹائیگرز سے اِن کا کہنا ہے کہ اپنی جیبوں میں خفیہ کیمرے رکھیں اور دھاندلی کرنے والے پولیس اہل کاروں کی تصویریں بنا کر مجھے بھجوائیں۔ میں انہیں چھوڑوں گا نہیں‘‘۔ تصویروں کی بابت تحریکِ انصاف کا معاملہ دلچسپ ہے۔ مئی 2013کے انتخابات کے بعد محترمہ شیریں مزاری نے خواتین کے ایک پولنگ اسٹیشن پر، ایک رینجرز اہلکار کی تصویر جاری کی، اِن کے بقول یہ سعد رفیق کے حلقہ 125 کا پولنگ اسٹیشن تھا لیکن اِن کا دھیان اس طرف نہ گیا کہ یہ سندھ رینجر کی وردی پہنچے ہوئے اہلکار کا لاہور میں کیا کام ؟ حال ہی میں ایک تصویر دلچسپی کا باعث بنی ۔ تحریکِ انصاف نے یہ تصویر اس دعوے کے ساتھ جاری کی تھی کہ (سفید کپڑوں میں ملبوس) لاہور پولیس کے افسران تحریکِ انصاف کے بلدیاتی اُمیدواروں کو الیکشن سے دستبرداری پر آمادہ کر رہے ہیںحالانکہ دو، ڈھائی ماہ پہلے کی یہ تصویر دیرینہ دُشمنی کے حامل دو گروہوں میں صلح صفائی کی تھی۔ حلقہ 122کا الیکشن فوج کی نگرانی میں کرانے کے مطالبے کے ساتھ عمران خاں نے یہاں بھرپور انتخابی مہم چلانے کا اعلان بھی کیاہے۔ اُن کے لئے یہ بات ناقابلِ فہم ہے کہ الیکشن کمیشن نے انتخابی مہم میں ان کے حصہ لینے پر پابندی کیوں لگائی؟ لیکن یہ پابندی خاص اس حلقے کے لیے تو نہیں جیسا کہ برادرم طارق بٹ نے یاد دِلایاہے کہ یہ پابندی الیکشن کمیشن کے ضابطۂ اخلا ق میں موجود ہے، جو 28جنوری 2013کو تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد جاری کیا گیا تھا اور 2013کے عام انتخابات کے بعد ہونے والے تمام ضمنی انتخابات میں بھی یہ پابندی موجود تھی (اس کی رو سے الیکشن شیڈول کے اعلان کے بعد صدرِ مملکت، وزیراعظم، چیئرمین، ڈپٹی چیئرمین سینٹ، اسمبلیوں کے اسپیکر، گورنر، وزراء مملکت، وزرا اعلیٰ اور وزیراعظم کے مشیروں کے علاوہ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلی کے ارکان بھی کسی حلقے میں انتخابی مہم میں شریک نہیں ہوں گے) ۔عمران خاں بھی اسی پابندی کی زد میں ہیں۔ عمران خاں گزشتہ الیکشن میں اس حلقے سے خود اُمیدوار تھے، ان ہی کی پٹیشن پر الیکشن ٹربیونل نے یہاں ازسرِ نو انتخاب کا حکم دیا، تو کیا یہ مناسب نہ تھا کہ عمران ، راولپنڈی کی نشست سے مستعفی ہو کر خود یہاں سے ضمنی انتخاب میں حصہ لیتے اور جی بھر کر انتخابی مہم چلاتے لیکن اس میں کئی اندیشے تھے۔
تو اور آرائشِ خم کا کل
میں اور اندیشہ ہائے دور دراز

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں